آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لیبر مارکیٹ کے انجماد سے یورپی ممالک کے نوجوانوں کے حوصلے پست

فرینکفرٹ: مارٹن آرنلڈ

روم: ڈیوڈ گھگلیون

یورپ میں ملازمت کی تلاش کے حوالے سے ایک بہت مشکل وقت ہے کیونکہ بہت سی کمپنیوں نے بھرتیوں کا عمل روک دیا اور لاکھوں نوجوانوں کی کیریئر سے وابستہ امیدوں کو تار تار کرکے وبائی مرض کورونا وائرس کا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

روم میں رہائش پزیرپولیٹیکل سائنس کی ڈگری کےحامل 31 سالہ والیریو لوفوکو کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ برزخ کی حالت میں ہیں۔

کورونا وائرس وباء پھوٹنے سے پہلے والیریو لوفو اپنے شعبے میں اچھی ملازمت کی تلاش کے دوران کبھی کبھار ویٹر اور ڈلیوری مین کی حیثیت سے کام کررہے تھے،اب انہوں نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد تین سال کا وقفہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب 2008 میں دنیا اقتصادی بحران کا شکار ہوئی تو میں اپنی عمر کی بیسویں دہائی میں تھا۔ جب سےمیں لیبر مارکیٹ میں داخل ہوا اس وقت سے یہ میری نسل کا دوسرا عالمی بحران ہے۔

اٹلی میں غیر فعال آبادی، ایسے لوگ جو کام نہیں کررہے اور جو کسی ملازمت کی تلاش میں نہیں کے ساتھ بیروزگاری کی شرح میں بے انتہاء اضافےسے وباء کے شدید اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ لیبر مارکیٹ انجماد کا شکار ہے۔

اٹلی کی بے روزگاری کی شرح حیرت انگیز طور پر مارچ میں 8 فیصد سے کم ہوکر اپریل میں 6.3 فیصد ہوگئی۔تاہم اس کی وجہ یہ تھی کہ بڑی تعداد میں لوگ غیرفعال زمرے میں چلے گئے تھے، جن میں746،000 کا اضافہ ہوا اور ملک کی غیر فعال شرح کو 36.1 فیصد سے بڑھا کر 38.1 فیصد کردیا ۔ملک میں مجموعی طور پر روزگار کی تعداد 274،000 ہوگئی۔

وبائی امراض پھیلنے سے پہلے ہی اٹلی یورپی یونین کا ایک ایسا ملک تھا جہاں 20 سے 34 سال کی عمر کے لوگوں کا سب سے زیادہ تناسب ہے ،جن میں سے 27.8 فیصد نہ تو ملازمت کرتے تھے اور نہ ہی ان کے پاس تعلیم و تربیت تھی ۔یہ یورپی یونین کی اوسط 16.4 فیصد سے اچھی خاصی زیادہ ہے۔

اٹلی،اسپین،یونان اور فرانس جیسے جنوبی یورپی ممالک میں گریجویٹس کو درپیش صورتحال سب سے خوفناک ہے،جہاں نوجوانوں میں بیروزگاری پہلے ہی یورپی یونین کی اوسط سے کافی اوپر ہے،عارضی یا قلیل مدتی ملازمتوں کا تناسب زیادہ ہے اور سیاحت جیسے سب سے زیادہ متاثرہ شعبوں پر یہ معیشتیں انحصار کرتی ہیں۔

ملازمت کی تلاش کی ویب سائٹ پرمئی میں مشتہر کی گئی نئی اسامیوں کی تعداد درحقیقت فرانس اور اسپین دونوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نصف تھیں۔

ناٹیکس کے چیف ماہر معاشیات پیٹریک آرٹس نے کہا کہ فرانسیسی سرمایہ کاری بینک کے آجروں کے ایک حالیہ سروے کے نتائج سنگین حالات کا پتا دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے ، ہر سال 800،000 نوجوان فرانسیسی لیبر فورس میں داخل ہوتے ہیں اور اس بارہمیں خطرہ ہے کہ ان میں سے نصف کوملازمت نہیں ملے گی، پہلے ہی 60 فیصد فرانسیسی کمپنیوں نے ملازمتیں منجمد کرلی ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ وباء کے لیبر مارکیٹ پر اثرات سے نوعمر ورکرزپر غیرمتناسب اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اپریل میں یورپی یونین میں 15سے24سال کی عمر کے 159،000 افراد بے روزگار ہوگئے۔

ہسپانوی بینک بی بی وی اے کے ماہر معاشیات اور والنسیا یونیورسٹی میں پروفیسر رافیل ڈومنیچ نے کہاکہ معاشی شواہد بالکل حتمی ہیں، نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح اکثر مجموعی شرح کو دگنا کردیتی ہے۔وہ نوجوان جو بحران کے دوران لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں انہیں اجرت کے حوالے سے اکثر دیرپا منفی نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔

اسپین میں ، اپریل میں ملک کے تقریبا 834،000 عارضی معاہدوں پر ملازمتوں والےافراد متاثر ہوئے،جو افرادی قوت کا ایکچوتھائی سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں۔ ملازمت سے محروم ہونے والے زیادہ تر ہسپانوی افراد کی عمر 35 سال سے کم تھی۔

وباء کی پوری طاقت سے بچانے کیلئے ریاستی سبسڈیز فرلوگ اسکیموں کے ذریعےیورپ کی لیبر مارکیٹ کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ان پروگرامز نے امریکا میں نظرآنے والے بیروزگاری میں تیزی سے اضافے سے بچنے میں مدد فراہم کی۔تاہم یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ اسکیموں کی میعاد ختم ہونے یا کمپنیوں کے ناکام ہونے کی صورت میں بالآخر بڑی تعداد میں ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں۔

2013 میں خطے کے ملکی قرضوں کے بحران کے دوران یورو زون میں بے روزگاری 12 فیصد سے زیادہ ہوگئی ،جب نوجوانوں میں بیروزگاری 24 فیصد کی انتہائی حد پر پہنچ گئی تھی۔سات سال کے دوران کمی کے بعد اپریل میں یوروزون میں ایک بار پھر بیروزگاری میں اضافہ ہونے لگا اور شرح 7.1 فیصد سے بڑھ کر 7.3 فیصد ہوگئی۔یہاں تک کہ نوجوانوں میں بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 15.1 سے 15.8 فیصد تک بڑھ گئی۔

یورپی سینٹرل بینک نے رواں ماہ پیشگوئی کی ہے کہ اس سنگین صورتحال کے تحت بیروزگاری آئندہ سال 12.5 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گی جس کا مطلب ستر لاکھ ملازمتوں کا خاتمہ ہے۔

وبائی مرض پھیل جانے کے باوجود یورپ کی سب سے بڑی معیشت میں تقریباََروزگار کی بہتر صورتحال کے باوجود جرمنی میں گریجویٹس کے لئے کافی مشکل صورتحال نظر آرہی ہے۔فیڈرل ایمپلائمنٹ ایجنسی کے مطابق جرمنی میں 15-25 سال کی عمر کے بے روزگار افراد کی تعدادسالہا سال میں تین گنا ہوکر مئی میں274،000 ہوگئی ۔

فرینکفرٹ میں گوئٹے یونیورسٹی سے گزشتہ ماہ جاپانیز اسٹیڈیز اینڈ ہسٹری میں گرویجویشن کرنے والے 26 سالہ مارٹن پروچاکا نے بتایا کہ میں نے 12 درخواستیں بھیجیں لیکن سب کی سب مسترد ہوگئیں۔ میں اپنی بچت پر گزارا کررہا ہوں جو جولائی تک چل سکتی ہے لیکن اس کے بعد میں اپنا کرایہ ادا کرنے کیلئے پریشان ہوجاؤں گا۔میں صرف یہی امید کرسکتا ہوں کہ کمپنیاں دوبارہ لوگوں کو ملازمت پر رکھنا شروع کردیں گی۔

بوسٹن کنسلٹنگ گروپ اور برننگ گلاس ٹیکنالوجیز کی تحقیق کے مطابق جرمنی میں نوجوان پیشہ ور افراد کے لئے ملازمتوں کےاشتہارات کی تعداد میں فروری کے آخر اور اپریل کے آخر میں 37 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ڈیسلڈورف میں بی سی جی کے سینئر پارٹنر ،رینر اسٹریک نے کہا کہ بڑی تعداد میں اداروں میں بھرتیوں پر پابندی ہے اور وہ داخلی طور پر صرف خالی اسامیوں کو ہی پر کررہے ہیں۔لیکن مستقبل میں 2030 تک جرمنی میں لاکھوں ملازمین کی کمی ہونے والی ہے۔ لہٰذا آج طلباء کو اپنی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے اس وقت کو استعمال کرنا چاہئے کیونکہ چند سال میں حیرت انگیز مواقع میسر آئیں گے۔

تاہم ، اس دوران ، ملازمت کی تلاش کے لئے جدوجہد کرنے والے طلباء دباؤ کا شکار ہیں۔جرمنی کے مالیاتی دارالحکومت فرینکفرٹ میں 80،000 طلبا کو مشورے اور تعاون کی پیش کش کرنے والے ادارے اسٹوڈینٹورک فرینکفرٹ ام مین کی ایک عہدیدارسیلویا کوبس نے کہا کہ نفسیاتی مدد کے لئے درخواستوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال سب کچھ ڈیجیٹل طور پر ہورہا ہے،بہت سارے طلباء ہمیں تنہائی کے بارے میں بتاتے ہیں،دوسروں کو مالی و رہائشی پریشانیاں لاحق ہیں کیونکہ وہ اپنی ملازمتوں سے محروم ہوچکے ہیں یا سیمسٹر کے آغاز میں ملازمت تلاش نہیں کرسکتے ہیں۔

فنانشل ٹائمز سے مزید