آپ آف لائن ہیں
اتوار 8؍ شوال المکرم 1441ھ 31؍مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈراموں کا معیار بہتر کرنا اداکاروں کا نہیں، اداروں کا کام ہے: یاسر حسین

پاکستان ٹی وی انڈسٹری کے معروف کامیڈین اداکار یاسر حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈراموں کا معیار بہتر کرنے کیلئے اداکاروں کا نہیں بلکہ اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل یاسر حسین نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ’ارطغرل غازی‘ کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا تھا کہ سرکاری ٹی وی کو چاہیے کہ وہ ایک تاریخی ڈرامہ بنائے اور اپنے فنکاروں اور تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کرے۔

یہ بھی پڑھیے: یاسر حسین کا سرکاری ٹی وی کو مشورہ

اداکار کے اس مشورے پر ساتھی اداکاروں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا اور عثمان خالد بٹ، مایا علی، احمد علی بٹ، علی کاظمی، گوہر رشید سمیت نیلم منیر نے بھی پاکستان میں اس طرح کا اپنا مواد تیار کر کے نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں بھی ’ارطغرل غازی‘ جیسے ڈرامے بننے چاہئیں: نیلم منیر

ان تمام شوبز شخصیات کی خواہش کے جواب میں یاسر حسین نے ایک اور انسٹاگرام اسٹوری شیئر کی ہے ۔

انہوں نے اپنی اسٹوری میں لکھا کہ ’جو اداکار کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنا مواد بہتر کرنے کی ضرورت ہے تو کیا وہ سیٹ پر جا کر ڈرامے کا مواد بہتر کرلیتے ہیں؟‘

یاد رہے کہ یاسر نے ’ارطغرل غازی‘ سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’لنڈے کےکپڑے اور ترکش ڈرامے دونوں ہی ہماری مقامی انڈسٹری کو تباہ و برباد کردیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے: ’ارطغرل غازی‘ پر تنقیدجبران ناصر کو مہنگی پڑ گئی

یاد رہے کہ اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق تُرک سیریز ’دیرلیش ارطغرل‘ کو وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر اُردو زبان میں ڈب کرکے یکم رمضان سے ’ارطغرل غازی‘ کے نام سے سرکاری ٹی وی پر نشر کیا جارہا ہے لیکن اِس تُرک سیریز کے پاکستان میں نشر کیے جانے پر کچھ پاکستانی فنکار خوش نظر نہیں آرہے ہیں۔

اِن ناخوش پاکستانی فنکاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کو غیر ملکی ڈرامہ نشر کرنے کے بجائے اپنے تاریخی ڈرامے بننانے کی ضرورت ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید