• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد میں خلاف ضابطہ ترقیاں دینے کا انکشاف

 سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد میں ملازمین کوخلاف ضابطہ ترقیاں دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اسپتال کے 9 ملازمین آؤٹ آف کیڈر اور ایسی ترقیاں دی گئیں جن کی مثال نہیں ملتی۔

 جنگ کو دستیاب دستاویزات کے مطابق 2013 میں 3 گریڈ میں بیئرر بھرتی ہونے والے انوا ر الحق کو 2019 میں 7 گریڈ میں اسٹور کیپر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

جبکہ 2010 میں 1 گریڈ میں بھرتی ہونے والے نائب قاصد احمد شجاع کو 2016 میں 11 گریڈ میں پرچی کلرک، 2009 میں 2 گریڈ پر وارڈ سرونٹ بھرتی ہونے والے محمد عرفان کو 2017 میں 11 گریڈ میں جونیئر کلرک بنادیا گیا۔

2009 میں 2 گریڈ پر وارڈ سرونٹ بھرتی ہونے والے مسرور احمد کاشف کو 2017 میں گریڈ 12 میں کمپیوٹر آپریٹر، 4 گریڈ میں ڈارک روم اٹینڈنٹ بھرتی ہونے والے محمد کمال کو 2012 میں 12 گریڈ کے ڈیٹا پروسیسنگ آفیسر اور 2003 میں 2 گریڈ میں وارڈ سرونٹ بھرتی ہونے والے محمد افضال کو 2012 میں 9 گریڈ میں ای سی جی ٹیکنیشن کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ جبکہ ذرائع کے مطابق ان کا ای سی جی ٹیکنیشن کا ڈپلومہ بھی جعلی تھا۔

دستاویزات کے مطابق 2009 میں 2 گریڈ میں وارڈ سرونٹ بھرتی ہونے والے طاہر احمدخان کو 2017 میں گریڈ 4 میں آپریشن تھیٹر اٹینڈنٹ، 2009 میں 2 گریڈ میں وارڈ سرونٹ بھرتی ہونے والے جہانزیب کو 2016 میں 9 گریڈ میں لیبارٹری ٹیکنیشن جبکہ 1987 میں 7 گر یڈ میں جونیئر کلرک بھرتی ہونے والے زمان اسلام کو پہلے 2012 میں 12 گریڈ میں ڈیٹا پروسیسنگ آفیسر پھر 2017 میں 14 گریڈ میں اکاؤنٹ اسسٹنٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں دائر کردہ کرمنل اوریجنل پٹیشن نمبر 89 / 2011 کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ کسی بھی ملازم کا کیڈر تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

اس ضمن میں اسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مادھوری لاکھانی کا کہنا تھا کہ اسپتال میں ملازمین نے ماحول خراب کر رکھا ہے، بیشتر ملازمین کی سروس کا ریکارڈ اسپتال میں سرے سے موجود ہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنی سروس بک گھروں میں چھپا رکھی ہے۔

اسپتال میں ان ورڈ اور آؤٹ ورڈ رجسٹر کے صفحات بھی غائب ہیں جس کی وجہ سے ریکارڈ دستیاب نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ترقیاں ان کے دور میں نہیں ہوئیں۔  تاہم اگر محکمہ کہے گا تو ان غیر قانونی ترقیوں کو منسوخ کر دیا جائے گا بلکہ اس عرصہ کے دوران لی جانے والی تنخواہیں سرکاری خزانے میں واپس جمع کرانے کی سفارش بھی کی جائے گی۔

تازہ ترین