آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یورپ میں برقع کا مسئلہ ابھی طے نہیں ہوا کہ ایک اور مسئلے نے سر اٹھا لیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کی کثیر آبادی عیسائیوں پر مشتمل ہے جیسے پاکستان کی مسلمانوں پر، لیکن مسیحی اکثریت رکھنے والا یہ دیس پاکستان کے برعکس نہ صرف دنیا بھر میں امن کا گہوارہ مانا جاتا ہے بلکہ غیر جانبدار بھی کہلاتا ہے اس دیس کی خوبصورتی نہ صرف قدرتی مناظر میں اپنا جواب نہیں رکھتی بلکہ اسے پھولوں کی وادی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے مگر کچھ عرصہ سے اس سرزمین امن پر جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا سایہ پڑ رہا ہے۔ یہ عاقبت نااندیش اور کوتاہ نظر افراد اپنے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس خطہ ارضی کی خوبصورتی کو دھندلانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ گذشتہ دنوں سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے نئی تعمیر شدہ مسجد کے میناروں کی رونمائی پر پابندی لگا دی اس سے قبل میناروں پر پابندی لگائے جانے کے لئے ووٹنگ ہوئی اور سوئس ووٹروں نے اکثریت سے پابندی لگائے جانے کو قانونی حیثیت
دے دی۔ سوئٹزرلینڈ میں اس وقت چار مسجدیں ہیں جو کہ آبادی کے لحاظ سے انتہائی مناسب ہیں لیکن ایک غیر سرکاری تنظیم او آئی پی کے صدر عبدالمجید الداعی کا کہنا ہے کہ یورپ کے لوگوں میں اسلام کے بارے میں جاننے کی زبردست خواہش ہے ان میں کچھ تو اسلام کے بارے میں اس لئے جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اسلام اور

دہشت گردی کا آپس میں کیا تعلق ہے اور کچھ سوئٹزرلینڈ کے ایک سیاستدان ڈینئل سٹریچ جیسے لوگوں کا۔ ڈینئل پہلا شخص تھا جس نے سوئٹزرلینڈ میں مساجد پر تالے لگانے اور میناروں پر پابندی لگانے کی مہم شروع کی تھی اس نے اپنی اس مسلم مخالف تحریک کو ملک گیر پیمانے پر فروغ دیا اور مساجد کے گنبد و میناروں کے خلاف رائے عامہ استوار کی لیکن آج وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہے اور اب مسلمانوں کی ترغیب پر سوئٹزرلینڈ میں یورپ کی سب سے بڑی اور خوبصورت مسجد کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں مسلمانوں کی آبادی پانچ فیصد بتائی جاتی ہے لیکن مساجد کی لمبائی چوڑائی اور اونچائی پر ضرورت سے زیادہ زور دے کر ہنگامہ آرائی کی جارہی ہے۔ کچھ لوگوں کی خام خیالی ہے کہ مسجد کے میناروں نے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا ہے اس کے برعکس روشن خیال اور حقیقت پسندی کے مظہر مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اسلام کی عظمت کے لئے میناروں اور گنبدوں کے سہارے کی قطعی ضرورت نہیں ملک کا قانون میناروں پر بے شک پابندی لگا سکتا ہے دل و دماغ پر نہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ مقامی عام افراد کا خیال ہے کہ مسلمانوں نے مسجد کے میناروں کی میزائیل کی شکل دے دی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی کے حوالے سے ریفرنڈم کا پس منظر دو اہم ترین واقعات ہیں جن کو سوئٹزرلینڈ پیپلز پارٹی اور دیگر دائیں بازو کی جماعتوں نے بنیاد بنایا۔ ان لوگوں نے اپنے خیال میں مساجد کے میناروں کے خلاف مہم کی بنیاد اپنے ان نظریات پر رکھی کہ مساجد کے مینار دراصل مذہبی و سیاسی طاقت کے نشان ہیں اور ترک وزیراعظم طیب اردگان کی 1997ء کی ایک تقریر کا مسلسل حوالہ دیتے رہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”مساجد ہماری بیرکس، ان کے گنبد ہمارے سروں کے ہیلمٹ، ان کے مینارے ہمارے مزائیل، ان کی برجیاں ہماری سنگین اور غازی ہمارے سپاہی ہیں۔“ اس پس منظر میں سوئٹزرلینڈ پیپلز پارٹی اور فیڈرل ڈیموکریٹک یونین مسلمانوں کے مستقبل کے ارادوں سے خوف زدہ ہوگئیں لیکن صحیح معنوں میں مساجد کے میناروں پر تنازع کا باقاعدہ آغاز 2005ء میں ہوا تھا جب ”ترک کلچرل ایسوسی ایشن“ نے شمالی سوئٹزرلینڈ میں اسلامی کمیونٹی سینٹر کی عمارت پر 16 میٹر بلند مینار تعمیر کرنے کی اجازت طلب کی جس پر گرد و نواح کے سوئیز باشندوں نے اس کی شدید مخالفت کی، مقامی سرکاری اداروں نے لوگوں کے احتجاج کے پیش نظر مینار کی تعمیر کی اجازت کو موخر رکھا آخر کار لوگوں کے بڑھتے ہوئے احتجاج کی وجہ سے کیونل بلڈنگ اینڈ پلاننگ کمیشن نے یہ درخواست مسترد کر دی جس پر مسلمانوں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا اور اسلامی کمیونٹی سینٹر نے بلڈنگ اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ کو اپیل کی جو منظور کرلی گئی تاہم مقامی باشندے یہ کیس مقامی انتظامی کورٹ میں لے گئے مگر وہاں بھی ناکام رہے اور بالآخر چار سال کی طویل عدالتی و قانونی جنگ جیتنے کے بعد اسلامی کمیونٹی سینٹر جولائی 2009ء کو یہ جنگ ریفرنڈم کروانے کے فیصلے پر متفق ہوگئی۔ میناروں پر پابندی لگائے جانے کے لئے ووٹنگ ہوئی سوئز باشندوں کو اس قدر مشتعل کر دیا گیا تھا کہ انہوں نے ریفرنڈم میں بھرپور حصہ لیا اور آخر کار ان کی جدوجہد رنگ لائی جس کے نتیجہ میں مسجد کے میناروں پر پابندی لگا دی گئی یہی نہیں ادھر ہمارے سابق آقا برطانیہ نے بھی سوئٹزرلینڈ کے سر میں سر ملاتے ہوئے برطانیہ کی سندھرسٹ رائیل ملٹری اکیڈمی جہاں جنرل ایوب خان کے علاوہ پرنس ولیم اور پرنس ہیری نے بھی ٹریننگ حاصل کی ہے اس کے قریب یا یوں کہئے اس کی بغل میں مسجد کی تعمیر پر مخالفت کا اظہار کیا ہے اس سے قبل آرمی چیف اس عظیم الشان فوجی اکیڈیمی کے قریب مسجد کھڑی کرنے پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں ان کے خیال میں مسجد کا بڑا گنبد اور سو فٹ سے بلند میناروں سے سیکورٹی کو خطرہ ہے یعنی مسجد کی تعمیر سیکورٹی رسک ہے کہ اونچے اونچے میناروں سے فوجی مرکز میں ہونے والی متعلقہ سرگرمیاں، ٹریننگ اور اندرونی تنصیبات پر نظر رکھی جا سکتی ہے اس لئے فوج مسجد کی تعمیر کی مخالفت کر رہی ہے یہاں یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ مقامی افراد بھی اس مسجد کی تعمیر کے یکسر مخالف ہیں۔
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ مذہبی آدمی کی خواہشات اور مفادات اسے اور زیادہ مذہبی بنا دیتے ہیں اور جو شخص مذہبی تعلیم و علم حاصل کرنے کا خواہاں ہو وہ پہلے یہ طے کرے کہ تحصیل علم سے اس کے کیا مقاصد ہیں؟
گھولتی کانوں میں ہے تلخی صدا اذان کی
ہے پریشانی بہت ان گنبد و مینار سے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں