آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایسے عالم میں جب پوری دنیا کووڈ انیس نامی عالمی وبا سے نبرد آزما ہے، جنگی جنون میں مبتلا بھارت اپنے دگرگوں معاشی و سماجی حالات اور اندرونی خلفشار و انتشار سے توجہ ہٹانے کے لیے سرحدوں پر کشیدگی کو مسلسل ہوا دے رہا ہے۔ بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت کی بڑھکوں سے وزیراعظم عمران خان کے فالس آپریشن جیسے خدشات تقویت پکڑ رہے ہیں جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحریک آزادی کی لہر میں حالیہ تیزی نے بھارت کو حواس باختہ کر دیا ہے جس کا مظاہرہ آئے روز کنٹرول لائن پر شہری آبادی پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ و گولہ باری کی صورت دنیا کے سامنے ہے، بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ پیر کے روز بھی جاری رہا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج نے کھوئی رٹہ سیکٹر کے سرحدی علاقوں چتر، ججوٹ بہادر، بھینسہ گالہ اور جگالپال میں شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی جس سے ایک 75سالہ شخص ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہو گیا جس کو فوری طور پر ٹی ایچ کیو اسپتال پہنچایا گیا۔ پاک فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد بھارتی گنیں خاموش ہو گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ اور بھاری ہتھیاروں سے ایک مکان کو بھی نقصان پہنچا۔ پاکستان نے سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔ یہ اقدامات 2003ء کے جنگ بندی معاہدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین کی خلاف ورزی ہیں جبکہ بھارتی قابض فوج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر شہری آبادی کو آرٹلری اور بھاری ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنا رہی ہے اور رواں برس ابتدائی پانچ ماہ کے دوران ہی بھارت 1081مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی عزائم کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت کو علاقائی امن و استحکام کے مفاد میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا پابند بنانا چاہیے۔