آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

علی زیدی میرے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں، نبیل گبول


کراچی (ٹی وی رپورٹ)پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے کہا ہے کہ علی زیدی وفاقی وزیر ہو کر میرے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں، میں نے جے آئی ٹی کو نقلی نہیں کہا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ جے آئی ٹی میں عذیر بلوچ کے بہت سے جرم نہیں ہیں۔

سندھ حکومت کی جاری کردہ جے آئی ٹی اصلی ہے اس پر تمام اداروں کے دستخط ہیں،علی زیدی نے ذوالفقار مرزا کو ہیرو قرار دے کر اپنا کیس خود کمزور کرلیا ہے، اگر ذوالفقار مرزا ہیرو ہے تو پھر علی زیدی تمام دہشتگردوں کو اپنا ہیرو بنالے۔ وہ جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ 

پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما ولید اقبال،ن لیگ کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی بھی شریک تھے۔ولید اقبال نے کہا کہ عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی سے سندھ میں سیاست اور جرائم کا گٹھ جوڑ ثابت ہوتا ہے، نیب قانون یا ادارے میں کوئی اچھا ئی یا برائی ہے تو اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت نہیں ہے۔

محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ علی زید ی حکومتی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں، میر شکیل الرحمن کی درخواست ضمانت خارج ہونے پر افسوس ہوا، توقع کرتے ہیں جلد ان کی ضمانت ہو اور پاکستان کا میڈیا جلد اس گھٹن کے ماحول سے آزاد ہو۔

عابد ساقی نے کہا کہ نیب عدالتیں بند کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ پہلے سے بند ہیں، ہمارے ملک میں نظام انصاف مکمل طور پر منہدم ہوچکا ہے، وزیراعظم کو جو فیڈ کیا جاتا ہے اسی بنیاد پر فیصلے کررہے ہیں، اس قوم کو ایسے شخص سے نجات حاصل کرنے کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نےکہا کہ علی زیدی وفاقی وزیر ہو کر میرے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں، علی زیدی قومی اسمبلی میں غیرسنجیدہ بیان دے کر پھنس گئے ہیں،علی زیدی کہتے ہیں نبیل گبول نے بھی جے آئی ٹی کو نقلی کہا تھا، میں نے جے آئی ٹی کو نقلی نہیں کہا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ جے آئی ٹی میں عذیر بلوچ کے بہت سے جرم نہیں ہیں۔ 

نبیل گبول نے کہا کہ جے آئی ٹی میں یہ بھی بتائیں کس طرح سترہ سال کے بچے کی گردن کاٹ کر اسے ایک دن کھمبے سے لٹکاکر رکھا گیا تاکہ لوگ دہشت زدہ ہوں، اس میں یہ بھی ذکر نہیں ہے کہ ایک ایس ایچ او کو اے پی سی میں مارا گیا۔

اے پی سی میں گولی کیسے گئی اور اسے وہاں بھیجنے والا افسر کون تھا جس کا عذیر بلوچ سے رابطہ تھا، جے آئی ٹی میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ لسبیلہ، پاک کالونی اور برنس روڈ سے 120لوگ اغوا کر کے رکھے گئے جس میں 17لوگوں کو بری طرح مارا گیا،رحمٰن ملک نے رینجرز کے ذریعہ مداخلت کر کے باقی لوگوں کو چھڑوایا تھا۔ 

نبیل گبول کا کہنا تھا کہ 2016ء میں تین جے آئی ٹیز بنی تھیں، ان تینوں جے آئی ٹیز پر اداروں کے آپس میں اختلافات تھے، ایک جے آئی ٹی پر ڈیڈلاک ہوگیا تھا اس پر کسی کے دستخط نہیں تھے، دوسری جے آئی ٹی پر اداروں اور پولیس میں اختلافات ہوئے تو اس پر پولیس کے دو افسروں کے دستخط نہیں تھے۔

وفاقی تحقیقاتی اداروں کے چار افسران کے دو جے آئی ٹیز پر دستخط ہیں، علی زیدی چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کے بجائے وزیراعظم سے کہیں کہ وہ ان اداروں سے پوچھیں کہ ان چار افسران نے دو جے آئی ٹیز پر کیسے دستخط کردیئے، سندھ حکومت کی جاری کردہ جے آئی ٹی اصلی ہے اس پر تمام اداروں کے دستخط ہیں۔ 

نبیل گبول نے کہا کہ علی زیدی کہتے ہیں 2017ء میں کوئی موٹر سائیکل پر ان کیلئے لفافہ چھوڑ گیا تھا جس میں جے آئی ٹی تھی، اسی رات کوئی میر ے گھر بھی ایک خاکی لفافہ چھوڑ گیا تھا، اس لفافے پر لکھا تھا with love جب میں نے لفافہ کھولا تو وہ لو لیٹر ہی نکلا لیکن اس پر نام علی زیدی کا لکھا تھا، وہ لفافہ پڑھا تو پتا چلا کہ وہ کس کی طرف سے آیا ہے، میرا لفافہ علی زید ی کے گھر جبکہ علی زیدی کا لفافہ میرے گھر آگیا تھا۔

نبیل گبول کا کہنا تھا کہ علی زیدی نے ذوالفقار مرزا کو ہیرو قرار دے کر اپنا کیس خود کمزور کرلیا ہے، علی زیدی جی ڈی اے کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اس لئے ذوالفقار مرزا کو ہیرو کہہ رہا ہے، اگر ذوالفقار مرزا ہیرو ہے تو پھر علی زیدی تمام دہشتگردوں کو اپنا ہیرو بنالے، لیاری گینگ وار کے ماسٹر مائنڈ کو علی زیدی اپنا ہیرو کہہ رہے ہیں۔

ذوالفقار مرزا نے ہی پیپلز امن کمیٹی بنائی تھی وہ عذیر بلوچ کو اپنا بچہ مانتا تھا ،علی زیدی صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے باتیں کررہے ہیں، گھاس منڈی کا پی ٹی آئی کا ایم پی اے دبئی میں عذیر بلوچ کا اسکریپ کے بزنس میں پارٹنر تھا، علی زیدی اپنا کیس ہار چکے ہیں اس لئے خاموش ہوجانا چاہئے۔

تحریک انصاف کے رہنما ولید اقبال نے کہا کہ عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی سے سندھ میں سیاست اور جرائم کا گٹھ جوڑ ثابت ہوجاتا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ 2016ء میں بنی مگر سندھ حکومت نے ابھی تک جاری نہیں کی تھی، علی زید ی نے اس معاملہ کو اچھالا تو سندھ حکومت کو مجبوراً رپورٹ جاری کرنا پڑی، جے آئی ٹی رپورٹس صرف اپنے نتائج پیش کرتی ہیں فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہوتا ہے۔ 

ولید اقبال کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی طرف سے 120احتساب عدالتیں قائم کرنے اور کیسوں کو جلد نپٹانے کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہیں، نیب قانون یا ادارے میں کوئی اچھا ئی یا برائی ہے تو اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت نہیں ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی دس سال اکثریت رہی لیکن نیب قانون میں تبدیلی نہیں لائے، پی ٹی آئی حکومت ہی نیب قانون میں ترمیم کیلئے آرڈیننس لائی، ہماری حکومت میں نیب قانون میں اصلاحات کیلئے قدم اٹھایا گیا ۔ 

ن لیگ کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ علی زید ی حکومتی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں، چیف جسٹس کابینہ میں بیٹھے مافیاز ، مفادات کے تصادم اور دوائیوں کے بحران کا بھی نوٹس لیں، علی زیدی پورٹ اینڈ شپنگ کی کارکردگی ایوان میں رکھیں۔

نیب قانون پر پچھلی پارلیمنٹ میں بل فائنل ہوگیا تو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھاگ گئی تھیں، موجودہ حکومت میں اس وقت کوئی وزیرقانون نہیں ہے، وزیرقانون وزارت کی باگ دوڑ سنبھالنے کیلئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے کا انتظار کررہا ہے۔

فروغ نسیم نے وکالت کرنی ہے تو وزارت چھوڑ دیں،اگر وزیر بننا ہے تو وکالت نہ کریں وزارت کے معاملات ٹھیک کریں،وزیرقانون واٹس ایپ پر ججوں کا ٹرانسفر کرتے ہیں اس طرح عدالتیں آزاد فیصلے کیسے کریں گی۔ 

محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ کسی صحافی کی رپورٹ ناگوار گزرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ چینل بند کردیا جائے، میر شکیل الرحمن کی درخواست ضمانت خارج ہونے پر افسوس ہوا، توقع کرتے ہیں جلد ان کی ضمانت ہو اور پاکستان کا میڈیا جلد اس گھٹن کے ماحول سے آزاد ہو۔

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی نے کہا کہ نیب عدالتیں بند کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ پہلے سے بند ہیں، ملتان سمیت کئی علاقوں میں نیب کے ججوں کی تقرری نہیں کی جارہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید