آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مشرف خود کو ناگزیر سمجھتے تھےانہیں بھی جانا پڑا، احسن اقبال


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے بیانات مضبوطی نہیں کمزوری کی علامت ہے مشرف بھی خود کو ناگزیر سمجھتے تھے لیکن انہیں بھی جانا پڑا۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کہا کہ ہمیں معلومات تھیں اس لئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بہتر تعیناتی کی گئی تھی،میزبان شاہزیب خانزادہ نے اپنے تجزیئے میں کہا کہ حکومت پٹرول کی قیمت میں اضافے کی بناء پر تنقید کی زد میں ہے۔

سیکریٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے، حکومت کے پاس وسائل ہیں وہ اتحادیوں کو خرید سکتی ہے، اتحادیوں نے حکومت کو آنکھیں ضرور دکھائیں لیکن سب نے حکومت کے حق میں ووٹ ڈالا۔

حکومت اس کے باوجود 172ووٹ کا میجک نمبر حاصل نہیں کرسکی، پی ٹی آئی کے کچھ ایم این ایز بھی ناراض ہیں، اپوزیشن کے پاس اتحادیوں کو زبردستی توڑنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے بیانات مضبوطی نہیں کمزوری کی علامت ہے۔

وزیراعظم کا یہ کہنا میرے علاوہ کوئی چوائس نہیں تاریخ کا منہ چڑانے کے مترادف ہے، مشرف بھی خود کو ناگزیر سمجھتے تھے لیکن انہیں بھی جانا پڑا، اسٹیک ہولڈرز کو بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت ملک کیلئے معاشی خطرہ بن چکی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہم حکومت کو ابتداء میں ہی گرا کر شہید بننے نہیں دینا چاہتے تھے۔

پی ٹی آئی کی نااہلی کو ایکسپوژ کرنا بھی ہماری حکمت عملی تھی، دو سال میں حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے آگئی ہے، کورونا پر ناقص حکمت عملی کی وجہ سے دنیا ہم پر پابندیاں لگارہی ہے، پٹرول کی قیمتوں میں اتنے بڑے اضافے سے مہنگائی کا طوفان آجائے گا، وزیراعظم چھٹی لے کر کہیں چلے جائیں تو شاید حالات بہتر ہوجائیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت شہید یا مظلوم نہ بنے بلکہ ایکسپوز ہو کر جائے، یہ حکومت جتنی دیر رہے گی بحران اتنا ہی بڑھتا جائے گا، ایک سال بعد کہیں کوئی حکومت سنبھالنے کیلئے تیار نہ ہو، آپ کو قربانی کے بکرے تلاش کرنے پڑیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کہا کہ ہمیں اندازہ تھا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی کبھی حملہ ہوسکتا ہے، ہمیں معلومات تھیں اس لئے وہاں بہتر تعیناتی کی گئی تھی، ہمارے اہلکارو ں نے اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کو بھرپوراور فوری جواب دیا اور چاروں دہشتگرد مارے گئے، ہمارا سیکیورٹی سیٹ اپ اچھی طرح کام کررہا ہے۔

پچھلے سال ہم نے ڈھائی سو سے زیادہ دہشتگرد پکڑے، دہشتگرد وں کو وقت اور جگہ کے انتخاب کا ایڈوانٹج ہوتا ہے تو کبھی وہ حملہ کرجاتے ہیں ، ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ دہشتگردوں کو یہ ایڈوانٹیج نہ لینے دیں،آج ہماری پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے اچھا رسپانس دیا، آئندہ بھی ایسی کوئی کوشش ہوئی تو ہمارا بھرپور ردعمل ہوگا۔

ماہر معیشت خرم شہزاد نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم تھیں تو حکومت کیلئے خریدنا مشکل نہیں تھا، حکومت باہر بینک اکاؤنٹ کھول کر ڈپازٹ جمع کروا کر خریداری کرسکتی تھی، حکومت پندرہ پندرہ ملین بیرل کے ایک سال اور دو سال کے دو کانٹریکٹ سائن کرنے کی بات کررہی تھی، پاکستان عالمی مارکیٹ میں تیل کی کم قیمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی وقت نئے معاہدے کرلیتا تو ہمیں ڈھائی ارب روپے کا فائدہ ہوچکا ہوتا۔

اہم خبریں سے مزید