آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انجم قدوائی

ایک بادشاہ تھا ۔اس کی سات لڑکیا ں تھیں ۔وہ ان ساتوں سے بیحد محبّت کرتا تھا اوران کے ہر آرام کا خیال رکھتا تھا ۔

ایک بارجب دستر خوان سجا ہوا تھا وہ سب گھر والے ساتھ کھانے کے لیے بیٹھےتو بادشاہ نے ا پنی بیٹیوں سے ایک سوال پوچھا ، کہ تم لوگ مجھے کتنا چاہتی ہو ۔

بڑی شہزادی نے کہا’’ با با! میں آپ کو گلاب جامن کی طرح چا ہتی ہوں‘‘ ۔بادشاہ نے خوش ہوکر اسُ کو چار گاؤں دے دیئے ۔

دوسری نے کہا’’ میں آپ کو بر فی کی طرح چاہتی ہوں‘‘ ۔بادشاہ نے اسُ کو کافی بڑا علاقہ بخش دے۔

تیسری بیٹی نے کہا’’ میں آپ کو امر تی کی طرح چاہتی ہوں ۔۔اسُ کو بھی بادشاہ نے بہت زمین جائیداد دے دی۔

اسی طرح وہ سب سے پوچھتا گیا اور سب کو مال ودولت ملتی رہی ۔ساتویں لڑکی سے جب بادشاہ نے پوچھا بیٹی تم مجھے کتنا چاہتی ہو تو اس نے بہت پیار سے کہا۔

’’ با با میں آپ کو نمک کے برا بر چاہتی ہوں ۔یہ سن کر بادشاہ کو جلال آگیا‘ ۔کہنے لگے ’’سب مجھے اتنا چاہتے ہیں تم نمک کے برا بر ؟؟‘‘ وہ بہت نا راض ہوئے اور چھوٹی بیٹی کو محل سے نکال دیا اور کہا اب کبھی یہاں قدم نہ رکھنا ۔

وہ جنگل کی طرف چلی گئی ۔ پتّوں اور لکڑیوں کو ملا کر ایک جھوپڑی بنا کر وہاں رہنے لگی ۔بھوک لگتی تو پھل کھا لیتی ،سوکھے پتّوں کا بستر بنا کر سو جاتی ۔ایک دن جب وہ سوکر اٹھی تو دیکھا کہ رنگ برنگی چڑیوں کے پر ہر طرف بکھرے پڑے ہیں اسُ نے ان پروں کو جمع کیا اور ایک چھوٹی سی پنکھیا بنالی ۔(چھوٹا پنکھا جو ہاتھ سے جھل سکتے ہیں ) وہ گرمی میں اسی پنکھیا سے ہوا کر لیتی تھی پھر دوسرے دن اسکو اور پر مل گئے اسُ نے بہت سارے پر اکٹھا کیئے اور کئی پنکھیا بنا لیں اور جنگل کےقریب سڑک کے پاس جاکر بیٹھ گئی اپنا چہرہ چادر سے ڈھانپ لیا۔لوگ آتے گئے اور پنکھیا ں خرید تے گئے اتنی خوب صورت پنکھیاں انھوں نے پہلےکبھی نہیں دیکھیں تھیں ۔اب تو بھیڑ سی لگی رہتی ۔

ایک بار ایک شہزادے کا ادھر سے گزر ہوا اس نے بھی اتنے خوبصورت پنکھے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اُس نے سارے خرید لیے،پھر شہزادی سے پوچھا تم کون ہو ۔

اسُ نے کوئی جواب نہیں دیا اس کے خوبصورت ہاتھ بتا رہے تھے کہ اسُ نے کبھی کام نہیں کیا ،پنکھیاں بنا نے میں اسُ کی انگلیاں زخمی تھیں ۔

شہزادہ اسُ کے پیچھے جنگل آگیا اور جب اس کو پتاچلا کی وہ شہزادی ہے اور سزا کاٹ رہی ہے تو بہت غمزدہ ہوا ۔

وہ اپنے ملک واپس گیا اور والدین سے سارا ماجرا کہہ سنا یا ۔ان لوگوں کو بھی دکھ ہوا۔وہ اپنے بیٹے کے ساتھ بارات لے کر آئے اور شہزادی سے شادی کرنے کا کہا ۔بہت سوچ بچار کے بعد وہ راضی ہوگئی۔دونوں کی شادی ہوگئی، مگر شہزادی اپنے والد کو بہت یاد کر تی رہتی تھی ۔

ایک دن اسُ نے شہزادے سے کہا کہ وہ اپنے والدین کی دعوت کر نا چاہتی ہے تاکہ ان سےمل لے۔

شہزادے نے فوری دعوت کا انتظام کیا اور بادشاہ کو دعوت دی۔

شہزادی نے چہزادے سے کہا،’’ سارا انتظام آپ دیکھئے، مگر اپنے والدین اور بہنوں کے لیےکھا نا میں خود تیار کروں گی ۔

سارے مہمان آگئے کئی دستر خوان ایک ساتھ لگے ۔ بادشاہ اور شہزادیوں کے لی محل کےے اندر انتظام کیا گیا ۔

وہ جب کھا نا کھانے بیٹھے تو ان کی بیٹی سامنے آکر بیٹھ گئی ۔اس نے نقاب پہن رکھا تھا ۔

جب بادشاہ نے پہلا نوالہ لیا تو کھانے میں نمک نہیں تھا ۔دوسری ڈش نکالی ۔۔وہ بھی بغیر نمک کے تھی، تب ان کو بہت غصّہ آیا کہ مجھے بلاُ کر بغیر نمک کا کھا نا کھلا یا گیا ۔تب چھوٹی شہزادی نے اپنی نقاب ہٹائی اور کہا ،’’با با ۔۔۔میں آپ کو نمک کے برا بر چاہتی ہوں ۔۔یہی کہا تھا ناں میں نے ۔نمک کے بغیر کسی چیز میں لذّت نہیں ہوتی ۔‘‘

بادشاہ چونک اٹھا ۔۔پھر اسُ نے آگے بڑھ کر بیٹی کو گلے لگا یا اوربیٹی سے معافی مانگی تو شہزادی نے کہا۔

’’کوئی بات نہیں بابا ۔۔اللہ تو سب کا ہے ۔آپ پر یشان نہ ہوں میں بہت خوش ہوں ۔‘‘

بہنوں نے بھی معافی مانگی اور گلے لگا یا ۔ شہزادی نے سب کو کھلےُ دل سے معاف کر دیا ،مگر ان سب کو احساس دلا دیا کہ وہ غلطی پر تھے ۔