السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
لفظ لفظ پوتّر و معطّر
تیز چلچلاتی دھوپ میں اچانک کچھ بادل چھائے۔ سورج کی بادلوں میں کچھ دیر آنکھ مچولی جاری رہی اور پھر اچانک ایک خوشبو کا جھونکا سا آیا اور ہاکر کے تھیلے سے جنگ ’’سنڈےمیگزین‘‘ برآمد ہوا۔ سرِورق دیکھ کر ہی دل خُوش ہوگیا۔ ’’سلسلہ غزوات و سرایا‘‘ کی آخری قسط میں غزوئہ حنین و تبوک کے ذکر کا لفظ لفظ پوتّر و معطّر ہی تھا۔ پاکستانی عورت کا اصل چہرہ لیے حاضر تھیں شفق رفیع، جنہوں نے ہر طرف جیسے پھول سے بکھیر دیئے۔ خواتین کے حقِ وراثت کے حوالے سے شگفتہ شگفتہ الفاظ کو شگفتہ عُمر نے خُوب صُورت مالا میں ڈھالا، تو ’’خمارِ گندم‘‘ کی آخری قسط کے ساتھ حاضر تھے عرفان جاوید، جن کا یہ کہنا سو فی صد بجا کہ ’’اردو ادب میں عورتیں خاندانی زندگی کی بہتر عکّاس ثابت ہوتی ہیں۔‘‘ ’’پھولوں میں ڈھلی ہوئی یہ لڑکی.....‘‘ اور تحریر نرجس ملک کی، تو ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کو ہزار چاند تو لگنے ہی تھے۔ منور مرزا کا قلم انسانیت کی محبت میں ڈوبا ہوا معلوم ہوا، تو دل کی ملکہ، گھر کی رانی کے لیے لکھی گئی ’’پیارا گھر‘‘ کی تحریروں کا بھی کوئی جواب نہ تھا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں بھی ہمیشہ کی طرح محبتیں، چاہتیں، خلوص اور اپنائیت اپنے عروج پر دکھائی دیئے۔ (ضیاءالحق قائم خانی، جھڈو، میرپورخاص)
ج:آپ کی اس تحریر پر بھی بس ’’پرفیوم‘‘ کا لیبل لگنے ہی کی کسر رہ گئی تھی، ورنہ خُوشبو کے لَپٹے تو سطر سطر سے اُٹھتے محسوس ہوئے۔
علمائے کرام کے انٹرویوز
سنڈے میگزین بہت ذوق و شوق سے پڑھتا ہوں۔ یہ ایک مفید معلومات فراہم کرنے والا تحقیقی، ادبی میگزین ہے۔ اللہ پاک ادارئہ جنگ کو تمام آفات و مصائب سے محفوظ رکھے۔ آپ سے نام وَر علمائے کرام کے انٹرویوز شایع کرنے کی مودبانہ درخواست کی جاتی ہے، ویسے آپ کے حُسنِ ذوق اور سلیم الطبع نے رسالے کو چار چاند لگا رکھے ہیں۔ (محمّد یوسف مانگی، لاڑکانہ)
ج:ہمارے یہاں ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے انٹرویوز وقتاً فوقتاً شایع ہوتے ہی رہتے ہیں اور اُن میں علمائے کرام بھی شامل ہیں۔
بہترین سلسلے وار مضمون
ہر اتوار کو ’’جنگ سنڈے میگزین‘‘ کا انتظار رہتا ہے کہ مختلف موضوعات پر لکھے گئے مضامین، افکارو خیالات انتہائی دل چسپی کےحامل ہوتے ہیں۔ ’’خمارِ گندم‘‘ ایک بہترین سلسلے وار مضمون ہے۔ پڑھ کر لطف آرہا ہے۔ (عزیز اعجاز)
سحر انگیز تحریر کے حصار میں
اس بار ٹائٹل خُوب صُورت ہے۔ ’’حالات و واقعات‘‘ کے سلسلے میں منور مرزا کا یہ کہنا بالکل درست کہ پاکستان کو دھڑے بندیوں میں الجھنے کے بجائے اپنے قومی مفاد کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ سنڈے اسپیشل میں نجم الحسن عطا نےبھی درست لکھا کہ قبائلی جاگیردارانہ نظام کے نمائندے انرجی سیکوریٹی سے بے خبر ہیں۔ انٹرویو کے سلسلے کو دو صفحات تک بڑھایا گیا، زبردست۔ ڈاکٹر سیّد سیف الرحمن سے منور راجپوت کی بات چیت کا جواب نہ تھا۔ اُن کا کہنا بالکل درست ہے کہ کراچی پر توجّہ نہ دی گئی، تو شہر کھنڈر بن جائے گا۔ ہمیں تو وہ وقت بھی یاد ہے کہ بندر روڈ، صدر وغیرہ کی کشادہ سڑک کے بیچ ایک ریل کی پٹری ہوتی تھی، جس پر سُست رفتار ٹرامیں چلتی تھیں تاکہ ان چلتی ٹراموں پر بوڑھے مسافر، بچّے اور تاجر وغیرہ چڑھ، اُتر سکیں۔ سنڈے میگزین کا سلسلہ ’’عجائب خانہ‘‘ دل چسپ معلوماتی واقعات، حکایات، رنگا رنگ قصّوں، کہانیوں کی ایک اَن مول لڑی ہے۔ عرفان جاوید کی سحر انگیز تحریر حصار میں لیے رکھتی ہے۔ ماڈل عیشا خان کے ساتھ ہیڈنگ ’’کچھ نازِ تمکنت بھی ہے، پاسِ حیا کے ساتھ…‘‘ کچھ زیادہ جچی نہیں۔ ہیلتھ اینڈ فٹنس، جہانِ دیگر، متفرق، ڈائجسٹ جیسے سلسلے اچھے تھے۔ رہا ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو اُس کے تو کیا ہی کہنے۔ (نوٹ: خط پڑھنے اور جواب دینے سے پہلے ایک گلاس شربت کا نوش کیا جانا لازم ہے) (صدیق فن کار، کلمہ چوک)
ج:یہ شربت کے گلاس والی شرط صرف آپ کے خط کے لیے ہے؟ اور اگر تو ہر خط سے پہلے یہی عمل دُہرانے کا مشورہ ہے، تو پھر ہمیں شک ہے کہ آپ کا بھی اس ’’شوگر مافیا‘‘ سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہوگا۔
عورت کے حقوق و فرائض
اس مرتبہ میگزین عیں اُس دن آیا، جب ’’عورت آزادی مارچ‘‘ ہورہاتھا۔ سوچنےکی بات ہے کہ خواتین کو اس مارچ کی ضرورت کیوں پیش آئی، جب کہ اسلام نے تو خواتین کو ساڑھے 14سو سال پہلے اتنے حقوق دےدیےتھےکہ کسی اورمذہب میں تصوّر بھی ممکن نہیں۔ بہرحال، آپ لوگوں نےاس سلسلے میں اپنی سی سعی کی۔ شفق رفیع کی تحریر لاجواب تھی۔ افشاں مراد، مریم خان اور فرحی نعیم کی کاوشیں بھی دل چُھو لینے والی تھیں، البتہ ڈاکٹر عزیزہ انجم کی تحریر پڑھ کر محسوس ہوا کہ یہ شاید کسی مرد کی لکھی ہوئی تحریر ہے۔ اس بار میگزین میں دو افسردہ کردینے والی خبریں تھیں۔ ایک ’’سلسلہ غزوات وسرایا‘‘ کا اختتام اور دوسرا ’’خمارِ گندم‘‘ کا۔ ’’خمارِ گندم‘‘ میں عرفان جاوید نے تقریباً ہر پکوان کاذکرکیا، لیکن ہمارے پیارے نبیؐ کے پسندیدہ پکوانوں کا ذکر کرنا بھول گئے۔ چلیں خیر!ہمیں یقین ہےکہ آپ اس موضوع پر ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ضرور لکھوائیں گی۔ منور مرزا نے اس بار اتحاد کی بات کی، جو دل کو لگی۔ واقعی ہمارے برادر اگر ہمیں آزمایش میں ڈالنےکی بجائے ہم سےٹوٹےرشتے جڑوانے کا کام لیں، تو کیا ہی اچھا ہو۔ ویل ڈن منور صاحب! ’’ناقابلِ فراموش‘‘ میں محبّت کی ایک لازوال سچّی داستان پڑھی، تو حیرت زدہ رہ گئے کہ آج کے دَور میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں کنول بہزاد نے اچھی کوشش کی۔ عالمی یومِ خواتین کے موقعے پر سمیحہ راحیل قاضی کی کمی شدّت سے محسوس ہوئی، جو کسی حد تک شگفتہ عُمر نے پوری کرنے کی کوشش کی۔ جن بہنوں کا نعرہ ہے ’’میرا شوہر میری محبت، میرا باپ میری عزت اور میرا بھائی میری غیرت‘‘۔ میری طرف سے اُن تمام بہنوں کو سیلوٹ اور 21؍توپوں کی سلامی۔ اور آپ سے گزارش ہے کہ میگزین میں مستقل ایک سلسلہ شروع کریں، جس میں اسلام میں عورت کے حقوق و فرائض وغیرہ کا تفصیلاً ذکرہو۔ (عبدالسلام صدیقی بن عبداللہ تائب، نارتھ کراچی، کراچی)
ج: خواتین کی اکثریت اپنے حقوق و فرائض سے بخوبی واقف ہے۔ ہم وقتاً فوقتاً متعلقہ موضوعات پر تحریریں بھی شایع کرتے رہتے ہیں۔ فی الوقت کسی مستقل سلسلے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک مخصوص ایجنڈے کےتحت اگر چند خواتین بے لگام آزادی کے مطالبات لے کر گھروں سے نکل بھی آئی ہیں، تو وہ اکثریت کی نمائندہ ہرگز نہیں ہیں۔
ایسا نہیں کرنا چاہیے
میگزین کا پورا ہفتہ انتظار رہتا ہے۔ اس ہفتے پورا میگزین الٹ پلٹ کرنے کے باوجود ’’ناول‘‘ نہیں ملا، جب کہ ناول کے نہ ہونے سے تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ 72؍سالہ بوڑھا، بے گناہ شکیل الرحمٰن کی گرفتاری پر بھی سخت ملول ہے کہ میراجنگ اخبار سے دہائیوں کا ساتھ ہے۔(قاضی محبوب الٰہی، مصطفی ٹائون، وحدت روڈ، لاہور)
ج: بخدا ہم نے ایسا کیا بھی نہیں۔ ناول کی بقیہ اقساط جوں ہی موصول ہوں گی، فوراً شایع کردی جائیں گی اور شکیل الرحمٰن صاحب بھی اِن شاء اللہ تعالیٰ بہت جلد باعزت طور پر رہا ہوجائیں گے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں اور اوپر والے کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔
خوش گوار موڈ کے ساتھ
فروری کے شماروں کی طرح مارچ کے جریدوں کا بھی جواب نہیں۔ میں تو اِک اِک اشاعت پر تہہ دل سے ممنون ہوتا ہوں کہ اس سنڈے میگزین ہی کی بدولت میرا پورا ہفتہ خوش گوار موڈ کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ (شری مرلی چند جی، گوپی چند گھوکلیہ، شکارپور)
ہٹلر کی چاچی
سُنا ہے، جو پھولوں کے موسم میں ملنے آتا ہے، خوش نصیب ہوتا ہے (کس سے سنا ہے، یہ مت پوچھیے گا) چلیں خیر! اب تو ہم تشریف لے آئے ہیں، تو آپ کو برداشت کرنا ہی پڑے گا۔ آپ کے سال نامے کی داد نہ دینا کم ظرفی تھی، لہٰذا پہلے شان دار ’’سال نامہ‘‘ تیار کرنے پر مبارک باد قبول کریں اور اب تبصرہ، زیرِنظر شمارے پر، سب سے پہلے بات ہمارے صفحے کی، جس کی راج دھانی ایک بار پھر راجا صاحب کے قبضے میں ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے، راجہ صاحب کچھ زیادہ ہی مشکل الفاظ استعمال کرنے لگے ہیں یا ہم نالائق ہوگئے ہیں کہ اب تو ان کے اکثر الفاظ ابا جان کی ڈکشنری ’’الفاظ کی پٹاری‘‘ میں بھی نہیں ملتے۔ متفرق میں عدنان ملک کی تحریر ’’اے معلّم تجھے سلام‘‘ پڑھ کر اچھا لگا۔ واقعی اساتذہ ہی تو سنوارتے ہیں ہم جیسے نالائقوں کو۔ عورت زمانہ بھی ہے، زمانہ ساز بھی! بالکل ہماری سوچ کی ترجمانی کرتی تحریر تھی۔ ہم تو لعنت بھی نہیں بھیجتے، اُس ’’تذلیلِ نسواں مارچ‘‘ پر، آئے بڑے خواتین کے ہم درد، ہمارے دوپٹے کی توہین کرنے والے ہمارے خیرخواہ ہو ہی نہیں سکتے۔ ’’آباد‘‘ کے چیئرمین محسن شیخانی کہہ رہے تھے ’’بڑے منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں، لیکن ’’نیب‘‘ سے ڈر لگتا ہے‘‘۔ ارے بھئی،جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہاہاہا. ....؎ رنگت میں اُس کی، رنگ ہیں سارے گُھلے ہوئے… ہائے ہائے، ہمارا تو دل پہ ہاتھ پڑا۔ وہ سبز رنگ کا خُوب صُورت، کام دار ویلویٹ سوٹ تو نظروں سے ہٹ ہی نہیں رہا، مگر… ماں جی نے فوراً ہی مسترد کردیا یہ کہہ کر ’’سُن بی بی! بندے دے کھار جاکے پائیں اے بالشت بھر قمیصاں‘‘ مطلب (شوہر کے گھر جاکر پہننا یہ بالشت بھر قمیصیں) اب مَیں یہ تو کہنے سے رہی کہ اگر ’’بندے کی ماں بھی آپ جیسی ہٹلر کی چاچی نکلی، تو پھر…!‘‘ ہمارے ارمانوں کا تو خون ہو ہی ہو جاناں ہے ناں۔ خیر، جانے دیں یہ ’’امّیاں‘‘ بدلیں گی تھوڑی۔ ناول کے کیا ہی کہنے، بہت ہی زبردست۔ ویسے زہرا کے بیوہ ہونے کی اک کمینی سی خوشی ہوئی ہمیں۔ اور یہ جو کچھ لوگ ناول پر بےجا ہی اعتراضات کرتے رہتے ہیں، بہت بُرے لگتے ہیں ہمیں، بالکل ’’حکومتِ وقت‘‘ کی طرح۔ سچ کہیں تو ہمیں یہ مجاور، مزار بہت پسند ہیں، جس کو پڑھنا ہے پڑھے، نہیں پڑھنا تو ہمیں تو پڑھنے دے۔ (اسماء خان دمڑ،سنجاوی، بلوچستان)
ج:یہ جو تمہاری کترنی کی طرح زبان چلتی ہے، تمہارے لیے کوئی ہٹلر کی چاچی ہی ٹھیک رہے گی۔
فی امان اللہ
اس ہفتے کی چٹھی
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں کتابوں کی سنگت نصیب ہوتی ہے، ہمارا مونس و غم خوار جنگ، سنڈے میگزین ہے کہ جس پر ہمارا مَن ڈولے اور یہ بولے ’’او ہم دَم او ساتھی! مجھے تیری دوستی پہ ناز ہے… تیرا میرا ایسا ناتا، مَیں ساز ہوں تو آواز ہے‘‘۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ’’سلسلۂ غزوات و سرایا‘‘ کی آخری قسط بھی طالبانِ ہدایت اور تشنگانِ علم کے لیے سرمایہ ثابت ہوئی۔ زیرِنظر شمارہ اوّل تا آخروجودِ زن سے رنگا اور سرتاپیر خوشبوئے تکریمِ نسواں میں بسا ہے۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ کی یہ سطور نقرئی قلم سے لکھنے کے لائق ہیں، ’’یہی خواتین پاکستان کا اصل چہرہ ہیں، جو حجاب کو قفس نہیں سمجھتیں، اپنے جسم کو اللہ کی امانت جانتی ہیں اور اُس پر اپنی مرضی نہیں چلاتیں‘‘۔ سارے مرد (99.99؍فی صد) اللہ دے بندے حقوق و احترامِ نسواں کے حامی و علَم بردار ہیں۔ مسئلہ صرف اعشاریہ صفر ایک فی صد اُن حسّاس دل عناصرکاہے، جنہیں بینر بردار مارچیوں کے اندازِ مستانہ (مع سلوگنز) مشتعل کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اشاعتِ خصوصی میں خواتین کے حقِ جائدادکےضمن میں پرُزور قلم اٹھایاگیا۔گویا خوشبو دار الائچی کےساتھ پیار بھرے انداز میں دست بستہ عرض کیا گیا۔ ’’بھاجی! بہناں دا وی حصّہ دیا کرو، کوئی تھوڑ نئیں ہو وے گی‘‘ بال کی کھال کھینچنے والےمحقّق و عرق ریز مضمون نگار، عرفان جاوید نےمحض اِک دانۂ گندم کا ہمیں جو عرفان کروایا، اُس سے ہم نےخوش گوار حیرت سے جانا ’’ننّھے پیٹ کی اتنی بڑی غذائیں‘‘۔ ’’مرکزی صفحات‘‘ میں تصویرِ کائنات میں اپنےخوش نُما وجود سے رنگ بھرنے والے طبقۂ نسواں کی عظمت کو برگ و گل کی بزم سجا کر سلام (از قلم نرجس) پیش کیا گیا۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ میں حکیم صاحب کا حقیقت نامہ بااندازِ ’’محبت نامہ‘‘ لگا اور ڈائجسٹ میں کنول بہزاد کا پورا افسانہ اگرچہ شان دار تھا، مگر اختتام سنگ دلانہ سا لگا۔ شہر فروزاں کے کوچہ نگاراں (آپ کا صفحہ) میں اس بار ملک محمد رضوان تخت نشین تھے، جب کہ نو رتنوں میں رانا شاہد و رانی خاور، پرنس افضل و ڈاکٹر ڈاھا اور برقی و قائم خانی پہلو بہ پہلو متمکّن تھے۔ پاکستان سمیت پوری عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کا طویل لاک ڈائون ختم نہ کروا سکی۔ اس مجرمانہ غفلت پر کورونا وائرس قہر خداوندی بن کرلگ بھگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چُکا ہے۔ رب تعالیٰ کشمیر کی رونقیں بحال کرے۔ (محمد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)
ج:اب تو یہ دُعا کریں کہ کشمیر سمیت ساری دنیا کی رونقیں بحال کرے۔
گوشہ برقی خُطوط
ج: ہاں۔
ج: جی، آپ کا حُکم سر آنکھوں پر۔
ج:جی نہیں۔ آؤٹ سائیڈرز کے لیے معاوضے کا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔
ج: اس حوالے سے ہم فی الحال کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ ہم خود انتظار کر رہے ہیں، آپ بھی کریں۔
ج: جی ہاں، کیوں نہیں۔
ج: ہائے او ربّا.....آپ کے فرمایشی پروگرام۔ دنیا کورونا وبا سے نمٹنے میں ہلکان ہوئی جارہی ہے۔ ایک ہمارے قارئین ہیں کہ انہیں بس ناول کا رونا پڑا ہوا ہے۔ اور ایک سے بڑھ کر ایک نادر و نایاب مشورے الگ۔
قارئین کرام!
ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk