آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہندوستان کے مسلمانوں کا فریادی نوحہ

کچھ روز ہوئے، انٹرنیٹ پر لکھنؤ کے کوئی صاحب نہایت دردمندانہ لے میں مشہور فریادی نوحہ پڑھ رہے تھے۔ اے کُل کے مددگار، مدد کرنے کو آؤ، فریاد کو پہنچو۔ میرے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔ فریادی نوحے کی کچھ روایات ہیں۔ جب کوئی آفت ٹوٹ پڑتی ہے، کوئی بلا نازل ہو جاتی ہے، کسی کے مرنے جینے کا سوال ہوتا ہے اس وقت عموماً گھر کی بیبیاں یہ نوحہ پڑھتی ہیں۔ مجھے یاد ہے میرے والد صاحب کو شدید نمونیا ہوا تھا، اس وقت تک نمونیا کی کوئی دوا نہیں تھی۔ اینٹی بایوٹکس ایجاد نہیں ہوئی تھیں اور لوگ مبتلا ہوتے تھے اور مر جایا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے، والد صاحب گہری گہری سانسیں لے رہے تھے اور ان کے دوست، ڈاکٹر کیلن یا ڈاکٹر پریرا، مجھے نام یاد نہیں، چھاؤنی کے اسپتال سے ایک نئی دوا لائے تھے جو انہی دنوں آئی تھی۔ والد صاحب کو وہ دوا دی گئی اور بتایا گیا کہ انہوں نے اگر یہ رات خیریت سے گزار لی تو یہ بچ جائیں گے۔ اس وقت گھر کی مستورات نے کھلے آسمان کے نیچے، بال کھول کر فریادی نوحہ پڑھا تھا، اے کُل کے مدد گار مدد کرنے کو آؤ۔ قصہ مختصر صبح ہونے تک وہ مدد آگئی جس کی ہم سب آس لگائے ہوئے تھے۔ اس روز گھر میں سجدۂ شکر ادا کیا گیا۔

تو انٹرنیٹ پر نشر ہونے والے فریادی نوحے کی بات ہو رہی تھی۔ اس میں بلا کا سوز تھا اور بڑی ہی لجاجت تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ اس کا تعلق ہندوستان میں زور پکڑتے ہوئے کورونا وائرس سے تھا اور نوحہ پڑھنے والے کے لہجے میں نجات کی دعا جھلکتی تھی لیکن اس روز اس فریادی نوحے کی تہ میں ایک اور کرب چھپا ہوا تھا، اور وہ تھا ہندوستان کے مسلمانوں پر طاری خوف اور دہشت کی اذیت کا احساس۔ صاف لگتا تھا کہ کسی کو مدد کے لیے پکارا جا رہا ہے کہ اس امّت پر کڑا وقت پڑا ہے۔ فضا میں زہر گھل رہا ہے اور ماحول میں تازہ خون کی بو پھیل رہی ہے۔

مجھے شدت سے یہ احساس یوں بھی ہوا کہ ابھی چند ماہ پہلے میں ہندوستان میں کچھ روز گزار کر آیا ہوں۔ جگہ جگہ مسلمانوں سے ملا ہوں اور ان کی ذہنی کیفیت قریب سے دیکھی ہے۔ اس وقت تک ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ نہیں ٹوٹے تھے۔ ایک مسلمان نوجوان نے مجھ سے کہا کہ میں ترنگے کو سلام کرتا ہوں۔ مجھے جو احساس عجیب ڈھب سے ہوا یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے حالات سے سمجھوتا کر لیا ہے۔ انہوں نے خود کو قومی جذبے سے ہم کنار کر لیا ہے اور وہ جو وطنیت کا احساس ہوتا ہے، وہ اس سے جذباتی طور پر وابستہ ہو گئے ہیں۔میرے اس دورے کے کچھ عرصہ بعد عذاب ٹوٹا اور مسلمانوں پر غضب نازل ہوا۔ مجھ سے بیس بائیس برس کا نوجوان جو پوچھ رہا تھا کہ کینیڈا جانے کا کیا طریقہ ہوتا ہے، بلا سبب تو نہیں پوچھ رہا تھا۔ اس نے مجھ سے صرف سوال کیا، اس کی پشت پر کارفرما سبب نہیں بتایا۔ وہ سبب اُس روز کے فریادی نوحے نے کہہ سنایا۔ افراد پر تو اچھے بُرے وقت آتے ہی رہتے ہیں لیکن جب دکھوں کی یہ گھٹائیں قوموں پر برستی ہیں تو برہنہ سروں پر برسنے والا ہر قطرہ دل و دماغ کوچھلنی کرتا جاتا ہے۔ لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں شل ہو جاتی ہیں اور قدم پیچھے کی طرف اٹھنے لگتے ہیں، پھر گھر کی بیبیاں کھلے آسمان کے نیچے بال کھول کر کُل کے مددگار کو صدائیں دیتی ہیں۔

اس موقع پر مرزا محمد ہادی رسوا بہت یاد آ رہے ہیں۔ یوں تو ان کے ناول امراؤ جان ادا نے غیر معمولی شہرت پائی مگر ان میں ہزار خوبیاں تھیں جن سے دنیا بے خبر ہی رہی۔ اور باتوں کے علاوہ انہیں موسیقی سے بہت لگاؤ تھا۔ تمام راگ راگنیوں سے خوب واقف تھے۔ ان کی بڑی تمنّا تھی کہ ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی کے سُر اس طرح لکھے جائیں جیسے مغربی دنیا میں لکھے جاتے ہیں۔ اس راہ میں انہوں نے بہت کام کرلیا تھا لیکن اس کام کو فروغ نہ ملا اور سب ضائع ہو گیا۔ مرزا رسوا اچھے شاعر بھی تھے۔ فریادی نوحہ انہوں نے ہی لکھا تھا اور اس کی طرز بھی انہوں ہی نے بنائی تھی۔ اس کا علم رکھنے والے بتاتے ہیں کہ نوحے کی طرز راگ مالکونس میں ہے اور یہ کہ واقعہ کربلا سے وابستہ اشعار پڑھنے کے لیے یہی راگ موزوں ترین ہے۔ مرزا محمد ہادی رسوا کا اعلیٰ سے اعلیٰ نسل کے کبوتر پالنے سے لے کر ستاروں کی چال کا مشاہدہ کرنے تک اور دوربین بنانے سے لے کر سونا بنانے تک ہر طرح کی ایجادات میں دخل تھا۔ بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ اب جہاں بھی ہوں، کُل کے مددگار سے ہماری سفارش کر دیں، بڑی نوازش ہوگی۔

دھیان پھر کورونا وائرس کی طرف پلٹتا ہے۔ بڑے دکھ دے رہا ہے، مرض نہیں، مرض کی دوا اپنے گوداموں میں چھپا کر مصیبت زدہ مریضوں کا خون چوسنے والا منافع خور۔ وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ دو ایک دواؤں کے بارے میں یقین ہوگیا کہ ان میں کورونا کا موثر علاج ہے۔ بس یہ یقین ہونا تھا کہ جو لوگ پہلے سے چھرے پر دھار بٹھا کر تیار بیٹھے تھے انہوں نے دوا کو اپنے گوداموں میں چھپا دیا اور مریضو ں کی چمڑی ادھیڑنا شروع کر دی۔ کہتے ہیں کہ صرف بارہ سو روپے میں گلی گلی میں دستیاب یہی دوا سوا لاکھ روپے میں بیچ رہے ہیں اور وہ بھی مریضوں کو اچھی طرح خوار کرکے۔ دنیا کے مہذب ملکوں میں کوئی اس بدذاتی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ خدا جانے یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں صرف اور صرف دولت کی ہوس ہے۔ انہیں نہ شرم ہے نہ حیا۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارا ملک چین نہیں جہاں ایسے مجرموں کو کھمبے سے باندھ کر گولی مار دیتے ہیں، لمحہ بھر میں خس بھی کم اور ہمارا یہ پیارا پیارا جہاں بھی پاک۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)