بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شپنگ کارپوریشن آف انڈیا کے زیرِ انتظام چلنے والے دو ایل پی جی بردار جہاز شیوالک اور نندا دیوی بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کرکے بھارت کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جہازوں کی محفوظ گزرگاہ ایک انتہائی محتاط سفارتی کارروائی کے بعد ممکن ہوئی جس میں ایران اور خطے کے دیگر ممالک کا تعاون شامل تھا۔
دونوں جہاز بڑی مقدار میں گیس اور ضروری سامان لے کر جا رہے ہیں جن میں شیوالک تقریباً چالیس ہزار میٹرک ٹن گیس لے جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت نے آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف پھنسے اپنے دو درجن سے زائد تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے مشرقِ وسطیٰ بحران کے آغاز کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی سے چار مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ کیا جبکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کی۔
بھارتی حکام کے مطابق ایک اور بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر جگ پرکاش بھی آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے سے روانہ ہو چکا ہے جو عمان سے افریقہ تک پیٹرول لے جا رہا ہے۔