آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ کورونا کے پھیلائو سے پہلے کی بات ہے۔ میں نیویارک میں تھا، ایک دوست نے لاٹری کی ایک ٹکٹ مجھے لے کر دی، جس خوش نصیب کی یہ لاٹری نکلتی، پاکستانی روپوں میں تقریباً ستّر اسّی ارب اسے ملنا تھے۔ میں نے لاٹری کا ٹکٹ جیب میں ڈالتے ہی یہ رقم ’’خرچ‘‘ کرنا شروع کر دی۔

پچاس ارب کے قریب فلاحی تنظیموں اور عزیز و اقارب میں تقسیم کر دی مگر میں سخت پریشان تھا کیونکہ میں نے زندگی میں کبھی کوئی خواہش پالی ہی نہ تھی، یہ خواہشیں میں نے وضع کیں، تاہم فلاحی تنظیموں والی خواہش بہت اچھی تھی مگر اس کے بعد تمام تر فضول خرچی کے باوجود باقی ماندہ رقم مجھے سانپ کی طرح ڈس رہی تھی۔

میری خواہش تو بس ایک گھر، ایک کار اور سیر و سیاحت کے لئے کچھ رقم سے آگے نہیں بڑھی تھی۔ اب میں نے سوچنا شروع کیا کہ باقی رقم سونے سے پہلے کیسے ٹھکانے لگائی جائے ورنہ نیند نہیں آنا تھی۔ کیا فضول انسان ہوں، بہرحال مجھے یاد آیا میرے دل میں ایک عرصے سے اپنے دوستوں کو لاطینی امریکہ کی سیاحت پر لے جانے کی خواہش تھی مگر اس وقت میرے پاس وسائل نہ تھے، اب کیوں نہ اپنی یہ دیرینہ خواہش پوری کی جائے؟

چنانچہ میں نے سوچا کہ ایک جہاز چارٹرڈ کراؤں گا اور اس میں اپنے سارے دوستوں کو لے کر لاطینی امریکہ جاؤں گا۔ یہ دنیا میرے اور میرے دوستوں کے لئے بھی نئی ہے، بہت مزا آئے گا۔

چلتے چلتے یہ بھی بتا دوں میں نے غریبوں کے لئے لندن کے کرامویل اسپتال کی ایک شاخ پاکستان میں کھولنے کا ارادہ کیا جہاں صرف غریبوں کا علاج ہوتا لیکن پھر میں نے یہ ارادہ ڈراپ کر دیا کیونکہ میرا ارادہ سیاست میں آنے کا نہیں تھا۔

میں نے اپنے بیٹوں، پوتوں، اہلیہ اور فلاحی کاموں کی سب خواہشوں کو عملی جامہ پہنا دیا۔میں ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ کچھ خدشات اور وسوسوں نے مجھے گھیر لیا، میں نے سوچا اگر میری لاٹری نکلنے کی خبر عام ہوئی تو مجھے ڈاکوؤں اور اغوا برائے تاوان والوں سے بچنے کے لئے گھر کے باہر مسلح پہریدار کھڑے کرنا ہوں گے، گھر کو قلعہ کی صورت دینا ہوگی، گھر سے نکلتے وقت مسلح گارڈ سے بھرے دو ’’ڈالے‘‘ میری کار کے آگے پیچھے ہوں گے۔

میں لکشمی چوک جا کر کڑاھی گوشت کھانے اور باہر بچھی کرسیوں پر بیٹھ کر مالشیے سے مساج کرانے کی لذت سے محروم ہو جاؤں گا، میرا لکھنا لکھانا چھوٹ جائے گا کیونکہ مجھے تو اپنے موضوعات گلیوں، بازاروں اور لوگوں کے ہجوم میں سے تلاش کرنا ہوتے ہیں۔

ایک فکر مجھے یہ بھی دامن گیر ہوئی کہ دولت کی فراوانی مجھے پاکستان سے بیزار کر دے گی، میں اس کی تخلیق میں کیڑے نکالنا شروع کر دوں گا اور ’’مسٹر جناح‘‘ پر پھبتیاں کسنے لگوں گا اور ہاں مجھے دو تین شادیاں بھی تو کرنا پڑیں گی کیونکہ جب دولت ہاتھ آتی ہے تو عمر بھر ساتھ نبھانے والا ساتھی ہم پلہ نہیں لگتا۔

ایک فکر مجھے یہ بھی لاحق ہوئی کہ میرے بیٹے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ہفتے کی شام ہمارے ساتھ گزارتے ہیں اور اپنی ماں کے ہاتھوں سے بنائے گئے کھانے مزے لے لے کر کھاتے اور ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے ہیں۔ اس دن مجھے اپنا گھر جنت کا ایک ٹکڑا لگتا ہے جس میں بچوں کی چہچہاہٹ اسے جنت سے کہیں زیادہ پُرکشش بنا دیتی ہے۔

مجھے یہ خوف دامن گیر ہوگیا کہ میری یہ جنت، دولت کے ملبے تلے دب جائے گی، کوئی پتا نہیں یہ اندھی دولت میرے بیٹوں کی آنکھوں پر بھی پٹی باندھ دے اور وہ کینیڈا اور امریکہ شفٹ کر جائیں۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ان وسوسوں سے چھٹکارا حاصل کرکے اس نئی زندگی کا تجربہ کروں لیکن مجھے اس مصنوعی زندگی میں کوئی کشش نظر نہ آئی تاہم دل کے ایک گوشے سے یہ آواز بھی آ رہی تھی کہ اتنی رقم سے یہ بےاعتنائی اچھی نہیں، کسی دانا دوست کے پاس جاؤ جو تمہیں اس زندگی کی خوبصورتیوں کا قائل کر سکے۔ چنانچہ میں سیٹھ مکرم کے پاس گیا اور اسے اپنا مسئلہ بتایا۔

اس نے کہا ’’اگر تمہاری یہ لاٹری نکلی تو میں بھاری منافع دے کر تم سے خرید لوں گا‘‘ وہ اپنی بلیک منی کو وائٹ کرنے کے چکر میں تھا، اسے میرے مسئلے کا اندازہ ہی نہیں تھا اس سے مایوس ہو کر میں نے ایک اور ارب پتی دوست سے مشورہ کیا کہ شاید وہ کسی دلیل سے مجھے قائل کرلے مگر اس نے کہا ’’جو بات تم سمجھنا چاہ رہے ہو وہ سمجھائی نہیں جا سکتی۔

صرف تجربہ کی جا سکتی ہے، چنانچہ تمہاری یہ لاٹری نکل آئی تو یہ ساری رقم تم مجھے دے دینا، ان سارے مسائل کا میں سامنا کر لوں گا جو تمہیں اس دولت سے وابستہ نظر آتے ہیں‘‘۔

میں سمجھ گیا کہ لامحدود خواہشات اور محدود خواہشات کے درمیان مفاہمت کا کوئی راستہ موجود نہیں۔ یہ دو الگ الگ دنیائیں ہیں۔ میں چونکہ اپنی دنیا میں ہی خوش ہوں چنانچہ مجھے کسی ایسے تجربے کی ضرورت نہیں جو مجھ سے میری خوشیوں بھری موجودہ زندگی چھین لے۔

بہت سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ نامعلوم پر معلوم کو ترجیح دینا ہی بہتر ہے، سو میں نے اپنی جیب میں سے لاٹری کا وہ ٹکٹ نکالا جس نے میرا چین برباد کر دیا تھا اور اسے پرزہ پرزہ کرکے تیز ہواؤں کے سپرد کر دیا اور اب! ان سب افراد سے معذرت جن کے لئے لاٹری نکلنے کی صورت میں مَیں نے بہت سے منصوبے بنائے تھے خصوصاً اپنے ان دوستوں سے معذرت جنہیں میں نے لاطینی امریکہ کے ملکوں میں سیاحت کے لئے لے جانا تھا مگر میں ان سے وعدہ کرتا ہوں کہ اب لاطینی امریکہ کا سفر تو ممکن نہیں رہا کسی دن انہیں کلر کہار لے جائوں گا۔ لاہور کے قریب ہے اور وہاں مور ناچتے ہیں!