آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سماجی کارکن ٹمیکا میلوری کی تقریر انٹرنیٹ پر وائرل

سماجی کارکن ٹمیکا میلوری کی تقریر انٹرنیٹ پر وائرل


امریکا میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف  سماجی کارکن ٹمیکا میلوری کی تقریر انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی ہے جس میں انہوں نے انتہا پسند سفید فام افراد کو مخاطب کرکے کہا کہ ہم نے تشدد آپ سے سیکھا ہے۔

سماجی کارکن نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ عمارتیں اس لیے جل رہی ہیں کیونکہ یہ شہر، یہ ریاست سفید فاموں کی بالادستی کے مائنڈ سیٹ کو محفوظ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں بجائے اس کے ان چار اہلکاروں پر قتل کا الزام عائد کیا جاتا، انہیں گرفتار کیا جاتا جنہوں نے ایک بے گناہ سیاہ فام شخص کو قتل کیا۔

سماجی کارکن نے کہا کہ یہ وہ حقیقت ہے جس کا ہمیں سامنا ہے، یہ صرف کچھ پولیس والوں کا معاملہ نہیں جو ملک بھر میں ایسی چیزیں کر رہے ہیں، یہ اچھے پولیس والوں کا برے پولیس والوں سے مقابلہ نہیں ہے۔

اپنی بات کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جارجیا کی گلیوں میں سفید فام شخص نے آر بی بی کو گولی مار کر مار گرایا، بریانا ٹیلر کو اس کے گھر میں مار دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نیویارک سٹی میں ہے اس نیویارک میں ہم پولیس افسروں سے لڑائی کر رہے تھے جو سوشل ڈسٹنسنگ کے نام پر ہماری گلیوں میں سیاہ فام افراد کو ہلاک کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ملک بھر میں ایک مربوط سرگرمی کے تحت کیا جارہا ہے، اس لیے ہم ایمرجنسی کی حالت میں ہیں، سیاہ فام افراد ایمرجنسی کی حالت میں مر رہے ہیں، ہم اس کو ایک الگ واقعے کے طور پر نہیں دیکھ سکتے۔

ٹمیکا میلوری نے کہا کہ عمارتیں صرف ہمارے بھائی جارج فلائیڈ کی وجہ سے نہیں جل رہیں، وہ جل رہی ہیں کیونکہ یہاں منی سوٹا کے لوگ نیویارک، کیلے فورنیا اور ملک بھر کے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ بس بہت ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ذمے دار نہیں ہیں اس ذہنی بیماری کے جس سے ہمارے لوگ متاثر ہیں، اس کی وجہ سے امریکی حکومت، اداروں اور ایسے افراد ہیں جن کے پاس طاقت ہے  سے مجھے پروا نہیں۔

سماجی کارکن ٹمیکا میلوری  نے سوال اٹھایا کہ وہ کہاں تھے جب فرنینڈو کاسٹیل کو کار میں گولی مار دی گئی، یہ لوگ اصل میں اس کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ کہاں تھے؟

ان کا کہنا تھا کہ اگر تم لوگوں کی مدد کرنے نہیں آ رہے تو پھر ہمیں چیلنج نہیں کرو۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تم اکسائے ہوئے لوگوں کو پیسے دیتے ہو کہ وہ ہمارے لوگوں میں گھل مل کر کھڑکیاں توڑیں، عمارتیں جلائیں اور جوان لوگ جو غصے میں ہیں اس سب کا جواب دے رہے ہیں۔

سماجی کارکن ٹمیکا میلوری نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سب کو ختم کرنے کا آسان طریقہ ہے، پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرو، پولیس اہلکاروں پر فرد جرم عائد کرو، سب پولیس اہلکاروں پر فرد جرم عائد کرو۔

انہوں نے کہا کہ صرف کچھ پولیس اہلکاروں پر نہیں، صرف منی سوٹا پولیس نہیں پورے امریکا کے ہر شہر کے پولیس اہلکاروں پر مقدمہ درج کیا جائے جہاں ہمارے لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تم کہتے ہو کہ یہ ملک ہر کسی کے لیے ہے، مگر یہ ملک سیاہ فام لوگوں کے لیے نہیں ہے، ہم تھک گئے ہیں، ہم سے لوٹنے کی بات مت کرو کیونکہ لٹیرے تو تم ہو۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے سیاہ فام لوگوں کو لوٹا ہے، امریکی جب یہاں آئے تو انہوں نے یہاں کے آبائی لوگوں کو لوٹا کیونکہ لوٹنا ہی ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔

سماجی کارکن ٹمیکا میلوری کا کہنا تھا کہ ہم نے تم سے تشدد سیکھا، اگر تم چاہتے ہو کہ ہم بہتر ہوجائیں تو تم خود کو بہتر کرو۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید