آپ آف لائن ہیں
بدھ11؍ شوال المکرم 1441ھ3؍جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک جاننے والے بزرگ کا فون آیا، کہنے لگے کہ اگر ہو سکے تو پاکستان کو ریاستِ مدینہ کے رول ماڈل کے مطابق ڈھالنے کا نعرہ بلند کرنے والوں کو میرا پیغام پہنچا دو کہ کورونا سے اگر لڑنا ہے اور اس عذاب سے جان چھڑانی ہے تو سچے دل سے سب توبہ کریں۔

اپنے گناہوں کی معافی مانگیں لیکن اپنے رب سے معافی مانگنے سے قبل ﷲ اور ﷲ کے رسولﷺ سے سود کی صورت میں جاری جنگ کو ختم کریں۔ کہنے لگے، معافی ﷲ سے مانگنی ہے لیکن سود کو بھی ختم نہیں کرنا تو پھر ہمارا رب ہم پر رحم کیوں فرمائے گا۔ بات تو بزرگ نے ٹھیک کی۔

یہاں تو کئی مغربی ممالک اور غیر مسلم ریاستوں نے کورونا کے آنے کے بعد اپنی اپنی معیشت کو بچانے کے لیے سود کو صفر فیصد یعنی ختم کر دیا لیکن ہم ہیں کہ نام تو اسلام کا لیتے ہیں، یہ بھی چاہتے ہیں کہ ﷲ ہمیں معاف فرما دے اور کورونا کے عذاب یا آزمائش سے ہماری جان چھڑوا دے مگرسود جیسی لعنت کو ہم ختم نہیں کریں گے۔

چاہے اس کی ہمارے دین میں کتنی ہی سخت ممانعت کیوں نہ ہو۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں، ﷲ سے معافی بھی مانگتے ہیں لیکن سود کی صورت میں جاری جنگ کو بھی ختم نہیں کرنا چاہتے۔

میری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے وعدہ پر کاربند رہتے ہوئے سود کا پاکستانی معیشت سے خاتمے کا فیصلہ کریں جس کے لیے یہ بہترین وقت ہے۔ سود ایک کبیرہ گناہ ہے جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں سخت وعید ہے اور اسی لیے ہر مسلمان کو اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔

لیکن ہم نے اسلام کے نام پر ملک تو قائم کر لیا لیکن سود جیسی لعنت سے جان چھڑانا تو درکنار یہاں سود کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ دنیا میں اس کی شاید ہی کوئی دوسری مثال ہو۔کورونا وبا پھیلنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جیسے مہربانی کر کے سود کی شرح کو ساڑھے تیرہ فیصد سے کم کر کے گیارہ فیصد کر دیا۔

دو ڈھائی فیصد سود کی کمی نے اس حال میں بھی کافی لوگوں خصوصاً تاجر برادری کو خوش کر دیا۔ سوچیں اگر اس لعنت کو بالکل ہی ختم کر دیا جائے تو یہاں کتنی خوشحالی آ سکتی ہے۔

کورونا کے خوف نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہمارا بھی حال کچھ مختلف نہیں، چین نے کیا کِیا اور کس طرح اس وبا پر قابو پایا وہ دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بن گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پہل کی اور لاک ڈائون کا فیصلہ کیا۔

کچھ ہچکچاہٹ کے بعد وزیراعظم عمران خان بھی لاک ڈائون کے راستے پر چل پڑے، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی لاک ڈائون کر رہے ہیں۔ دنیا وینٹی لیٹرز، ماسک، طبی عملے کے لیے احتیاطی لباس اور دوائیوں وغیرہ کے پیچھے پڑی ہے جس میں بلاشبہ کوئی مضائقہ نہیں، ہم بھی یہی کچھ کر رہے ہیں اور کرنا بھی چاہیے۔

احتیاط بھی ضرور کریں اور لاک ڈائون کو بھی اس طرح اپنائیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا روزگار متاثر نہ ہو۔ لیکن نہ عمران خان اور نہ ہی کسی صوبائی وزیراعلیٰ نے اجتماعی دعا کا اہتمام کیا ہے۔ اجتماعی دعا کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے، جس کے لیے پہلا اور اہم قدم اٹھانا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔

میں تو حیران ہوں کہ یہاں ہمارا کوئی حکمران اجتماعی دعا کی بات نہیں کرتا جبکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک نے نہ صرف 15مارچ کو امریکا میں قومی دعا کا دن منانے کا اعلان کیا بلکہ اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے ہم وطنوں سے درخواست کی کہ خدا سے اپنی اور اپنے ملک کی حفاظت کے لیے سب دعا کریں۔

ایک اور وڈیو میں ایک امریکی نیو یارک کے مشہور ٹائم اسکوائر (جہاں کوئی انسان نظر نہیں آ رہا تھا) کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ یہ کورونا نیویارک اور امریکا کے لیے خدا کی طرف سے بدلہ ہے اُن مظالم کا جو امریکا نے دنیا بھر میں ڈھائے۔ کورونا دنیا بھر کے لیے سبق ہے تو ہمارے لیے بھی ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم اسلام سے جڑ جائیں، اپنے ملک کو اسلامی نظام کے مطابق چلائیں، سود کا خاتمہ کریں، فحاشی و عریانی کو پھیلانے کی کسی کو اجازت نہ دیں، شراب پر پابندی لگائیں، پاکستان میں بسنے والے ہر فرد کو اُس کے حقوق فراہم کریں، انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں، ہر فرد کی تربیت اور کردار سازی کریں۔ کورونا نے ہمیں جو موقع دیا اسے ہمیں نہیں گنوانا چاہیے، وگرنہ نقصان صرف ہمارا ہی ہے۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

تازہ ترین