آپ آف لائن ہیں
جمعہ8؍ جمادی الثانی 1442ھ 22؍ جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

معروف قوال غلام فرید صابری کو دنیا سے گزرے 26 برس بیت گئے

تاجدارِ حرم جیسی متعدد معروف قوالیوں سے لوگوں کو جھومنے پر مجبور کر دینے والے معروف قوال غلام فرید صابری کو دنیا سے گزرے 26 برس بیت گئے ہیں۔

غلام فرید صابری ناصرف پاکستان کے مقبول ترین قوال تھے بلکہ دنیا بھر میں قوالی کے کروڑوں چاہنے والوں کے دلوں کی دھڑکن بھی تھے۔

فرید صابری 1930 میں ہندوستان کے صوبے مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے، انہیں بچپن سے ہی قوالیوں کا شوق تھا اور 1946 میں غلام فرید صابری نے پہلی مرتبہ مبارک شاہ کے عرس پر ہزاروں لوگوں کے سامنے قوالی گائی جہاں ان کے انداز قوالی کو بہت پسند کیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مسلمانوں کی طرح غلام فرید صابری کا خاندان بھی ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوگیا تھا۔

ان کا پہلا البم 1958 میں ریلیز ہوا، جس کی قوالی ’میرا کوئی نہیں تیرے سوا‘ نے مقبولیت کی تمام حدیں توڑ دیں تھیں۔

غلام فرید صابری اپنے بھائی مقبول صابری کے ساتھ مل کر قوالی گایا کرتے تھے۔ ستر اور 80 کی دہائی ان کے عروج کا سنہری دور تھا، اسی زمانے میں انہوں نے 'بھر دو جھولی میری یا محمد' جیسی قوالی گا کر دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منوا لیا۔

اس کے علاوہ معروف نعت (بلغ العلی بکمالہ) بھی صابری برادران نے ہی سب سے پہلی تخلیق کی تھی۔ان کی متعدد قوالیوں کو فلموں میں بھی استعمال کیا گیا، جن میں ’محبت کرنے والوں‘ اور ’آفتاب رسالت‘ بہت مقبول ہوئیں۔اردو کے علاوہ پنجابی، سرائیکی اور سندھی زبان میں بھی انہوں نے قوالیاں گائیں۔

5 اپریل 1994 کو کراچی میں غلام فرید صابری کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور وہ انتقال کر گئے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید