آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کاریں کرائے پر دینے والا گروپ ہرٹز دیوالیہ پن کیلئے فائل

نیو یارک : جیمز فونٹانیلا

امریکی ارب پتی تاجر کارل آئیکن کے تعاون سے کار کرایہ پر دینے والا گروپ ہرٹز دیوالیہ پن کے لئے فائل ہونے کے بعد کورونا وائرس وبائی امراض کے اثرات کے سبب کاروبار سے بے دخل ہونے والی معروف امریکی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہوگیا۔

فلوریڈا میں قائم کمپنی نے کہا کہ اس کے امریکی اور کینیڈا کے ذیلی اداروں نے اپنے 11 قرض دہندگان کو آخری تاریخ پر ادائیگی کوپورا کرنے میں ناکام ہونے کے بعد چیپٹر 11 کے دیوالیہ پن کے لئے درخواست دائر کی تھی۔ہرٹز نے گزشتہ ماہ کے آغاز میں ادائیگی نہیں کرسکا تھا تاہم اس کے قرض دہندگان نے جمعہ کے روز ادائیگی ملتوی کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

دیوالیہ پن کیلئے درخواست دینےسے ہرٹز کی یورپی ، آسٹریلیائی اور نیوزی لینڈ کی کارروبار پر اثر نہیں پڑتا ہے۔

ہرٹز نے کہا کہ سفر کرنے کی طلب پر کوویڈ ۔19 کا اثر اچانک اور ڈرامائی تھا ، جس سے کمپنی کی آمدنی اور مستقبل کی بکنگ میں اچانک کمی واقع ہوئی۔

کورونا وائرس ، جس نے دنیا بھر میں حکومتوں کو لاک ڈاؤن کرنےاور بین الاقوامی سفر میں عارضی تعطل پیدا کرنے پر مجبور کیا ہے ، نے حالیہ ہفتوں میں دنیا کی سب سے بڑی کار کرایہ پر دینے والی کمپنیوں کے مابین ایک بحران پیدا کردیا ہے جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ دوسری کمپنیاں بھی دیوالیہ پن کے لئے فائل کرنے پر مجبور ہوجائیں۔

امریکا اور یورپ میں کرائے کی کاروں کے منافع کیلئے ہوائی اڈوں پر انحصار ہے،جو ان کے کاروبار کا دو تہائی حصہ ہے۔تاہم چونکہ سفری پابندیوں کے باعث فلائٹس کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔رینٹل گروپس کی آمدنی تیزی سے کمی دیکھی گئی۔

ہرٹز ، جس پر تقریبا 19 ارب ڈالر کا قرض ہے ،کورونا وائرس کے ٹریول انڈسٹری کو روکنے سے کافی پہلے ہی اپنے کاروبار کی تنظیم نو کی کوشش کررہا تھا ،چونکہ کرایہ پر لینے والا گروپ ایویس اور اوبر جیسے بڑے حریفوں سے بڑھتے ہوئے مقابلہ کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لئے جدوجہد کر رہا تھا۔

اپریل میں اس کمپنی ، جس میں مسٹر آئکن 39 فیصد حصص کے ساتھ سب سے بڑا شیئر ہولڈر ہیں ، نے صحت اور معاشی بحران کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش میں اپنی امریکی افرادی قوت کے ایک چوتھائی سے زیادہ 10،000 ملازمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا۔

وبائی مرض کا اثر عالمی سطح پر کرائے کی کارکے پورے شعبے پر پڑ رہا ہے۔

امریکہ میں ایویس نے پہلی سہ ماہی میں 158 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا، جس نے اپریل میں فروخت میں 80 فیصد کمی اور اپریل اور جون کے درمیان 800 ملین ڈالر کی نقد رقم کم ہونے کی وارننگ دی ۔

صنعت کے سب سے بڑے گروہ ،نجی ملکیت انٹرپرائز نے کہا کہ اسے نمایاں اور بے مثال چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔

یوروپ میں جرمنی کے سکسٹ کار ہائر کو 1.6 ارب ڈالر کا قرض لینے کے لئے مجبور ہوا تاکہ بحرانی کیفیت مدد لے سکے ، جبکہ پیرس میں قائم یوروکار نے اپنے بینکوں کے 220 ملین ڈالر کے قرض بروئے کار لایا۔

امریکی گروپس اپنے کاروباری ماڈل کی وجہ سے اپنے یورپی ہم منصبوں کی نسبت زیادہ شدید متاثر ہوئے ہیں۔امریکی گروپس مکمل طور پر نقد کاروں کی خریداری کرتے ہیں،بعد کی تاریخوں میں گاڑیوں کو فروخت کرنے کی انہیں ذمہ داری دیتے ہیں۔یہ ماڈل فعال سیکنڈ ہینڈ کار مارکیٹ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

یورپی گروہ واپس خریداری ماڈل کے حامی ہیں ، جہاں رینٹل کمپنیاں گاڑیاں اس معاہدے کے ساتھ لیتی ہیں کہ کار ساز انہیں مقررہ تاریخ اور قیمت پر واپس خریدے گا۔ یہ رینٹل گروپس کو استعمال شدہ کاروں کی قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیوں سے بچاتا ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید