آپ آف لائن ہیں
بدھ23؍ذیقعد 1441ھ 15؍ جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

غلام سرور خان کو ہٹانے کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیرِ ہوا بازی غلام سرور خان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست قابلِ سماعت ہونے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی وزیرِ ہوا بازی غلام سرورخان کو عہدے سے برطرف کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں وفاقی وزیرِ ہوا بازی غلام سرورخان کے خلاف ایکشن کو وزیرِ اعظم عمران خان کا اختیار قرار دے دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر وفاقی وزیر کے بیان سے ملک کا نقصان ہوا ہے تو ایکشن لینا وزیرِ اعظم کا اختیار ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ وفاقی وزیر کے احتساب کے آئینی طریقہ کار میں مداخلت سے پرہیز کر رہے ہیں۔

اس سے قبل آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے طارق اسد ایڈووکیٹ کی وفاقی وزیرِ ہوا بازی غلام سرور خان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالتِ عالیہ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ 262 پائلٹس سے متعلق غلام سرور خان نے غیر ذمے دارانہ بیان دیا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی یورپ میں فلائٹس پر 6 ماہ کے لیے پابندی لگ گئی ہے، اگر کسی کی ڈگری جعلی تھی تب بھی وزیر کو چاہیے تھا کہ خفیہ کارروائی کرتے۔

طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان کے غیر ذمے دارانہ بیان سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:

نیب وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کے پیچھے لگ گیا

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے تفصیلی آرڈر پاس کریں گے۔

واضح رہے کہ طارق اسد ایڈووکیٹ نے غلام سرور خان کی بطور وفاقی وزیر برطرفی کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔

طارق اسد ایڈووکیٹ نے اپنی دائر کی گئی درخواست میں کہا ہے کہ وزیرِ ہوا بازی نے انکوائری کے بغیر 262 پائلٹس پر جعلی لائسنس کا الزام لگایا، غلام سرور خان نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ 30 فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں غیر ذمے دارانہ تقریر پر غلام سرور خان کو وزیرِ ہوا بازی کے عہدے سے برطرف کیا جائے، وزیرِاعظم کو غلام سرور خان کو وفاقی وزیر کے عہدے سے برطرف کرنےکے احکامات جاری کیے جائیں۔

انہوں نے یہ استدعا بھی کی ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو غلام سرور کی ڈس کوالیفکیشن کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوانے کی ہدایت کی جائے، پائلٹس کے جعلی لائسنس کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔

قومی خبریں سے مزید