آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیراعظم عمران خان نے درست نشاندہی کی کہ کورونا وائرس ایک عالمی وبا ہے، اس لئے پوری دنیا کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ بدھ کے روز عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) میں کوویڈ ایکشن پلیٹ فارم سے وڈیو لنک پر خطاب میں ان کا یہ موقف بالکل واضح تھا کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سمیت تمام ریاستیں ایک دوسرے سے الگ الگ نظر آتی ہیں مگر آخری تجزیے میں سب ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور نئے عالمی چیلنج میں ان کا ردِعمل مشترکہ ہونا چاہئے۔ ترقی پذیر ممالک کو کورونا وائرس کیساتھ غربت کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ جس سے نمٹنے کیلئے انہیں قرضوں میں رعایت کی ضرورت ہے تاکہ ان کیلئے اپنے محدود وسائل کا قدرے زیادہ حصہ صحت کے معاملات اور ماحولیاتی امور کی بہتری پر صرف کرنا ممکن ہو ۔ امر واقع یہ ہےکہ اس وقت دنیا کو جس چیلنج کا سامنا ہے وہ پہلی اور دوسری عالمگیر جنگجوں سے زیادہ سنگین اور ہمہ پہلو ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افرادکی تعداد نصف کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اورہلاکتوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ یہ تعداد بدھ کو 1506نئے کیسز آنے کے بعد 47282اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 1009ہوگئی۔ منگل کے روز کورونا وائرس نے 50افراد کی جان لی تھی

جبکہ بدھ کو 23افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ اس دوران طبی کاوشوں اوراحتیاطی تدابیر کے نتیجے میں 13101افراد صحت یاب ہوئے مگر پاکستان جیسے کم وسیلہ اورمقروض ملک میں جہاں ڈھائی کروڑ افراد یاتویومیہ مزدوری کے معاوضے پر اپنے خاندانوں کی ضروریات کے لئے انحصار کرتے ہیں یا کاریگر ہیں، یہ ممکن نہیں کہ اتنی بڑی آبادی کو ہر قسم کے کام کاج سے روک کر حکومت غیر معینہ مدت تک ضروریات زندگی فراہم کر سکے۔ اس لئے معاشی سرگرمیاں شروع کئے بغیر چارہ نہیں۔ کیونکہ سردست بھوک سے بچنے کی یہی صورت ہے ۔ لاک ڈائون کو نرم کرنا ایسی مجبوری بن چکا ہے جس کے باعث بہت سے ممالک اپنی معاشی اور دوسری سرگرمیاں پہلے ہی احتیاطی تدابیر کے ساتھ شروع کر چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ترقی یافتہ ملکوں کے وسائل و حالات سے ترقی پذیر ملکوں کے حالات کا جب موازنہ کررہے تھے تو شاید اس کے پس منظر میں تاریخ کا یہ سبق کارفرما تھا کہ جب دولت مندی و غربت اور طاقت و کمزوری کا فرق بہت بڑھ جاتا ہے تو جنگیں، بحران، بغاوتیں اور المیے جنم لیتے ہیں۔ ایسے موقع پر طاقتور کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے زر و مال کی حفاظت کیلئے کمزوزر کو اتنا کمزور نہ کرے کہ محرومی کا مداوا کرنے کے لئے کمزورخود اٹھ کھڑا ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام اگرچہ دولت کے ارتکاز کی بنیادوں پر قائم ہے مگر کئی مواقع پر اس نظام کو چلانے والی طاقتوں ، کمپنیوں اور اجارہ داروں نے لوگوں کی بنیادی ضرورتوں اور سماجی انصاف کے حوالے سے ایسی نظیریں قائم کیں جنہوں نے نہ تو احساس محرومی کو ردعمل میں تبدیل ہونے کا موقع دیا نہ ہی نظام کسی سنگین خطرے سے دوچار ہوا۔ اسکنڈے نیویا سمیت متعدد ممالک میں تو سرمایہ دارانہ نظام کو عام لوگوں کی اقتصادی بہتری کی تدبیروں سے آمیز کرکے مستحکم کیا گیا ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے درمیان حالات کے یکسر اختلاف کی موجودگی میں کورونا اور غربت دونوں ہی ایسے چیلنج ہیں جن سے نمٹنے کے لئے اقوامِ متحدہ اور معاشی دانشوروں کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور جس طرح 1945میں جنگوں سے بچائو کے لئے اصول وضع کئے گئے تھے اسی طرح موجودہ بحران جیسی کیفیت سے نکلنے کے ادارے اور بین الاقوامی قوانین بنانے پر فوری توجہ دی جانی چاہئے۔