آپ آف لائن ہیں
بدھ11؍ شوال المکرم 1441ھ3؍جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

برمنگھم اورمرسی سائیڈ موبائل فون کے مستول نذر آتش

لندن (پی اے) کورونا وائرس کے حوالے سے بے بنیاد دعوے کرنے کے الزام میں برمنگھم اور مرسی سائیڈ میں آویزاں موبائل فون کے مستول (ٹاور) نذر آتش کردیئے گئے اور انجینئروں پر 5G پر کورونا وائرس کے بارے میں بے بنیاد تھیوریز پھیلانے کاالزام عائد کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مستول نذر آتش کئے جانے کی تصاویر پوسٹ کر کے اس کے ساتھ ہی برطانیہ کے موبائل نیٹ ورک فراہم کرنے والوں کو بے بنیاد افواہیں پھیلانے سے باز رہنے کو کہا گیا ہے۔ برمنگھم کے علاقے سپارک ہل میں جمعرات کو اور مرسی سائیڈ کے علاقے میلنگ میں جمعہ کو مستول نذر آتش کئے گئے۔ برطانیہ موبائل سے متعلق تجارتی تنظیم کا کہنا ہے کہ جھوٹی افواہیں اور تھیوریز تشویشنا ک ہیں۔ ٹوئٹر پر ایک بیان میں ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اور سپورٹس سے متعلق محکمے نے کہا کہ وہ 5G کے بارے میں آن لائن شیئر کی جانے والے غلط معلومات سے آگاہ ہے، 5G اور کورونا وائرس کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے، مرسی سائیڈٖ کے علاقے میلنگ میں فائر اور ریسکیو سروس نے بتایا ہے کہ انھوں نے ایم57 موٹر وے کے قریب فائیو جی کے مستول میں لگی آگ بجا دی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ آگ سے مستول اور کنٹرول پینل کو نقصان پہنچا۔ ویسٹ لینڈز کی فائر سروس نے بتایا کہ جمعرات کو ایک ٹیلی کمیونی کیشنز سائٹ کے 70 فٹ اونچے مستول کی آگ بجھا دی گئی ہے۔تاہم آگ لگنے کی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔ ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ انھیں فون کمپنی کے مستول پر آتشزدگی کی اطلاع ہے لیکن اس کے اسباب کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ 5Gکے صحت کیلئے خطرناک ہونے اور کورونا وائرس سے اس کے تعلق کے حوالے سے جھوٹی خبریں تیزی سے پھیلائی جارہی تھیں، جمعہ کو فیس بک نے ایک پیج ہٹا دیا، جس میں 5G ٹاور جلتا ہوا دکھائی دے رہا تھا اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کی جارہی تھی۔ 5Gکے محفوظ ہونے کے بارے میں تھیوریز کے حوالے سے وارننگ دیتے ہوئے موبائل یوکے نے کہا ہے کہ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض لوگ ہمارے اہم ورکرز پر الزام تراشی کر رہے ہیں اور 5G سے متعلقہ دعوئوں کی بنیاد پر انفرااسٹرکچر تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
یورپ سے سے مزید