آپ آف لائن ہیں
جمعہ6؍شوال المکرم 1441ھ 29؍ مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اپنی شہرت کو دوسروں کی مدد کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہوں، شیریں جہانگیر

لندن (انٹرویو: مرتضیٰ علی شاہ) موسیقی کی دلدادہ برٹش پاکستانی ٹین ایج شیریں جہانگیر، جس نے برٹین گوٹ ٹیلنٹ کے ججز کو مسحور کر دینے کے بعد عالمی شہرت حاصل کر لی، کہا ہے کہ دنیا بھر میں اپنی پرفارمنس کو سراہے جانے کے باعث میں جذبات سے انتہائی مغلوب ہوں۔ نارتھ لندن میں اپنے گھر پر جنگ اور جیو کو دیئے گئے ایک ایکسکلوزو انٹرویو میں شیریں نے کہا کہ اپنے لیونگ روم میں اپنے بھائیوں کیلئے گانا گانے کے بعد لاکھوں افراد کی موجودگی میں لائیو گانا گا کر اور دنیا بھر میں مزید سراہے جانے سے میری زندگی اچانک تبدیل ہو گئی ہے۔ 14 سالہ شیریں 10 سال کی عمر میں اپنی بینائی سے محروم ہو گئی تھی مگر اس کا کہنا ہے کہ موسیقی اس کا وژن ہے۔ میں نے کبھی بھی ایسا نہیں سوچا تھا۔ میں نے موسیقی پر 10 سال کی عمر میں سنجیدگی سے توجہ دینی شروع کی۔ میری فرینڈز پوچھتی تھیں کہ میں پرفارم کیوں نہیں کرتی اور اب میں اس مقام پر ہوں، یہ سب ناقابل یقین ہے۔ میں گزشتہ سال اپنی فرینڈز کے ہمراہ بی جی ٹی پر گئی تھی اور انہوں نے مجھے پرفارم کرنے کیلئے کہا۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں نے تو صرف سکول شو کیلئے پرفارم کیا ہے اور بی جی ٹی تو بہت بڑا پلیٹ فارم ہے۔ شیریں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں اپنی موسیقی کے ذریعے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے میں کامیاب رہی، یہ ناقابل یقین ہے۔ اس نے کہا کہ میں اپنی شہرت کو دوسروں کی مدد کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہوں۔ واضح رہے کہ شیریں وزیراعظم عمران خان کے ایک پرانے دوست اور برطانیہ و یورپ میں تجارت اور سرمایہ کاری پر ان کے ترجمان صاحبزادہ جہانگیر کی پوتی ہیں۔ شیریں نے بتایا کہ عمران خان کئی برس قبل ہائیڈ پارک کے نزدیک ہمارے گھر آئے تھے اور میں ان سے ملی تھی۔ اس وقت شیریں کی ایک آنکھ ٹھیک تھی، بعد ازاں اس کے والدین سینٹرل لندن سے نارتھ لندن منتقل ہو گئے تاکہ اس کو ایسے سکول میں داخل کرایا جا سکے جہاں بینائی سے محروم بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس نے کہا کہ میں مخیرانہ کاموں کیلئے عمران خان کے نقش قدم پر چلنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے چیرٹی کے شعبہ میں بہت کام کیا ہے۔ شیریں نے مزید کہا کہ میں بی جی ٹی میں سلیبرٹی بننے کیلئے نہیں بلکہ میں اس پلیٹ فارم کے ذریعے دوسروں کی مدد کیلئے کام کرنا چاہتی ہوں، میں اس پلیٹ فارم سے یہ مدد چاہتی ہوں کہ زندگی میں معذوری کا سامنا کرنے والے لوگوں کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈال سکوں۔ وہ 2005 میں لندن میں پیدا ہوئی، پانچ سال کی عمر سے اس کی بصارت کمزور ہونا شروع ہوگئی مگر وہ سپورٹس اور ڈانسنگ سمیت ہر سرگرمی میں متحرک رہی۔ اس نے ماضی میں جھانکتے ہوئے بتایا کہ موسیقی کس طرح اس کی پوری زندگی میں اس کا شوق رہی۔ موسیقی کیلئے مجھے کبھی جدوجہد نہیں کرنی پڑی، کیونکہ میں نے اپنی پوری زندگی موسیقی کے ساتھ گزاری ہے۔ جب میں چھوٹی سی تھی تو پرنس کی میوزک سنا کرتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ گاتی تھی۔ جب میری بینائی ضائع ہوئی تو میں نے موسیقی پر زیادہ توجہ دینی شروع کی، میں نے موسیقی لکھنی اور پیانو بجانا شروع کر دیا تاکہ اپنی مشکلات پر توجہ مرکوز کر کے موسیقی کے ذریعے اس کا اظہار کر سکوں۔ اپنے انکل دل دل پاکستان فیم مرحوم پاپ سٹار جنید جمشید کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس نے کہا کہ وہ حیران کن آدمی تھے۔ وہ جب بھی لندن آتے تھے، مجھ سے ضرور ملتے تھے۔ وہ ہمیشہ مجھے نصیحت کرتے تھے کہ کبھی مایوس نہ ہونا، مجھے افسوس ہے کہ میں اس وقت موسیقی میں اتنی مصروف نہیں ہوئی تھی جتنی اب ہوں۔ وہ ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ شیریں دنیا بھر کے ناظرین سے ملنے والی محبت اور توجہ سے مغلوب ہے۔ اس نے بتایا کہ سوشل میڈیا سے اسے بہت ترغیب مل رہی ہے۔ اس نے بتایا کہ میرے والد اور دادا نے دو باتیں بتائی ہیں، ہمیشہ خوش رہو، شکر ادا کرو اور کبھی بھی مایوس نہ ہو، میں نے دونوں باتوں کو اپنی گرہ میں باندھ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں اس مقام پر ہوں۔ پاکستان میں تمام لوگوں کو میرا پیغام ہے کہ میں آپ لوگوں سے ملنے والی محبت اور سپورٹ پر بہت شکر گزار ہوں۔ شیریں ہٹ ٹیلنٹ شو اس وقت سے دیکھتی رہی ہے جب اس کی عمر سے پانچ سال تھی۔ اس نے بتایا کہ میری فیملی نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی کہ کبھی بھی زندگی میں نئے تجربات سے خوف زدہ نہ ہونا۔ پاکستان سے ملنے والی محبت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے شیریں کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ پاکستانی میڈیا نے اس وقت اس کے بارے میں خبریں دینی شروع کیں جب دی نیوز اور جیو نے پہلی بار اپنی نشریات میں بتایا کہ 14 سالہ برٹش پاکستانی نابینا لڑکی نے بی جی ٹی پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ شیریں نے بتایا کہ مجھے پاکستان سے ملنے والی محبت کے بارے میں اس وقت تک علم نہیں تھا جب میرے والد نے مجھے پاکستانی پریس سے خبریں سنائیں۔ اس نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا اور اس ہفتہ بہت لوگ مجھے جانتے اور سپورٹ کا اظہار کرتے ہیں۔ میں پاکستان سے ملنے والے پیارو محبت پر انتہائی شکرگزار ہوں۔ اس نے کہا کہ اب میں کہہ سکتی ہوں کہ میں اپنے دادا سے مقابلہ کر رہی ہوں، کیونکہ پہلے صرف وہی پریس کی زینت بنتے تھے۔ شیریں مستقبل قریب میں پاکستان جانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، اس نے بتایا کہ وہ کئی سال سے پاکستان نہیں گئی مگر اب انشااللہ جلد جائے گی۔ شیریں اردو گانے نہیں گا سکتی مگر وہ پاکستانی موسیقی سنتے ہوئے پلی بڑھی ہے اور پاکستانی موسیقی کو متعارف کرانے کا کریڈٹ (جناح سے قائداعظم فیم) اپنے انکل شیری جہانگیر کو دیتی ہے۔ میرے ڈیڈ کو 80 کی دہائی میں موسیقی سے شغف ہوا مگر میرے انکل نے ڈھیروں پاکستانی موسیقی بالخصوص جنون سنائی۔ ان کی ہر موسیقی میں لفظ پاکستان آتا تھا۔ بینائی سے محروم ہونے سے قبل شیریں کے والدین اسے دنیا بھر میں گھمانے لے گئے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ دنیا کتنی خوبصورت ہے مگر شیریں نے بتایا کہ اس نے اس حقیقت کے بارے میں پریشان ہونے کی بجائے کہ وہ اپنی بینائی سے مکمل طور پر محروم ہو جائے گی، ان ٹرپس پر توجہ مرکوز کی۔ میں نے کبھی مشکلات اور پریشانیوں پر توجہ نہیں دی۔ میں نے ہمیشہ مثبت انداز فکر اختیار کیا اور بی جی ٹی جا کر میں نے لوگوں کو انسپائر کرنے کی کوشش کی۔ اپنے پلنے بڑھنے کے وقت میں نے اپنی بینائی پر بہت انحصار کیا۔ جب میں اپنی بینائی سے محروم ہوئی تو میرا انحصار سینس پر تھا اور اسی چیز نے مجھے قابل تعریف بنایا، جس کیلئے میں شکرگزار ہوں۔ برٹین گوٹ ٹیلنٹ پر اپنی پوتی کی سپر ہٹ پرفارمنس کے بعد جنگ اور جیو سے گفتگو کرتے ہوئے صاحبزادہ جہانگیر نے اپنی خوشی اور ہیجان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ شیریں نے لاکھوں افراد کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ وہ سپر ٹیلنٹیڈ اور انتہائی پسند کی جانے والی لڑکی کی حیثیت سے پراعتماد ہے اور دنیا میں اچھائی کا پیغام پھیلانا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ اور جیو میں شیریں کی مقابلہ میں شرکت کی خبر شائع ہونے کے بعد ہمیں ہزاروں پاکستانیوں کی جانب سے سپورٹ کے پیغامات موصول ہوئے جو اس کی کامیابیوں پر فخر محسوس کر رہے تھے۔ پاکستان سے ملنے والے سپورٹ کے پیغامات تمام پس منظر کے حامل افراد، فیملیز اور دوستوں کی جانب سے بھیجے گئے تھے۔