• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زرافے بنیادی گنتی اور سادہ حساب لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ماہرین

اسپین کے شہر بارسلونا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زرافے بنیادی سطح پر مقدار کا اندازہ لگانے اور سادہ حسابی تبدیلیوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف بارسلونا، یونیورسٹی آف لیپزگ اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار ایوولوشنری اینتھروپولوجی کے محققین نے مشترکہ طور پر کی، جس کے نتائج سائنسی جریدے سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔

تحقیق کے دوران بارسلونا چڑیا گھر کے چار زرافوں کے سامنے دو برتن رکھے گئے، جن میں گاجر کے مختلف ٹکڑے موجود تھے۔ بعدازاں محققین نے برتنوں کو ڈھانپ دیا اور زرافوں کے سامنے ان میں مزید گاجر کے ٹکڑے شامل کیے یا کچھ نکال لیے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جب گاجروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تو زرافوں نے 68 فیصد مواقع پر زیادہ گاجروں والا برتن منتخب کیا، جو محققین کے مطابق محض اتفاق سے کہیں زیادہ بہتر کارکردگی ہے۔

محققین نے مزید تجربات کے ذریعے یہ بھی معلوم کیا کہ آیا زرافے محض محققین کی حرکات، جیسے برتن کو چھونے، کی بنیاد پر انتخاب کر رہے تھے یا واقعی مقدار کا اندازہ لگا رہے تھے۔ ان تجربات میں دو زرافوں کے بارے میں امکان ظاہر کیا گیا کہ وہ دیگر اشاروں سے متاثر ہوئے، تاہم باقی دو زرافے مسلسل زیادہ گاجروں والا برتن ہی منتخب کرتے رہے۔

محققین کے مطابق ان دو زرافوں کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ زیادہ پیچیدہ ذہنی عمل استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ البتہ جب برتنوں سے گاجروں کے ٹکڑے نکالے گئے تو زرافوں کی کارکردگی نمایاں طور پر کم رہی اور ان کا انتخاب تقریباً اتفاقی سطح کے برابر تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زرافے انسانوں کی طرح حساب کتاب نہیں کرتے، تاہم تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اعداد و شمار اور مقدار کے بنیادی تصور کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید