آپ آف لائن ہیں
بدھ یکم رمضان المبارک 1442ھ14؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

٭’’ابھی تو امتحان شروع ہونے میں پور اہفتہ باقی ہے، ابھی سے پڑھ کر کیا کرناہے، تیّاری تو پیپر سے ایک رات پہلے ہی ہوتی ہے۔ ٭معمولی سا زخم ہی تو ہے، رِس رہا ہے تو کیا ہوا۔ اللہ مالک ہے، سب ٹھیک ہوجائے گا، ڈاکٹر کے پاس جا کر کیا کرنا۔٭ارے واہ! طوفان کی وارننگ جا ری ہوئی ہے، وِیک اینڈ بھی ہے، تو چلو سی ویو چلتے ہیں۔ ٭کورونا وائرس کافروں پر اللہ کا عذاب ہے۔ ٭کورونا نامی کوئی وبا ہے ہی نہیں، یہ تو یہودیوں کی مسلمانوں کو کم زور کرنے کی سازش ہے، تاکہ ہماری معیشت تباہ ہوجائے۔ ٭ڈاکٹرز کا تو کام ہی لوگوں کو ڈرانا اور علاج معالجے کے نام پر پیسے بٹورنا ہے۔ ٭مَیں تو ماسک وغیرہ کچھ نہیں پہنتا، میرا ایمان کم زور تھوڑی ہےکہ موت سے ڈر جاؤں۔٭ کورونا سے کوئی نہیں مر رہا، حکومت صرف ڈالرز کے لیےیہ سب ڈرامےکر رہی ہے،خود بتاؤ کیاتمہارے جان پہچان والوںمیں کسی کو کورونا ہوا…؟؟ نہیں ناں۔ اس لیے میری بات مانو، افواہوں پر کان مت دھرو۔٭اب بھلا عید پر ایک دوسرے سے گلے بھی نہ ملیں۔٭ بنا بازاروں میں گھومے عید کی شاپنگ کا مزا ہی کیا ہے…‘‘

درج بالا چند جملے دَر اصل جملے نہیں، مِن حیث القوم ہماراعمومی مزاج اور رویّےہیں،ہمارے معاشرے کے حقیقی عکّاس ۔ اور انہیں تحریر کرنے کا مقصد تنقید ہر گز نہیں، محض یہ بتانا مقصود ہےکہ ہم در حقیقت شعور ، احساس اور ذمّے داری کے کس درجے پر کھڑے ہیں۔ بچّوں سے لے کر بزرگوں تک ہماری قوم کے ہر فرد میں بے پروائی، غیر ذمّے داری کُوٹ کُوٹ کر بھری ہے۔امتحان کی تیاری کرنی ہو تو پیپر سے ایک رات پہلے پڑھتے ہیں، حکومت کہے سمندر پر نہیں جانا خطرہ ہے، تو لازماً جاتے ہیں، وَن وِیلنگ میں ہاتھ پَیر گنوانا منظور ہے، پر باز آنا نہیں۔ پان، گٹکا، چھالیا، تمباکو نوشی نہیں چھوڑیں گے، چاہے دنیا ہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے، مگر اب تو حد ہی ہوگئی ہے۔ اس بار تو پاکستانیوں نے ’’دلیری، پارسائی، ایمان داری اور شعور ‘‘ کے تمام ریکارڈز ہی توڑ دئیے ہیںبلکہ ہمیں تویہ کہنے میں بھی ہر گز کوئی عار نہیں کہ یہ ریکارڈ بنانے میں حکومتِ وقت نے بھی ان کا بھر پور ساتھ دیاہے،جب کہ ’’فہم و فراست‘‘ کا اصل ثبوت تو مقتدر جماعت کے رہنما وقتاً فوقتاً دے رہے ہیں۔

2019ء کے اواخر میں چین کے شہر، ووہان سےکورونا وائرس یا کووڈ 19کا پھیلاؤ شروع ہوااوردیکھتے ہی دیکھتے یہ وبا پوری دنیا میں پھیل گئی ، جس کی تباہ کاریاں تا دمِ تحریر جاری ہیں۔26 فروری 2020ء کو پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا، مگراس ضمن میںحکومت او رعوام دونوں قطعاً غیر سنجیدہ نظر آئے۔ اصولی طور پر تویہ ہونا چاہیے تھا کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فی الفور انتہائی سخت اقدامات کیے جاتے، بارڈرز سیل کرکے سخت لاک ڈاؤن کردیا جاتااور وائرس کے پھیلاؤ کے ابتدائی مرحلے ہی میں کنٹرول کر لیا جاتا، مگر ہمارے یہاں تو ایک عالم گیر وبا پر بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ شروع ہو گئی۔ وفاق اور صوبے روزِ اوّل سے کسی ایک فیصلے پر متفق نظر آئے اور نہ ہی کوئی مؤثر ،مربوط پالیسی ہی سامنے آسکی۔گزشتہ دِنوں نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم ، جسینڈاآرڈرن نے اعلان کیا کہ ان کا مُلک اب ’’کورونا وائرس فِری ‘‘ہے۔یہ اعلان کرتے ہوئے اُن کے چہرے پر جو خوشی کے رنگ تھے، وہ بلا شبہ حکومت اور عوام دونوں کا استحقاق ہیں کہ نیوزی لینڈ کی اس عالمی وبا کے خلاف بڑی کام یابی سے کسی صُورت صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔اگرکورونا کے خلاف اس ملک کی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا جائے ،تو نیوزی لینڈ نے وبا کے آغاز ہی سے مکمل لاک ڈاؤن کرکے مُلکی سرحدیں بند کر دی تھیں۔ 

یہ اقدامات اُس وقت کیے گئے، جب وہاں متاثرین کی تعداد 30 سے بھی کم تھی۔ 7 دن بعد لاک ڈاؤن میں مزید سختی کی گئی اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا گیا، جس پر انہوں نے سختی سے عمل بھی کیا۔ سخت لاک ڈاؤن کے پانچ ہفتوں بعد ٹیک اَوے فوڈ شاپس اور کچھ دیگر کاروبار کھول دئیے گئےاور اب صُورتِ حال یہ ہے کہ وہاں معمولاتِ زندگی بحال ہو چُکے ہیں۔اس کے بر عکس ، پاکستانی حکومت نے اس عالم گیر وبا کو بھی ایک مذاق اور کھیل تماشا ہی بنا دیا۔اوّل تو حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر کے ضمن میں کوئی اتفاقِ رائے ہی نہیں ہو سکا۔ دوم، خود حکومتی ارکان نہ صرف دھڑلے سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے نظر آئے بلکہ اس معاملے میں خود بھی کنفیوژ رہے اور عوام کو بھی تاحال کنفیوژن میں مبتلا کر رکھا ہے۔ 

کسی کا خیال ہے کہ ’’کورونا صرف فلو ہے‘‘،تو کوئی کہتا ہے ’’بھوک کورونا سے بڑا خطرہ ہے‘‘۔چند وفاقی وزراتو کورونا وائرس کو کم اور لاک ڈاؤن کو زیادہ خطرناک ثابت کرنے ہی میں لگے ہیں، حالاں کہ اگر ہمارے یہاں بھی بروقت حفاظتی اقدامات اختیار کر لیے جاتے اور ایس او پیز پر پوری سختی سے عمل در آمد ہوتا تو آج ہم بھی دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح اس وقت وبا کے خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہوتے، نہ کہ عروج کی طرف۔ پھر عوام کو بھی شاباش ہے کہ اکثریت اب تک یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کورونا وائرس بھی کسی عفریت کا نام ہے۔ ایک طرف طبّی عملہ جاں فشانی سے اپنے فرائض کی اَدائی میں مصروف ہے، عوام کو گھروں میں رہنے کی تلقین کر کے خود دن رات کام کر رہا ہے،تو دوسری طرف صرف نا خواندہ افراد ہی نہیں، مُلک کا پڑھا لکھا طبقہ بھی ایک عالم گیر وبا کو کسی صُورت سیریس لینے کو تیار نہیں۔ در اصل ہمیں دوسروں کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی عادت ہی نہیں ہے۔ کچھ ’’دانش وَر‘‘تو اب تک یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ کورونا کے نتیجے میں صرف پاکستان یا مسلم دنیا نہیں، پوری دنیا ہی مشکل حالات سے گزر رہی ہے، صرف مساجد نہیں، مندر، گرجا گھر وغیرہ سب بند ، سب ویران ہیں۔

