آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کورونا وائرس تو محض قیامتِ صغری ہے۔ بڑی قیامت نے تو ابھی آنا ہے۔ نائن الیون کی دہشت گردی نے تو دُنیا کیا بدلنا تھی، ماسوا لاکھوں  لوگوں کے قتلِ عام اور کروڑوں کی غارت گری کے۔ 

ابھی تو دُنیا میں طبی ایمرجنسی ہے اور کاروبارِ زندگی منجمد۔ یہاں تک کہ عالمی سرمائے کے دارالحکومت نیویارک میں حکومت نے تنفسی وبا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اب امریکہ کورونا کی حشر سامانیوں کی زد میں ہے جہاں لاکھوں لوگوں  کے مارے جانے کی پیشین گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ اس وبا کے ہاتھوں مارکیٹ اکانومی کے نفع بخش کاروباروں کی بوسیدگی ہے کہ چھپائے نہیں چھپ رہی۔ 

سائنس و ٹیکنالوجی میں عروج پانے کے باوجود اپنے شہریوں کی بنیادی صحت کا بندوبست تو کجا خود سرمایہ داری کا پورا نظام اب ریاستی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہے۔ دو کھرب ڈالرز کا ٹیکا فقط اگلے تین ماہ کے لیے ہے، آگے کی خبر نہیں۔ ظاہر ہے اس وبائی بحران نے مروجہ نظام کے انجر پنجر ہلا کر رکھ دیے ہیں۔ وبا ٹلتے ہی جب سانس آئے گا تو دُنیا ویسی نہیں رہے گی جسے تاریخ کی آخری حد قرار دیا گیا تھا۔

 چوتھی پیڑھی کا صنعتی انقلاب، مصنوعی ذہانت اور آن لائن دُنیا پرانے صنعتی و انتظامی ڈھانچوں اور پیشوں کو بہا لے جائے گی۔ لیکن اگر بڑی کارپوریشنز ہی کا غلبہ اور بڑھا تو پھر وہ قیامت بپا ہوگی جو پرانے منڈی کے مذہب کو ہوا میں اُڑا دے گی۔

 دوسری جانب چین ہے جہاں ریاستی کنٹرول میں مارکیٹ میکنزم اور ترقی کا عوامی ماڈل کارفرما ہے، جس کی بدولت وقتی لیپا پوتی اور پسپائی کے باوجود کورونا کی تباہ کاریوں کو قابو کر لیا گیا ہے اور شہر پھر سے کھلنے اور کاروبار کا پہیہ چلنے جا رہا ہے۔ وہاں مسخ شدہ اشتراکیت کے باوجود سرمایہ دارانہ معیشت کمیونسٹ پارٹی کے آہنی کنٹرول میں ہے۔ اب تو جی فائیو کے سرِعام ہونے سے شہریوں کی تمام تر نقل و حرکت اور شناسائی بھی ریاست کی نظر میں ہوگی۔

 کورونا کی بندش کے بعد سے چین میں تعلیم و صحت سے لیکر ہر طرح کا کاروبار بھی آن لائن ہونے جا رہا ہے اور مصنوعی ذہانت کا استعمال ہمہ نوع ہونے چلا ہے۔ ہر ملک کو جب اپنی اپنی پڑی ہے تو چین دُنیا بھر میں کورونا فائیٹنگ کے لیے پہنچ رہا ہے۔ جونہی مغرب بھی سنبھلے گا تو وہاں پورے نظام کی ترتیبِ نو کے سوالات ہی صرف ایجنڈے پہ نہیں آئیں گے بلکہ آن لائن کاروبارِ زندگی اور مصنوعی ذہانت اور انسانی مخبری کا وسیع جال بچھا دیا جائے گا۔ 

ایمازون، فیس بُک اور مائیکرو سافٹ جیسی دیوقامت کارپوریشنز لوگوں کے دل و دماغ کے راز پاکر اُن کی زندگیوں کے شب و روز اور لمحات کے بدلتے تیور بھانپ کر اُن کے انداز و اطوار زندگی کا تعین کر پائیں گی اور جب یہ کنٹرول کے غیبی سلسلے پھیلتے جائیں گے تو ریاست ان سے ماورا کہیں منہ چھپائے بیٹھی نہیں رہ جائے گی۔ اک نئی سرد جنگ ابھی سے شروع ہو گئی ہے جس کے مقابلے میں پچھلی سرد و گرم جنگیں گڈے گڑیا کا کھیل معلوم پڑیں گی۔

 اسی اثنا میں حضرتِ انسان کے گھر بند ہونے سے سکھ کا سانس بھی لیا ہے تو دھرتی ماں اور کرۂ ارض کی فضا نے۔ سنا ہے اوزون کے پھیپھڑے زہرآلود گیسوں سے پاک ہو رہے ہیں۔

پاکستان کا تو ذکر ہی کیا۔ ریاست بھی عجیب الخلقت، حکومت بھی اور لولی لنگڑی دست نگر مفت خور معیشت بھی۔ کئی ہفتے اور مہینے گزرنے پر بھی لاک ڈائون نہ کیا جا سکا اور جب کیا بھی تو نیم دلی کے ساتھ۔ اب اگر سب لاک ڈائون پہ دیر سے راضی ہوئے بھی ہیں تو اس اُمید کے ساتھ کہ اگلے دو ہفتوں میں کورونا کی لہر جیسے غائب ہو جائے گی۔

 ایسا ہونے کو نہیں، لاک ڈائون جاری رکھنا پڑے گا یا پھر لوگوں کو معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے موت کے منہ میں دھکیلنے کا سفاک احمقانہ ارادہ ہے۔ حکومت اور اس کے ادارے بڑے مخمصے میں ہیں۔ لاک ڈائون کرتے ہیں تو لوگ بھوکے مرتے ہیں، لاک ڈائون کم کرتے ہیں تو لوگ وبا سے مریں گے۔ 

بجائے اس کے کہ لاک ڈائون کے دوران سارا زور وبائی اثرات سے بچائو کے انتظامات اور لوگوں کے لیے زندگی کے ضروری لوازمات کی فراہمی کے بندوبست پر ہوتا، ہمارے ڈان کہوٹے اور اُن کے سانچو پینزا تعمیراتی صنعتوں کا پہیہ چالو کرنے کی بےوقت کی راگنی الاپ کر جانے کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ 

پہلے وبا کی آگ بجھانے اور لوگوں کو روٹی مہیا کرنے کا بندوبست تو کیا نہیں جا سکا۔ سرمایہ داروں کے لیے اربوں کھربوں کی رعایات کے ڈھنڈورے پیٹے جا رہے ہیں۔ غریبوں کی بیروزگاری پہ مگرمچھ کے آنسو بہانے والوں نے 100ارب روپے کے چیک بانٹے بھی تو برآمد کنندگان میں اور ایسے وقت میں جب عالمی تجارت بالکل بند ہو چکی ہے۔

رہی غریبوں کی مالی امداد تو اُن کو غذا کی فراہمی بارے جھوٹ بولا گیا کہ ہمارے پاس تو اعداد ہیں نہ مطلوبہ پتے۔ کتنے ہی ہائوس ہولڈ سروے ہو چکے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا اور اُس کی صفائی بھی ہو چکی ہے اور اب احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے اور یقیناً دو کروڑ غریب گھرانوں کے اعداد و شمار بھی موجود ہیں تو پھر اُن تک امداد کیوں نہیں پہنچائی جا رہی۔ اور اگر پہنچائی جا بھی رہی ہے تو تین ہزار روپے سے پانچ چھ لوگوں کے کنبے کا ماہوار معمولی گزارا کیسے ممکن ہوگا؟

صنعتکاروں کو ریلیف پیکیج دے کر اُن سے اُمید کی گئی ہے کہ وہ محنت کشوں کی چھٹی نہیں کریں گے۔ صرف سندھ حکومت نے مزدوروں کی چھانٹیوں پہ بندش عائد کی ہے جبکہ مالکان نے اعلان کیا ہے کہ اسٹینڈنگ آرڈرز ایکٹ کے تحت وہ صرف 14روز کی آدھی اجرت دینے کے پابند ہیں اس کے بعد وہ انہیں نکال دیں گے۔ اس کے لیے بھی وہ چھٹیوں، بونس، نفع میں حصے، ورکرز ویلفیئر فنڈ، سوشل سیکورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹ فنڈ (جو سب مزدوروں ہی کا ہے) سے تنخواہ ادا کریں گے۔

 یعنی مالکان صرف آدھے مہینے کی تنخواہ دے کر ٹھینگا دکھا دیں گے۔ رہے دہاڑی دار مزدور جو محنت کشوں کی بھاری اکثریت ہیں، وہ ٹائیگر فورس کے رحم و کرم پر‘ جس کے پاس مغلظات کے راشن کے سوا کچھ بھی نہیں۔ 

پاکستان ہو یا دُنیا، انسانی سلامتی و نجات کی راہ اپنائے بنا دُنیا کے پاس بچنے کی راہ نہیں۔ اب پرانی دُنیا نئی دُنیا کے نئے تقاضوں کے آگے ڈھیر ہو کر رہے گی۔ انسانیت کی نجات کا سورج طلوع ہوگا کہ نہیں؟

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

تازہ ترین