آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ مثال میں نے ایک کتاب میں پڑھی تھی، ذہن میں چپک کر رہ گئی، میری پسندیدہ ہے، اسے مثال کہنا شاید ٹھیک نہ ہوگا، دراصل یہ ایک تجربہ تھا۔ دو ٹیمو ں کے درمیان باسکٹ بال میچ کرایا گیا، ایک ٹیم نے سیاہ رنگ کی قمیصیں پہنیں اور دوسری نے سفید رنگ کی۔ میچ شروع ہوا تو درمیان میں ایک شخص گوریلے کی کھال پہن کر 9سیکنڈ کے لیے نمودار ہوا اور اسکرین کے سامنے اپنی چھاتی پیٹ کر نکل گیا۔ موقع کی فلم بنائی گئی اور یہ فلم مختلف لوگوں کو دکھا کر پوچھا گیاکہ وہ بتائیں کہ میچ میں سیاہ قمیص والی ٹیم نے ایک دوسرے کو کتنے پاس دیے۔ لوگوں نے اِس سوال کے مختلف جواب دیے۔ تاہم فلم دیکھنے والوں سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے کوئی گوریلا دیکھا تو تقریباً پچاس فیصد لوگوں نے کسی گوریلے کی موجودگی سے انکار کیا، وجہ اِس کی یہ تھی کہ وہ لوگ سیاہ قمیص والوں کے ’پاس‘ گننے میں اِس قدر محو تھے کہ انہیں چھاتی پیٹتا ہوا گوریلا نظر ہی نہیں آیا۔ اِس تجربے کو The Invisible Gorillaکہتے ہیں، غالباً کتاب کا نام بھی یہی تھا۔ مصنف نے اِس سے یہ نتیجہ نکالا کہ بعض اوقات ہمیں سامنے کی چیز بھی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ ہمارا دماغ ’اندھا‘ ہو جاتا ہے اور اِس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے اِس اندھے پن کا احساس ہی نہیں ہو پاتا۔ اسی سے ملتی جلتی ایک دوسری مثال بھی ہے۔ اسے Muller-Lyer Illusionکہتے ہیں، مولر اُس جرمن ماہر عمرانیت کا نام تھا جس نے یہ تجربہ کیا۔ اسے تحریر سے سمجھانا ذرا مشکل ہے۔ اِس مثال میں دو متوازی خطوط کھینچے جاتے ہیں، ایک خط کے سروں پر اندر کی جانب تیر کا سا نشان بنا دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے خط کے سروں پر باہر کی جانب ویسا ہی نشا ن بنا دیا جاتا ہے جس سے دُم کی سی شکل بن جاتی ہے۔ جب آپ اِن دونوں خطوط کو متوازی رکھ کر دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے دُم والے خط کی لمبائی پہلے خط کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے لیکن اگر آپ پیمائش کرکے دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ محض نظر کا دھوکا تھا، دونوں خطوط لمبائی میں برابر تھے۔ اسے فریبِ نظر کہتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے دماغ کے اُس حصے میں جس کا تعلق بصارت سے ہے ایک نقطہ سا ہوتا ہے جسے Scotomaکہتے ہیں، بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ یہ نقطہ ’فیصلہ‘ کرتا ہے کہ ہمارا دماغ ہمیں کیا دکھانا چاہتاہے یا یوں کہیے کہ ہم کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ سو پچاس لوگوں کے ایک گروہ کو کسی جگہ سیر کے لیے لے جائیں اور واپسی پر اُن سے پوچھیں کہ انہوں نے کیا دیکھا تو آدھے لوگوں کی فہرست باقی لوگوں سے مختلف ہوگی کیونکہ بقول شخصے، انسان وہی دیکھتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔

اِس زمین میں سات ارب سے زائد انسان بستے ہیں، یہ اربوں انسان مختلف نظریات اور خیالات کے مالک ہیں، کبھی یہ انسان آپس میں کسی بات پر متفق ہو جاتے ہیں اور کبھی اختلاف کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی نظریے سے وابستہ لوگ بھی آپس میں اُس نظریے کے ہر پہلو کے بارے میں یکساں رائے نہیں رکھتے مثلاً دہشت گردی کی مذمت سب کرتے ہیں مگر اِس مسئلے پر ہر زاویے سے اتفاق رائے حاصل کرنا قریباً ناممکن ہے۔ اسی طرح ماحولیاتی آلودگی بھی عالمی مسئلہ ہے مگر اِس حوالے سے بھی ہر شخص کے اپنے خیالات ہیں۔ ایک ہی مذہب کے ماننے والے حتیٰ کہ ایک مسلک کے پیروکار بھی آپس میں اختلاف رکھتے ہیں اور یہ اختلاف معمولی نوعیت کے نہیں ہوتے۔ اور تو اور آج کل کورونا وائرس کی وبا جس سے ہر بندے کو خطرہ ہے، کے بارے میں بھی ہر انسان کے سوچنے کا اپنا طریقہ ہے جو دوسرے سے مختلف ہے۔ زیادہ تر انسان جب ایک عقیدہ یا نظریہ اپنا لیتے ہیں یا کسی تحریک یا فکر سے وابستہ ہو کر اُس کی ترویج میں جُت جاتے ہیں تو پھر وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ درست سمت میں ہیں اور اُن سے اختلاف کرنے والا یقیناً کسی بڑی غلط فہمی کا شکار ہے۔ دوسروں پر کیا طنز کرنا اکثر میں خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جن معاملات پر میں نے اپنی رائے قائم کی ہے کیا اِس بات کا امکان نہیں کہ وہ غلط ہوں؟ جواب ملتا ہے کہ ہاں! اِس بات کا امکان موجود ہے، تو میں سوچتا ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مجھے بھی فلم میں 9سیکنڈ والا گوریلا نظر نہیں آرہا، کہیں مجھے بھی نظر کا دھوکا تو نہیں ہو رہا یا کہیں میں بھی صرف وہی چیزیں تو نہیں دیکھ رہا جو میں دیکھنا چاہتا ہوں؟ سچی بات ہے کہ میرے پاس اِن باتوں کا کوئی جواب نہیں کیونکہ جب کوئی شخص ایسے ذہنی اندھے پن کا شکار ہوتا ہے تو اصل مسئلہ ہی یہ ہوتا ہے کہ اسے اِس اندھے پن کا ادراک ہی نہیں ہو پاتا۔ جب میں یہ باتیں سوچتا ہوں تو مجھے اُن نام نہاد پیرانِ عظام پر بھی رشک آتا ہے جو دو ٹوک پیش گوئیاں کرتے ہیں، حتمی نوعیت کے تجزیے پیش کرتے ہیں اور اپنے خیالات اور نظریات پر جنہیں پختہ یقین ہوتا ہے کہ وہ غلط نہیں ہو سکتے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص جو کسی بھی فکر، تحریک، عقیدے، نظریے یا خیال کو کسی بھی وجہ سے اپنا چکا ہے، اُس کے بارے میں سو فیصد یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتا ہے کہ وہ درست ہے؟ میرے پاس اِس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں۔

برٹرینڈ رسل نے کہا تھا کہ جب آپ کسی معاملے پر سوچ بچار کریں یا کوئی فلسفہ پڑھیں، تو خود سے صرف یہ سوال پوچھیں کہ حقائق کیا ہیں اور یہ حقائق کس حد تک سچائی کو منکشف کرتے ہیں، کبھی بھی اپنی خواہشات کے دام میں نہ آئیں اور اِس بات کی پروا نہ کریں کہ حقائق آپ کو اُس جانب کیوں نہیں لے جا رہے جس طرف جانے کی آپ کی خواہش ہے اور نہ ہی اِس بات کی پروا کریں کہ خاص قسم کے نظریات کا پرچار آپ کیلئے سماجی طور پر منفعت بخش ہوگا، صرف اور صرف حقائق کو پرکھیں، دانش کا یہی تقاضا ہے۔

کالم کی دُم:سید منور حسن صاحب فوت ہو گئے، اب اُن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ میری اُن سے کوئی ملاقات نہیں، سنا ہے کہ وہ سادہ، دبنگ اور دیانتدار انسان تھے مگر سوال یہ ہے کہ کسی شخص کی سادگی یا درویشی اسے اِس بات کا لائسنس دیتی ہے کہ وہ معصوم بچوں کے قاتلوں کو شہید کہے اور اُن سے لڑنے والے پاک فوج اور پولیس کے جوانوں کو شہید کہنے سے گریز کرے؟