طاقت وَر ترین سمجھے جانے والے مغربی ممالک بھی اس وقت معاشی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ یہودیوں کی سازش مسلمانوں کو مساجد سے دُور نہیں،علم و آگہی، تحقیق سے دُور کرناہے اور جس میں وہ بہت حد تک کام یاب بھی ہو چُکے ہیں ۔ہمارے غیر سنجیدہ ، غیر ذمّے دارانہ طرزِ عمل ہی کی بدولت آج پاکستان میں کورونا انتہائی خطرناک شکل اختیار کر چُکاہے۔ ایکٹیو کیسز، اموات کی شرح اس قدر بڑھ چُکی ہے کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم چوک ہوگیا ہے۔ 

ہلاکت خیز وائرس اور ہمارے منفی رویے
ڈاکٹر عزیز فاطمہ

اَن گنت افراد گھروں میں آئسولیٹ ہیں۔ متاثرہ افراد کی حتمی تعداد کا کوئی اندازہ نہیں۔ شاید ہی کوئی خاندان ایسا بچا ہوا، جس کا کوئی نہ کوئی فرد اس وبا کی لپیٹ میں نہ آیا ہو، اس سب کے با وجود ہمارے مجموعی رویّوں میں قطعاً کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔ اس ضمن میں جب ہم نے معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عزیز فاطمہ سے بات چیت کی تو اُن کا کہنا تھا کہ ’’انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم، بحیثیت قوم بالکل ناکام ہو چُکے ہیں۔ہمارے تعلیمی ادارے ڈگریاں تو بانٹ رہے ہیں، لیکن معاشرے سےجہالت ختم نہیں ہو رہی۔ با شعور عوام اس بحث میں نہیں پڑتےکہ فلاں بیماری کی حقیقت کیا ہے، وہ کوئی سازش ہے یا نہیں، ان کے لیے صرف اپنی حکومت کے متعین کردہ اصولوں کی پاس داری ضروری ہوتی ہے۔ یعنی حکومت نے کہہ دیا کہ ماسک، گلوز پہننے ہیں، گھروں سے بلا ضرورت نہیں نکلنا تو وہ یہی کریں گے۔

ہمارے یہاں تو الٹی ہی گنگابہتی ہے۔ ہمارے رویّوں سے احساسِ ذمّے داری کی کوئی جھلک ہی نظر نہیں آتی۔ہم بے حِسی کی انتہاؤں کو چُھو رہے ہیں۔ سائیکالوجی میں ایک اصطلاح، ’’ڈیفینس میکینزم‘‘ استعمال ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ لوگ بس اپنی بات کو درست ثابت کرنے کے بہانے ڈھونڈکر وہی کرتے ہیں، جوانہیں کرنا ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے بھی ہمارے عوام کا یہی حال ہے۔ چوں کہ گھر بیٹھنا، صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا ان کے لیے مشکل ہے، اس لیے وہ حیلے بہانے تراش رہےہیں۔ ہر دوسرا شخص کورونا کو ایک سازش سے موسوم کر رہا ہے۔ میرا تو خیال ہے ہماری تربیت میں بہت کمی ہے۔ذرا ذرا سی باتوں پر ہم لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں، لیکن سوچنے سمجھنے، غور و فکر کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ قوم کا مجموعی رویّہ یہ ہے کہ وہ اپنی ہر ناکامی کا ذمّے دار دوسروں کو ٹھہرادیتی ہے اور بد قسمتی سے یہ مزاج تعلیم یافتہ افراد کا بھی ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہماری آزادی، گھومنا پھرنا بند ہوگیا ہے، تو اس ہلاکت خیز وبا کو بھی مذاق قرار دے دیا ۔یاد رکھیں، جب تک ہم تعلیم سے زیادہ تربیت پر توجّہ نہیں دیں گے، ہمارے رویّوں میں سُدھار ہر گز نہیں آسکتا۔‘‘

ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں،پر ہماری بد قسمتی یہ ہےکہ ہم بے عمل مسلمان ہیں۔گھر وںمیں قر آن لازمی رکھتے ہیں، مگر اُسے سمجھ کر پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اسلام کو اپنا دین کہتے ہیں، پر اس کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے، کیوں کہ اگر ہم سچّے مسلمان ہوتے تو وبا کو مذاق سمجھ کر اس طرح بے وقوفیاں نہ کر رہے ہوتے۔ ہمارا ربّ ہمیںتحقیق و جستجو، حصولِ علم کی تلقین کرتا ہے، مگر ہمیں تو سائنس، تحقیق سے خدا واسطے کا بیر ہے۔حد تو یہ ہے کہ ان بد ترین حالات میں بھی ہم جھوٹ ، فریب، دھوکا دہی جیسی بد عات ہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ مُلک میں ماسکس کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا، تو 20،20 روپے کے گلوز،ماسکس 500 سے 900 روپے تک میں فروخت ہونے لگے، سینی ٹائزرز نایاب ہوگئے۔ معمولی جڑی بوٹیوں کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ dexamethasone سمیت جتنی بھی ادویہ سے متعلق خبرآئی کہ یہ کورونا کے مریضوں کے لیےکار آمد ثابت ہو سکتی ہیں، وہ مارکیٹ سے یا تو غائب ہوگئیں یا انتہائی منہگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔

پلس آکسی میٹر، آکسیجن سلینڈرز دگنی قیمتوں پر بھی دست یاب نہیں۔ اور ہماری اخلاقی پستی کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی کہ اب تونوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ کورونا جیسے جان لیوا مرض سے صحت یاب ہونے والے افراداپنا پلازما عطیہ کرنے کے بجائے لاکھوں روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔یہ تو حال ہے ہمارے مجموعی رویوں، اخلاقیات کا، پھر افسوس کرتے ہیں کہ حج پر پابندی لگ گئی، عُمرے پر کیسے جائیں۔کیا اللہ نیتوں کا حال نہیں جانتا۔ ہمیں اگراس قیامت خیز گھڑی میں بھی صرف اپنے کاروبار، اپنی آزادی، اپنی خواہشات کی فکر ہے، تو اللہ کو نہ ہماری عبادات کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہماری حاضری کی۔ ہمارے اسی اخلاقیات سے عاری غیر ذمّے دارانہ رویّے کے حوالے سے سربراہ شعبۂ طِبّ ِ نفسیات و علوم ِ رویّہ جات ، جناح اسپتال ،ڈاکٹر اقبال آفریدی کا کہنا ہے کہ ’’کورونا کی ویکسین تو بعد میں بنے گی،ہمیں پہلے لوگوں کی سوچ ٹھیک کرنے کی ویکسین بنانی ہوگی کہ جب تک عمومی سوچ ٹھیک نہیں ہو گی، تب تک عوام کوئی ایس او پی یا اپنے فائدے کی بات سمجھنے سے قاصر ہی رہیں گے۔ 

ہلاکت خیز وائرس اور ہمارے منفی رویے
ڈاکٹر اقبال آفریدی

جہاں تک بات ہےعوام کو ایس او پیز فالو کروانے کی، تو اس کی سب سے بہتر حکمتِ عملی یہی ہو سکتی ہے کہ شعبۂ طِب، سائنس اور مذہب کے ایسے نام وَر لوگوں کو یہ کام سونپا جائے ، جن کا معاشرے میں ایک نام ، ایک مقام ہے۔ جن کی بات لوگ سُنتے بھی ہیں اور مانتے بھی۔ جیسے ڈاکٹر ادیب رضوی، مولانا طارق جمیل ، مولانا تقی عثمانی وغیرہ سے کہا جائے کہ وہ لوگوں کو ایس او پیز کی پاس داری کی ترغیب دیں۔ 

انہیں بتائیں کہ سائنس اور مذہب میں تصادم نہیں ۔ لوگوں کو سادہ الفاظ میں سمجھانا ہوگاکہ اسلام اور سائنس میںکوئی ٹکراؤ نہیں ہے، سائنس آج جو کچھ دریافت، ایجاد کر رہی ہے، وہی باتیں مذہب ہزاروں سال پہلے بتا چُکا ہے۔ صاف سُتھرا رہنا تو ہمارا نصف ایمان ہے۔ اگر ہم لوگوں کی سوچ ٹھیک کرنے میں کام یاب ہوگئے، تو رویّے آپ ہی آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ اس کے لیے حکومت کو چاہیے کہ ماہرینِ نفسیات ، مذہبی اسکالرز، ڈاکٹرز ، شوبز سلیبریٹیزوغیرہ پر مشتمل ایک ٹیم بنائے۔ ماہرینِ نفسیات اس ٹیم کو ایک حکمتِ عملی بنا کر دیں اور پھر اس کے تحت لوگوں کو کورونا سے محفوظ رہنے کی ترغیب دی جائے کہ ہمارے عوام کی یہی نفسیات ہے کہ وہ صرف اپنے پسندیدہ افراد کی بات ہی سُنتے اور اُس پرعمل کرتے ہیں۔‘‘

ذرا تصوّر کریں کہ کسی عزیز، کسی اپنے کو اچانک کھو دینا کیسا ہے؟ یقیناً کسی قیامت سے کم نہیں۔ اگر پھر بھی چند افراد اسے عالمی وبا نہیں، ایک سازش یاجھوٹ تصوّر کرتے ہیں تو یہ ان افراد کا تمسخر اُڑانا ہی ہے، جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس مرض کی وجہ سے کھو دیا۔ یہ ان سائنسی شواہد اور ان سائنسی علوم کی بھی توہین ہے، جنہیں یک جا کرتے ، کئی دَہائیاں گز ر گئیں، اُس علم و تحقیق کی توہین ہے، جو مسلمانوں کی بھی میراث ہے۔ خدارا! اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لیں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے سنجیدگی اختیار کریں، احتیاط برتیں، سماجی فاصلہ اپنائیں، ماسک، گلوز پہنیں، صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں اور بلا ضرورت گھر وں سے نکلنے سے گریزکریں۔سچ تو یہ ہے کہ جب تک ہمارے درمیان کم عقل، کم علم،مگر خود کو عقلِ کُل سمجھنے والے لوگ موجود ہیں، تب تک یہودیوں، عیسائیوں یاہندوؤں کو ہمارے خلاف کوئی سازش کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ۔

حکومتی نمائندوں کے غیر سنجیدہ رویّے، بیانات…

کہا جارہا ہے کہ پاکستانی عوام کے غیر ذمّے دارانہ رویّے کی وجہ سے یہاںکورونا وائرس خطرناک حد تک پھیلا ، لیکن اس بات سے بھی کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عوام کی غیر سنجیدگی کے ذمّےدار بھی کسی نہ کسی حد تک حکمران اورحکومتی نمائندے ہی ہیں۔عوام کےکورونا کو مذاق سمجھنے کی ایک وجہ متعددوزرا کے غیر منطقی اور غیر سنجیدہ بیانات بھی ہیں۔ جیسے خود وزیرِ اعظم، عمران خان نے 17مارچ 2020ء کو قوم سےایک خطاب میں کہا کہ ’’ کورونا وائرس ایک قسم کا فلو ہے، جس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ انتہائی جلدی پھیلتا ہے، لیکن اطمینان بخش بات یہ ہے کہ اس میں مبتلا 97 فی صد مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں۔تو آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ‘‘مگر 8 جون 2020ء کو دوبارہ قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ’’لوگ کورونا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ 

عام لوگ سمجھ رہے ہیں کہ یہ بس فلو ہےاور اسی وجہ سے اس پر دھیان نہیں دے رہے ۔ اگر ہم نے اسی طرح بے احتیاطی کی، تو ہم سب کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیں گے۔ ‘‘ اسی طرح جب پاکستان میں کورونا کے کیسز تیزی سےرپورٹ ہونا شروع ہوئے، تو پاکستان تحریکِ انصاف ، کراچی کے صدر اور رکنِ سندھ اسمبلی ،خرم شیر زمان نے بنا کسی تحقیق کے بیان داغ دیا کہ ’’پاکستان میں موجود کورونا وائرس وہ والا کورونا نہیں، جو اٹلی میں ہے، یہاں جو کورونا آیا ہے وہ کم زور ہے۔‘‘اور پھر علمیت و قابلیت کے تمام ترریکارڈز تو وزیرِ ماحولیات ،زرتاج گُل نے توڑے،جب گزشتہ دنوں نیشنل ٹیلی وژن کے ایک پروگرام میں بیٹھ کے فرمایا کہ ’’ کووڈ 19 کا مطلب ہے کہ اس کے 19 پوائنٹس ہیں اور یہ مختلف مُلکوںمیںالگ الگ طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔‘‘ اس بیان پر جب سوشل میڈیا میں انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو غلطی ماننے کے بجائے بیان دیاکہ ’’روزانہ ٹی وی پر گھنٹوں بات کرتی ہوں، پرچی کے بغیر کہنا چاہتی تھی کہ وبا کا اثر، شدّت مختلف ممالک میں مختلف ہے۔ چند لمحوں کی خطا پر یوں ماتم کناں ہونے کےبجائے اپنی جماعتوں کے حشرنشر پر توجّہ دیں۔ مَیں تنقید سے نہیں گھبراتی اورمضبوط ہوتی ہوں۔‘‘ دوسری جانب، نیوزی لینڈ سے آنے والی خبر ملاحظہ فرمائیں کہ وہاں کورونا وائرس کے حوالے سے احمقانہ بیانات دینے پر وزیرِ صحت، ڈیوڈ کلارک مستعفی ہوگئے۔ کیوی وزیرِ صحت نے مُلک میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر خود کو احمق قرار دیا۔ 

گزشتہ ہفتے انہوں نے ایک مقبول ہیلتھ ورکر کو بارڈر پر کی جانے والی غلطیوں کا ذمّے دار قرار دیا تھا، جس پر لوگوں نے اُنہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور غصّے کا اظہار کیا، جس پر ڈیوڈ کلارک مستعفی ہوگئے۔ باشعور، غیرت مند اقوام کے وزرا اور لیڈرز ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی عزّت پر حرف آئے، تو عُہدہ چھوڑنے میں دیر نہیں لگاتے، جب کہ ہمارے ہاں تو غلطیوں پر غلطیاں کرنے کے با وجود غلطی ماننا تو کُجا،احساسِ ذمّے داری تک پیدا نہیں ہوتی۔ویسے اگر نیوزی لینڈ ہی کی طرز پر احمقانہ بیانات دینے پر پاکستان میں بھی کوئی روایت چل نکلی تو شاید قائدِ ایوان سمیت پوری اسمبلی ہی کو مستعفی ہونا پڑے گا…

سنڈے میگزین سے مزید