آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایک بار پھر بزدل دہشت گردوں نے عورتوں، بچوں، بزرگوں اور نہتے لوگوں پر گلشن اقبال پارک لاہورمیں حملہ کر کے ثابت کر دیاکہ وہ پاکستان کی خوشحالی سے خوفزدہ ہے۔پاکستان اپنی جغرافیائی حدود کی وجہ سے پورے خطے اور دنیا میں خاص اہمیت کاحامل ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ انڈیا جیسا دشمن ایک طرف اوردوسری طرف بعض ایسے ممالک ہیںجوپاکستان کو زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پاکستان اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی پاور ہے اس کے علاوہ بھی پاکستان میں ان گنت ایسی خصوصیات ہیں جو اسے پوری دنیا میں ممتاز کرتی ہیں ۔ ان سب کے ہوتے ہوئے ہمارے ازلی دشمن بھارت، اسرائیل اور امریکہ کو ایک مضبوط دفاعی اسلامی ملک پاکستان بھلا کیسے منظور ہوسکتاہے؟اصل میں پاکستان میں خود کش حملوں کا رجحان 2005 ءکے بعد شروع ہوا، مشرف حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سےہمیں صرف اور صرف تباہی ملی۔ امریکہ کو 2001ءمیں ہی بخوبی اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ افغانستان میںآتو گیا ہے لیکن یہاں سے واپسی ایک ڈرائونا خواب ثابت ہو گی۔پاکستان اور افغانستان کے اٹھارہ سو کلومیٹر طویل بارڈر کی نگرانی نہ ہونے کے برابر تھی اوربارڈر کے دونوں طرف آباد لوگ آسانی سے ایک سے دوسری طرف آجا سکتے تھے اوران کی آپس میں رشتہ داریاں بھی تھیں۔ مشرف

حکومت اور زرداری کے پانچ سال پاکستان کی تاریخ کے بدترین سال تھے جن میں دشمنوں کو پاکستان میں ہر طرح کا ظلم ڈھانے کی کھلی آزادی تھی۔اوراب انڈیا کی پا کستان سے دشمنی کا ایک اورمنہ بولتاثبوت انڈین خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ کے ایجنٹ کمانڈو کل بھوشن یادیو کا گرفتار ہونا ہے۔جو کہ ان کی نیوی کے حاضر سروس ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ کا افسر ہے۔ یہ جاسوس ا یران کے رستے پاکستان میں داخل ہواتھا جس نے چشم کشا انکشاف کئے ہیں۔ انڈین خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ گوادر بندرگاہ پرحملہ کرناچاہتے تھی اور اس کے بڑے اہداف میں کراچی اور بلوچستان شامل تھے۔ اس کے علاوہ وہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر بدامنی پھیلانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔اور اس کے ویڈیو بیان میںا قرارکیا ہے کہ اسے سلامتی کے مشیر اجیت اوول سے ہدایات ملتی تھی ۔جبکہ دوسری طرف انڈیا نے ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں میں پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور وہ پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی بھی موقع خالی جانے نہیں دیتا۔ ایران کے رستے پاکستان میں انڈین ایجنٹس کا آنا بڑی تشویش کی بات ہے۔ یہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی انڈیا نے بنگلہ دیش میں بھی پاکستان کے خلاف زہرپھیلانا شروع کر دیا ہے ۔ انڈیا بنگلہ دیش کا گٹھ جوڑ پاکستان کیلئے آنے والے دنوںمیں ایک اور بڑا چیلنج ہوگا۔ پاکستان اس خطے میں کئی ممالک کی سازش کا شکار ہو رہا ہے۔ آج پوری دنیا میںہی مسلمان دہشت گرد کہلائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف مغربی سازشوں کی وجہ سے مسلمان ملک آپس میں ایک دوسرے کیخلاف ہوتے جارہے ہیں۔ مسلمان ممالک کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ مغربی دنیا کبھی بھی مسلمانوں کو ترقی کرتاہوانہیں دیکھ سکتی ۔میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم مسلمان مغربی دنیا سے کٹ جاہیںہمیں تعلقات برابری کی سطح پر کرنے ہونگے۔ اوآئی سی اگر صحیح معنوں میںمتحرک ہو جائے اور ہم حقیقی معنوں میں ایک ہوجائیں تو مسلمان دنیا میں اپنا مقام حاصل کر لیں۔ورنہ وہ وقت دور نہیں جب خدا نہ کرے مسلم دنیا کا حال چیچنیا،عراق، افغانستان ، فلسطین وغیرہ جیسا ہوگا۔اس وقت مسلمان ممالک اکٹھاہونے کی کوشش کریں۔ لیکن وقت بڑا بے رحم ہے واپس نہیں آئے گا۔میرا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان یا مسلم ممالک کسی بھی سطح پر کمزور ہیں۔میں مجموعی طور پر امت مسلمہ کی بات کر رہاہوکہ وہ ایک ہو جائیں۔ اپنے اصل دشمن کو پہچانیں اپنوں میں اور دہشت گردوں میں فرق کیجئے ۔ رہی بات پاکستان کی تو جب تک ہمارے ملک میں جنرل راحیل شریف صاحب جیسے بہادر سپہ سالار اور پاک فوج جیسے بہادر سپوت موجود ہیں دنیا کی کوئی بھی طاقت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔الحمداللہ پاکستان آرمی کی ڈائر یکشنز بالکل درست ہیں۔ دوست اور دشمن واضح کئے جاچکے ہیں ۔ جس کی تازہ مثالیں غیر ملکی طاقتوں کی پاکستان میں مداخلت کو محدود کرنا، ڈرونز کا خاتمہ ۔ را‘‘ کے ایجنٹس کو گرفتار کرنا اور مخالف ممالک کو ’’ واضح پیغام دینا ہے کہ اب بس بہت ہوگیا ۔ بہت برداشت کرلیا۔ میری یہاں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے اور درخواست ہے کہ ہم ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیںدشمنوں کی نظریں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے پہ ہیں۔ آئیں ہم سب ملکر متحد ہو جاہیں اور اور اندرونی اور بیرونی تمام دشمنوں کومنہ توڑ جواب دیں اور بھارت کی ہٹ دھرمی کو عالمی فورم اور ہر سطح پراٹھایا جائےاور اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔سب سے ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے دشمن کو پہچانیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں