آپ آف لائن ہیں
جمعرات24؍ذیقعد 1441ھ16؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کمرشل فلموں کے نامور ہدایت کار ’’شباب کیرانوی‘‘

پاکستان کی فلمی صنعت میں کمرشل فلم کو ہمیشہ اہمیت اور زیادہ ترکام یابی ملی۔ باکس آفس پر اس سلسلے میں کئی نام ایسے ہیں، جو کمرشل فلم کے ہدایت کار کے طور پر بڑے معتبر سمجھے گئے، ان ہی میں سے ایک نام ہدایت کار شباب کیرانوی کا بھی ہے۔ ہدایت کاری کے علاوہ مصنف، نغمہ نگار، اسکرین پلے رائٹر، مکالمہ نویس اور فلم سازی کے شعبہ جات میں انہوں نے اپنی قلمی اور ذہنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرکے کافی شہرت پائی۔شباب کیرانوی جن کا اصل نام حافظ نذیراحمد تھا، وہ حافظ قرآن تھے۔

معروف فوٹو گرافر اور فلم ساز بھائیا حمید نے اپنی ایک فلم ’’بے درد‘‘ کے لیے ان سے کہانی، مکالمے اور گیت لکھوائے ، لیکن یہ فلم نامکمل رہنے کی وجہ سے ریلیز نہ ہوسکی۔’’ڈائریکٹر‘‘ کی اشاعت نے انہیں فلمی اور ادبی حلقوں میں بے پناہ شہرت دی۔ 1955ء میں نمائش ہونے والی اردو فلم’’جلن‘‘ کے ٹائٹل پرپہلی بار شباب کیرانوی کا نام بہ طور فلم ساز، مصنف اور نغمہ نگار کے آیا۔ یہ فلم بنانے میں بھائیا حمیدکا مکمل تعاون رہا۔ اس فلم میں پہلی بار عنایت حسین بھٹی ہیرو کا کردار ادا کررہے تھے۔ اس کے مقابل نادرہ نامی نئی ہیروئن کو کاسٹ کیا۔ فلم تو ناکام ہوگئی ، لیکن اس فلم نے انہیں ایک نئے حوصلے اورتجربے سے ہم کنار کیا۔ 1956ء میں انہوں نے علی سفیان آفاقی سے ایک مزاحیہ سبجیکٹ پر کہانی لکھوائی اور اسے ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ کے نام سے پروڈیوس کیا۔ 

اداکار کمال کی بہ طور ہیرو یہ پہلی فلم تھی، جنہوں نے آگے چل کر ایک کام یاب ہیرو کا مقام پایا، انہیں دریافت کرنے میں شباب کیرانوی کا ہاتھ تھا۔ ٹھنڈی سڑک میں مسرت نذیر نے ہیروئن کا کردار کیا، جب کہ ظریف، معروف گلوکارہ زبیدہ خانم نے بھی اس فلم میں اہم کردار ادا کیے۔ یہ فلم بے حد کام یاب رہی۔ 1960ء میں طلسماتی فلم ’’گلبدن‘‘ کے وہ فلم ساز تھے۔ یہ فلم بھی بے حد کام یاب رہی۔ مصنف، نغمہ نگار اور فلم ساز کے بعد 1961ء میں پہلی بار ان کا نام بہ طور ہدایت کار فلم ’’ثریا‘‘ کے ٹائٹل پر آیا۔ اس فلم میں نیر سلطانہ نے ثریا کا یادگار کردار کیا۔ یہ اصلاحی ڈراما فلم تھی ،جسے خواتین نے بے حد پسند کیا۔ 

اداکارہ زینت بیگم نے اس فلم میں بی جمالو ٹائپ کا کردار اس خوبی سے کیا کہ انہیں بے حد سراہا گیا۔اس فلم کاایک مقبول عام گانا ’’آج میرے منے کی سالگرہ ہے‘‘ کو بھلا کون بھلا سکتا ہے۔ اسی سال بہ طور فلم ساز ان کی فلم سپیرن بھی ریلیز ہوئی، جس میں اداکارہ لیلی نے ٹائٹل رول کیا اور اداکار حبیب اس فلم کے ہیرو تھے، احمد رشدی کا گایا ہوا یہ گیت ’’چاند سا مکھڑا گورا بدن‘‘ بےحد ہٹ ہوا اور انہیں اس سپرہٹ گیت کی گائیکی پر پہلا نگار ایوارڈ دیا گیا۔

بہ طور فلم ساز ، مصنف اور ہدایت کار ان کی بلاک بسٹر اردو فلم’’مہتاب‘‘ نے کراچی اور لاہور میں شان دار گولڈن جوبلیاں منائیں۔ نیر سلطانہ نے ایک بار پھرثریا کے بعد اس فلم میں ٹائٹل رول میں نہ بھلا دینے والی کردار نگاری کا مظاہرہ کیا، جب کہ علائو الدین نے سڑکوں پر گول گپے بیچنے والے کا یادگار کردار کیا اور ایسے گول گپے بیچے کہ آج تک تمام گول گپے بیچنے والے ان کایہ گانا ’’گول گپے والا آیا گول گپے لایا‘‘ سے اپنی روزی کماتے ہیں۔ اسی فلم کی کہانی کو انہوں نے دوبارہ سسرال کے نام سے لکھی، جس میں اداکار شاہد نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ فلم 1977ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ مہتاب کی ملک گیر کام یابی نے شباب پروڈکشن کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کئی نئے چہرے متعارف کروائے، جن میں مسعوداختر، طارق عزیز، ننھا، علی اعجاز، صاعقہ، زرقا، فرح جلال، روشن، مہتاب بانو، طلعت حسین، آسیہ، غلام محی الدین، روحی بانو، شائستہ قیصر، عمران، وسیم، مینا دائود، شاہنواز گھمن، امبر، علی رضا اور انجمن کے نام شامل ہیں۔

 1963ء میں انہوں نے علائوالدین کو ’’تیس مار خان ‘‘نامی پنجابی فلم میں ٹائٹل رول دیا۔ ان کے مدِ مقابل نئی ہیروئن شیریں کو کاسٹ کیا، یہ حیدر چوہدری کی بہ طور ہدایت کار پہلی فلم تھی۔ اس فلم کی کام یابی کے بعد وہ ایک بہت بڑے کام یاب ہدایت کار بن گئے ۔ اسی سال ان کی فلم ’’ماں کے آنسو‘‘ نے ملک گیر کام یابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ نیلم، بلبل بغداد، شکریہ، لاڈلی، عورت کا پیار، جمیلہ، ملنگ، فیشن، ناچے ناگن باجے بین، وطن کا سپاہی، گھر کا اجالا، آئینہ، میلہ، انسانیت، دل دیوانہ،شباب پروڈکشن کے بینر تلے بننے والی چند قابلِ ذکرفلمیں ہیں۔

1968ء میں انہوں نے اپنے بڑے بیٹے ظفر شباب کے نام سے ظفر آرٹ پروڈکشنز کے بینر تلے فلم ’’سنگدل‘‘ بنائی، جس کے ہیرو ندیم تھے اور اس وقت ندیم نے اس فلم میں کام کرنے کا معاوضہ 70؍ ہزار طلب کیاتھا، جب کہ اس دور میں وحید مراد اور محمد علی 55؍ ہزار روپےمیں سائن ہوتے تھے۔ ندیم کے معاوضے کو دیکھ کر اس وقت کے دیگر ہیروز نے بھی اپنے معاوضے بڑھادیے تھے۔ 1971ء میں اپنے چھوٹے بیٹے نذر شباب کے نام سے نذر آرٹ پروڈکشن کے بینر تلے پہلی فلم ’’گرھستی‘‘ بنائی۔ 

ان باپ بیٹوں کے نام سے بننے و الے تینوں اداروں نے فلمی صنعت کی بے پناہ خدمات دیں۔ اردو سنیما میں ان تینوں اداروں نے بڑی کام یاب، رومانی، نغماتی، گھریلو اور کمرشل فلمیں عوام کودیں، جن کی ایک لمبی فہرست ہے۔ ہمیں یہاں صرف بہ طور ہدایت کار شباب کیرانوی کی فلموں کا تذکرہ مقصود ہے۔

شباب کیرانوی ایک ایسے فلم میکر تھے، جو عوام کی نفسیات کو سمجھتے تھے کہ شائقین سنیما ہال میں تین گھنٹے کس طرح کی فلم کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ان کی ڈائریکشن میں بننے والی زیادہ تر فلمیں فارمولا کہانیوں پر ہوتی تھیں، لیکن فلم کے وائنڈ اپ پر وہ فلم کی تمام کاسٹ کو ایک فریم میں اس خوبی سے پیش کرنے کے ماہر تھے، جو فلم بینوں کو خوشی خوشی سنیما ہال سے نکال کر خوش کردیتی تھی۔ پوری فلم میں اگر کچھ خامیاں اور جھول بھی ہوتے تھے، تو وائنڈ اپ کے منظر کو دیکھ کر فلم بین خوش ہوجاتے تھے اور اس طرح فلم کی خامیوں کو نظرانداز کرکے اس فلم کو کام یاب قرار دیتے تھے۔

انہوں نے اپنی فلمی کہانیوں کو بار بار فلمایا اور کامیابیاں سمیٹیں۔ 1966ء میں انہوں نے فلم ’’آئینہ‘‘ بنائی، جس میں دیبا اور محمد علی نے مرکزی کردار کیے ۔ اسی فلم کو انہوں نے دوبارہ 1977ء میں بیٹی کے نام سے لکھی اور وہ بھی کام یاب رہی۔ ان کی ڈائریکشن میں بننے و الی 1967ء کی فلم ’’انسانیت‘‘ پر بھارتی فلم دل ایک مندر کے چربے کی کاپی کا الزام لگا، جو بالکل صحیح تھا۔ انہوں نے بھارتی فلموں کی کہانیوں کو اپنی فلموں میں ایک مکمل نئے انداز میں پیش کیا۔ وہ اس کام کے بڑے ماہر تھے۔ 

ایک مسالہ کمرشل فلم میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ ان کی ڈائریکشن میں بننے والی چند قابل دید اور سپر ہٹ فلموں میں انسان اور آدمی، انصاف اور قانون، افسانہ زندگی کا، دل ایک آئینہ، من کی جیت، دامن اور چنگاری، پردے میں رہنے دو، آئینہ اور صورت، میرا نام ہے محبت، بے مثال، انسان اور فرشتہ، نشیمن، محبت ایک کہانی، شمع محبت، سہیلی، انمول محبت، وعدے کی زنجیر، دو راستے، لاجواب، یہ زمانہ اور ہے اور ایک دن بہو کا کے نام شامل ہیں۔ 

شباب کیرانوی خودساختہ ون میں شو نہ تھے، بلکہ حقیقی معنوں میں اپنی فنی اور ادبی صلاحیتوں سے فلمی صنعت کے ون مین شو بن کر ابھرے، نہ ہی وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے۔ ان کے و الد حافظ اسماعیل، لاہور کے ایک محلے کی مسجد کے پیش امام تھے اور اسی محلے میں ان کی ایک چھوٹی سی باربر شاپ تھی، جہاں پر اس دور کی نامور ادبی اور سیاسی اور فلمی شخصیات شیو اور بال کٹوانے آیا کرتے تھے۔ لڑکپن سے شباب صاحب کو شعر و شاعری اور افسانہ نگاری سے دل چسپی ان شخصیات کی دکان پر آمد سے پیدا ہوگئی تھی۔ 

والد کے انتقال کے بعد نہ صرف دکان کی تمام ذمے داری ان پر آن پڑی، بلکہ مسجد میں ماہ رمضان میں وہ تراویح بھی پڑھانے لگے۔ یہ وہ دور تھا، جب نذیر احمد نے شباب کیرانوی کی جانب اپنے سفر کا آغاز کردیا تھا اور پھر رفتہ رفتہ وہ آسمان فلم پر اس ستارے کی مانند نمودار ہوئے، جہاں لوگ انہیں صرف اور صرف شباب کیرانوی کے نام سے جاننے لگے۔ حافظ نذیر احمد گمنام ہو کر شباب کے نام سے شہرت کے آسمان پر پہنچ گئے۔ بھائیا حمید اور چوہدری فضل حق ان کے دیرینہ ساتھی تھے، جنہوں نے نذیر احمد کو شباب کیرانوی بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

شباب کیرانوی نے فلموں میں مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کی۔ وہ خود بھی ایک معتبر مصنف، مکالمہ نویس، نغمہ نگار اور اسکرین پلےرائٹر تھے۔ اس وجہ سے اسکرپٹ کی نفسیات اور عوامی ڈیمانڈ کو خوب سمجھتے تھے ،ان کی فلموں میں جہاں ہمیں عام فارمولا کہانیاں اور سبجیکٹ دکھائی دیتے ہیں، وہاں پر کچھ معاشرتی، نفسیاتی اور گھریلو موضوعات بھی نظر آتے ہیں۔ المیہ، سنجیدہ، رومانی اور مزاحیہ موضوعات کو انہوں نے بڑے موثر انداز میں اپنی فلموں میں پیش کیے۔ 

انسان اور آدمی، افسانہ زندگی کا، انصاف اور قانون، دل ایک آئینہ، انسان اور فرشتہ کو ان کی منفرد فلموں کا اعزاز حاصل ہے۔ مزاحیہ موضوع پر انہوں نے پردے میں رہنے دو، آئینہ اور صورت اور نشیمن جیسی فلموں کی ڈائریکشن دیں، جب وہ کسی رومانی موضوع پر فلم بناتے تھے، تو میرا نام ہے محبت جیسی شہرہ آفاق فلم بناتے تھے،جو نہ صرف پاکستان میں بلکہ چین میں بھی بے حد پسند کی گئی۔ اس دور میں اسٹار سسٹم کے تصور کے بنا فلم بنانا سراسر گھاٹے کا سودا ہوتا تھا۔ 

انہوں نے ٹی وی کی اداکارہ اور ماڈل بابرہ شریف اور ٹی وی اداکار غلام محی الدین کو لےکر یہ فلم بنائی، جس نے ہرطرف کام یابی حاصل کی۔ ایک کام یاب مصنف، فلم ساز اور ہدایت کار کے ساتھ انہوں نے تین بڑے مضبوط اور مستحکم فلمی ادارے شباب پروڈکشن، ظفر آرٹ پروڈکشنز، نذر آرٹ پروڈکشنز جیسے ادارے بھی قائم کیے۔ ستر کی دھائی میں انہوں نے اپنا ایک ذاتی اسٹوڈیو شباب کے نام سے قائم کیا، جہاں خوب صورت آئوٹ ڈور لوکیشن پر فلموں کی شوٹنگیں ہونے لگیں۔ 1982ء میں شباب کیرانوی اپنی چار بیٹیوں اور دو بیٹوں اور سیکڑوں چاہنے والوں کو سوگوار کرکے اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید