آپ آف لائن ہیں
بدھ11؍ شوال المکرم 1441ھ3؍جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کورونا کی وبا پوری دنیا کو لپیٹ میں لے چُکی ہے اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ مرض تادمِ تحریرناقابلِ علاج ہے ۔کیسی عجیب بات ہے کہ امیر سے امیر شخص بھی اس بیماری کے علاج کے لیے بیرونِ مُلک نہیں جاسکتااور نہ ہی گھر والے، عزیز و اقارب، بیمار کی تیمار داری، عیادت کر سکتے ہیں۔ یہ ایسا خطر ناک عارضہ ہے کہ جس کا مداوا تنہائی اور بقا شہرکی ویرانی میں ہے ۔ دنیا بھر میں یہ وبا کیاعام ہوئی، وطنِ عزیز میں تو جیسے ’’واٹس ایپ ڈاکٹرز‘‘ کا سیلاب ہی اُمڈ آیا۔ 

جن لوگوں کاطب تو دور کی بات، سائنسی مضامین تک سے کوئی واسطہ نہ تھا، وہ بھی انتہائی وثوق سے کورونا کا علاج بتاتے نظر آرہے ہیں۔ ایسے موقعے پر بے چارے ڈاکٹرز سوائے اپنا سر پیٹنے کے اور کچھ نہیں کررہے۔ پورا مُلک ہی حقائق جانے بغیرٹوٹکوں، کرامتوں، پیاز، لہسن، ہلدی معجونوںاور دَم ، پھونکوں کے مباحث میں پڑا ہے ۔روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ’’ماہرین اور معالجین ‘‘ کا نزول جاری ہے، جن میں فیس بُکیے،یو ٹیوبیے ، انسٹا گرامیےاور واٹس ایپیے پیش پیش ہیں ۔ کوئی پِیروں، فقیروں کے ناخن چبانا بطور علاج تجویز کررہا ہے ،تو کوئی صبح سویرے چند سیکنڈز کے لیےسانس روکنے کی تجاویز پیش کر رہا ہے۔اب ’’معصوم عوام ‘‘کوکون سمجھائے کہ فی الحال کورونا کا علاج ، ’’احتیاط اور قرنطینہ ‘‘ہی ہے۔

ہر طرف ہُو کا عالم ہے ۔ایسا لگ رہا ہے، گویا ’’مدر نیچر‘‘ اپنے ساتھ ہوئی تمام زیادتیوں کا بدلہ لے رہی ہےکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اب انسان تو بند ہیں، لیکن چرند، پرند سب خوش ہیں۔ ویسے تاریخ بتاتی ہے کہ بنی نوع انسان ازل ہی سے ایسی آفات کا شکار رہا ہے ،ہر نئی بیماری کے علاج میں آٹھ، نو ماہ لگ جاتے ہیں۔ کچھ احباب کورونا کے لیے تحسین بھی رکھتے ہیںکہ لبرل ازم کے مارےلوگ (مرد و خواتین) نقاب کرنے پہ مجبورہو گئے ہیں۔اس سے قبل ڈینگی بھی عُریانی و فحاشی کے سیلاب کے آگے بند باندھ چکا ہے ۔ لہٰذااگر اسے قدرت کی جانب سے سُدھرنے کی ویک اَپ کال سمجھا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔فی الوقت، اقوامِ عالم ایک معمولی وائرس کے آگے بے بس نظر آرہی ہیںگویا ’’کورونیت کی فرعونیت ‘‘کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ یہ کرونک سچویشن نہ جانے انسانوں کوکہاں تک لے جائے گی ۔

میل جول ، بیمارپرسی ،شادی و مرگ ،اجتماعات،بازار ،خانقاہیں،تعلیمی ادارے اور پبلک مقامات بند ہیں ۔شنید ہے کہ درجۂ حرارت بڑھنےپر کورونا وائرس مر جاتا ہے ۔ویسے اپنے ہاں تو ہر وقت ہی مذہبی ،سیاسی اور سماجی درجۂ حرارت نقطۂ عروج پر رہتا ہے ، تواس اعتبار سے تو ہمارے مُلک میں کورونا پھیلنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ کورونا کی آمد سے سب ملکی و غیر ملکی معاملات سرد مہری کا شکار ہیں ۔ تاہم ،واضح رہے کہ یہ توبہ استغفار کا وقت ہے کہ اللہ نے ہم گناہ گاروں پر اپنے گھر کے دروازے تک بند کر دئیے ہیں، لیکن ہم اللہ کی رحمت سے نا اُمید، مایوس نہیں ہیں۔ 

اِن شاءاللہ بہت جلد کورونا پر بھی قابو پا لیا جائے گا۔مگر مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ ضرور ہے کہ ہم علم و تحقیق سے بہت دُور ہیں، ہم نے اپنے اسلاف کی تعلیمات کو بھلا دیا، ان کے دئیے گئے وَرثےکو آگے نہیں بڑھایااور اب یہودیوں کو برا بھلا کہنے کے با وجود اُن ہی پر نظر یںجمائے بیٹھے ہیں کہ وہ کوئی تحقیق کریں، تو کوئی ویکسین تیار ہو۔ بس اب اللہ سے دعا ہے کہ دنیا میں رواداری، اخوت ،علم و حکمت ، خلوص ،دیانت ،امانت کی وبا پھیل جائے اور کووڈ 19 کا جلد از جلد خاتمہ ہو جائے۔

سنڈے میگزین سے مزید