• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت میں اس لیے کام نہیں کرتا کیونکہ میرے والد کا نام ریاض شاہد ہے: شان شاہد

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

پاکستان کے نامور سینئر اداکار شان شاہد کا کہنا ہے کہ میں بھارت میں اس لیے کام نہیں کرتا کیوں کہ میرے والد کا نام ریاض شاہد ہے۔

پاکستانی مشہور فلم نکاح کے ہیرو ایک بار پھر بھارتی فلموں میں کام نہ کرنے کے اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے۔

وار، خدا کے لیے، یلغار، مجھے چاند چاہیے، سنگم جیسی متعدد ہٹ اور ایکشن سے بھرپور فلموں میں شان شاہد اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ وہ ایک معروف شوبز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کے والد ریاض شاہد پاکستان کے عظیم ہدایتکار تھے، جنہیں وطنِ عزیز سے گہری محبت تھی، جبکہ ان کی والدہ نیلو بیگم بھی ایک نامور اداکارہ رہیں۔

آج کل شان شاہد اپنی آنے والی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں، انہیں ہمیشہ اپنی حب الوطنی اور پاکستان میں کام کو ترجیح دینے کے باعث سراہا جاتا رہا ہے۔

حال ہی میں سینئر اداکار نے اپنی آنے والی فلم بلّھا کی تشہیر کے لیے منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران، جس میں اداکارہ مونا لیزا بھی موجود تھیں، بھارت میں کام کرنے سے متعلق ایک بار پھر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

اس موقع پر شان شاہد کا کہنا تھا کہ میں بھارت میں اس لیے کام نہیں کرتا کیونکہ میرے والد کا نام ریاض شاہد ہے۔ اگر ان کے (مونا لیزا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا) والد کا نام بھی ریاض شاہد ہوتا تو وہ بھی بھارت میں کام کرنے سے انکار کر دیتیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ میرا ذاتی مؤقف ہے اور میں اسے کسی پر مسلط نہیں کر رہا، میں نے خود وہاں کام کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم میں دوسروں کے خلاف نہیں ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ فنکاروں کو جہاں بھی موقع ملے، کام کرنا چاہیے، خصوصاً اس لیے کہ پاکستان میں فنکاروں کے لیے گزر بسر دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

سینئر اداکار نے کہا کہ کچھ ذاتی وجوہات، بالخصوص مسئلہ کشمیر کی بنا پر، میں بھارت میں کام نہیں کرنا چاہتا۔ میں علی ظفر یا مونا لیزا کے بھارت میں کام کرنے کے خلاف نہیں ہوں، مگر براہِ کرم مجھ سے ایسا کرنے کا مطالبہ نہ کیا جائے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید