چین میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق خواشگوار خاندانی زندگی ڈیمنشیا (ذہنی تنزلی اور نسیان کی بیماری) کے خطرات میں خاطر خواہ کمی کرسکتی ہے۔
اس حوالے سے محققین نے پتہ چلایا ہے کہ زیادہ تر لوگ گھریلو سکون اور خوشحالی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ ثابت ہوا ہے کہ یہ ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
محققین کے مطابق غیر خوشگوار خاندانی تعلقات کیوجہ سے ڈیمنشیا کے خطرے میں 66 فیصد اضافے ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین نے برطانیہ کے 104,093 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جن کی عمر 40 سے 69 سال کے درمیان تھی اور اس تحقیق کے ابتدائی چار سالوں میں وہ ڈیمنشیا سے محفوظ تھے۔
ان افراد کو 13 سال سے زائد عرصے تک مانیٹر کیا گیا، اس دوران 1,359 افراد میں ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی۔ سائنسدانوں نے بیماری کے خطرے کا موازنہ خاندانی تعلقات اور دوستی کے اطمینان کے ساتھ کیا۔ شرکاء سے پوچھا گیا تھا کہ وہ اپنے خاندانی تعلقات اور دوستانہ ماحول سے کتنے مطمئن ہیں۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے خاندانی تعلقات سے غیر مطمئن تھے، ان میں مطمئن افراد کے مقابلے میں ڈیمنشیا کا خطرہ 34 فیصد زیادہ تھا۔ جبکہ جو لوگ بہت زیادہ غیر مطمئن تھے، ان میں یہ خطرہ 66 فیصد تک بڑھ گیا۔
رپورٹ کے مطابق دوستانہ ماحول سے عدم اطمینان کا ڈیمنشیا کے خطرے سے کوئی خاص تعلق نہیں پایا گیا۔
یہ تحقیق چین کے نیشنل کلینیکل ریسرچ سینٹر فار جیریاٹرک ڈیزیز کی جانب سے کی گئی اور یہ طبی جریدے الزائمر اینڈ ڈیمنشیا میں شائع ہوا، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ خاندانی تعلقات کا معیار ڈیمنشیا کے خطرے کے جائزے میں ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے۔