آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ابھی میں کالم لکھنے بیٹھا، نہ جی چاہ رہا تھا اور نہ کوئی موضوع ذہن میں تھا، رات کو صحیح طرح سو نہیں سکا تھا، رات کو صحیح سو نہ سکنا اور لمبی تان کر نہ سونا، دونوں صورتوں میں فرائضِ منصبی ادا نہیں ہو سکتے۔ تاہم میں اس حوالے سے بہت خوش نصیب ہوں کہ کسی بھی مشکل وقت میں میرے پیر و مرشد سائیں کوڈے شاہ میرے کام آتے ہیں، چنانچہ میں نے انہیں صورتحال بتائی اور دعا کی درخواست کی، فرمایا میں نے تمہارے دونوں مسئلے سن لیے ہیں، دعا بھی کروں گا اور مدد بھی۔ میں نے عرض کی ’’آپ اس حوالے سے میری مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘ بولے ’’میں تمہیں موضوع بتاتا ہوں اور اس سے پہلے یکسوئی کے لیے ایک آسان سا طریقہ بھی‘‘۔ انہوں نے آسان سا طریقہ یہ بتایا کہ کالم لکھنے سے پہلے کسی پاکیزہ کاغذ پر صرف تین دفعہ میرا نام لکھو۔ میں نے پاکیزہ کاغذ کی تعریف پوچھی تو فرمایا ’’ہر وہ کاغذ پاکیزہ ہے جو تم جیسے لوگ کالم لکھنے کے لیے استعمال کرتے ہو‘‘۔ یہ بڑی کڑی شرط تھی، مگر خوشی قسمتی سے میرا دھیان کچن رول اور ٹائلٹ پیپر کی طرف گیا، میں نے کچن رول سے ایک ٹکڑا الگ کیا اور اس پر تین دفعہ پیر سائیں کا نام لکھ کر انہیں بتایا کہ مرشد پہلی شرط میں نے پوری کر دی ہے، اب موضوع کے حوالے سے بھی رہنمائی فرما دیں۔

یہ سن کر وہ جلال میں آگئے، بولے ’’ایک تو نِکے سائیں نے سردائی صحیح طرح گھوٹی نہیں، چنانچہ ابھی تک عرش کے بجائے فرش پر ہوں، اوپر سے تمہیں بتانا پڑ رہا ہے کہ کالم میں برکت میری کرامتوں کے بیان سے پیدا ہوگی‘‘۔ میں نے لجاجت سے معافی مانگی اور کہا ’’پیر سائیں میرے ذہن میں بھی یہ بات آئی تھی مگر آپ کی ساری کرامتیں عوام کے سامنے بیان کرنے والی نہیں ہیں، آپ ہی تو کہا کرتے ہیں کہ ’خاصاں دی گل عاماں اگے نئیں کری دی‘ اس لئے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آپ کی کس کرامت کا ذکر کروں اور کس کرامت کو گول کر جائوں‘‘۔ بولے ’’تمہیں تو پتا ہے کہ میری دعا سے کتنی بےاولاد عورتوں کے ہاں اولاد ہوئی‘‘۔ میں نے کہا ’’جی مرشد! میں اس کا چشم دید گواہ ہوں، بس یہ رہنمائی فرما دیں کہ اس نابکار عورت کا ذکر تو نہیں کرنا، جس نے آپ کے خلاف پرچہ کٹوانے کی کوشش کی تھی‘‘۔ اس پر مرشد کی بیٹھی بیٹھی آواز سنائی دی ’’اس بیوقوف کو اپنے کئے کی سزا خود ہی مل گئی تھی، وہ دو دفعہ تھانے گئی تھی اور اس وقت سے وہ تھانیدار کے خلاف پرچہ کٹوانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے‘‘۔ میں نے عرض کی جی مرشد مجھے یاد ہے، آپ بھی بندہ کوندہ دیکھ کر اپنی کرامت کا مظاہرہ کیا کریں۔ اس پر پیر سائیں کچھ خاموش ہو گئے۔ میں نے عرض کی ’’اگر آپ اجازت دیں تو آپ کی اس کرامت کا حوالہ دوں جو ایک سائل کا پرائز بانڈ نکلنے کے حوالے سے تھی؟‘‘ فرمایا ’’رہنے دو! اس کی قسمت ہی اچھی نہیں تھی، میں نے پوری محویت کے عالم میں اس کے پرائز بانڈ نکلنے کی دعا کی تھی، مگر جب وہ درگاہ سے باہر گیا اور جیب میں ہاتھ ڈالا تو اسے پتا چلا کہ اس کا پرائز بانڈ نکل گیا ہے۔ میری دعا پوری ہو گئی تھی، اس کا بانڈ نکل گیا تھا نا، مگر وہ بدبخت نِکے سائیں پر شک کرتا رہا، جس پر میرے مریدوں نے اس گستاخی پر اسے خاصا زد و کوب کیا تھا‘‘۔

اب میں خاصی مشکل میں آگیا، بے دینی کا دور دورہ ہے، لوگوں کے ایمان ڈانواں ڈول ہیں، چنانچہ میں نے مرشد سے درخواست کی کہ وہ خود ہی بتا دیں کہ میں کیا لکھوں؟ فرمایا ’’چلو میں بتائے دیتا ہوں کہ ان دنوں کورونا کے مریض دعا کے لیے میرے پاس آ رہے ہیں، میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ پرہیز صرف یہ ہے کہ دوا کے پاس بھی نہیں پھٹکنا، کہ یہ دعا پر عدم اعتماد کا اظہار ہے سو وہ ایسا ہی کرتے ہیں اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ کبھی دوبارہ واپس نہیں آتے‘‘۔ میں نے عرض کی ’’ماشاء اللہ، آپ کی دعائوں کی تاثیر کا زمانہ قائل ہے، مگر کل نِکا سائیں آپ کی سردائی کا سامان لینے نکلا تھا تو میری اس سے ملاقات ہوئی، اس نے بتایا کہ کچھ دنوں سے آپ کو تیز بخار ہے، خشک کھانسی بھی آ رہی ہے اور آپ نے کورونا ٹیسٹ کے لیے اپنا سیمپل بھی جمع کرایا ہے، ابھی رپورٹ نہیں ملی‘‘۔ پیر و مرشد کو میری یہ بات اچھی نہیں لگی، جلال میں آگئے، مگر یہ جلال بخار زدہ سا تھا، کہنے لگے ’’میں تم جیسے کمزور ایمان والے شخص کو اپنے حلقۂ ارادت میں شامل نہیں کر سکتا۔ تم نِکے سائیں کو نہیں جانتے، وہ آج کل پیر بودی شاہ کے پاس بھی جا رہا ہے، پیر بودی شاہ مجھے اپنا حریف سمجھتا ہے اور اس طرح کی افواہیں وہ نِکے سائیں کے ذریعے پھیلا رہا ہے‘‘۔ مجھے یہ سن کر بہت دکھ ہوا، میں نے عرض کی ’’مرشد مجھے اپنے حلقۂ ٔارادات سے خارج نہ کریں، میں تو آپ کی کرامتوں کا چشم دید گواہ ہوں، آپ نِکے سائیں کا داخلہ بند کریں‘‘۔ اس پر پیر سائیں کی مریل سے آواز آئی، وہ کہہ رہے تھے کہ ’’دل تو میرا بھی یہی چاہتا ہے مگر پھر خیال آتا ہے کہ میرے ٹھکرائے ہوئے کو کون منہ لگائے گا‘‘۔ دراصل نِکا سائیں مجھ سے زیادہ پیر سائیں کی کرامتوں کا چشم دید گواہ ہے اور بڑبولا بھی ہے!

بہرحال قارئین کرام!آج میرے کالم کا ناغہ ہی سمجھیں، مرشد کی ناراضی سے میرا دل بھی مر گیا ہے، اس عالم میں انسان کیا لکھ سکتا ہے؟