آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بجٹ سے پہلے مائنس ون کا شوشہ چھوڑا گیا تاثر یہ دیا گیا کہ یہ مطالبہ اپوزیشن کی طرف سے آیا ۔مگر سب سے پہلے جے یو آئی کے معزول مو لانا عبدالغفور نے تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ جے یو آئی کے دھرنے کے دوران مائنس ون کا پیغام بھجوایا گیا تھا۔ مگر پی ٹی آئی کی طرف سے رد کر دیا گیا تھااور وہ قِصّہ ختم ہو گیا تھا۔پھر مسلم لیگ (ن)کے شاہد خاقان عباسی کا بیان آیا کہ مائنس ون کا وقت گز ر چکا ہے ۔اب اس سے کوئی فائدہ نہیں پی ٹی آئی حکومت ناکام ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال نے بھی اس کی تائید کی تو پھر پی ٹی آ ئی والوں میں ہل چل مچی اور شیخ رشید جو ماہرنباض سیاست دان ہیں ،فوراََمیدان میں کودے اور اپنے نمبر بڑھانے کے لئے مائنس ون کے بجائے مائنس تھری بھی ہو گا کا بیان دیا۔انہوں نے اشارتاً کوئی نام نہیں لیا ، البتہ پوری اپوزیشن کو نکما اور نالائق قرار دیا،پھر پی ٹی آئی کی طرف بھی اپنا نزلہ گرایا کہ وہ اپنے گندے انڈوں سے ہوشیار رہےاور اپنے گندے کپڑے ٹی وی پر آکر نہ دھوئے اور پیٹرول کی قیمتوں کا اضافہ بھی سازش قرار دیا۔پھر ریلوے کی اعلیٰ کارکردگی کی تعریف کرتےہوئے سوا لاکھ نوکریوں کی نوید سنا ئی، واشگاف الفاظ میں کسی ملازم کو بھی ریلوے سے نہ نکالنے کا اعلان کیا ۔ آٹا ،چینی کی برآمدکے خلاف بھی بیان دیا اور کہا اپوزیشن وزیر اعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی کرپشن میں ملوث افراد نہیں چھوٹ سکتے اور نہ ہی ان کو این آر او ملے گا،وغیرہ وغیرہ ۔ جب بجٹ پاس ہو گیا تو وزیر اعظم عمران خان نے فرمایا اگر فرض کریں ،مائنس ون ہو بھی گیا تو پی ٹی آئی کی پالیسیاں وہی رہیں گی،کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔یہ پہلا موقع تھا جب عمران خان نے اعتراف کیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے اوروہ اب اتنے مضبوط وزیر اعظم نہیں رہے۔اس پر میڈیا نے مائنس ون پر طرح طرح کے نام پیش کرنے شروع کر دئیے ۔سب سے مضبوط امیدوار اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی نشاندہی کی مگر دونوں کی طرف سے زبر دست تردید آگئی اور دونوں نے پارٹی میں پھوٹ کی تردید کرتے ہوئے متبادل وزیر اعظم بننے سے انکار کر دیا ۔اس کے بعد پھر بحث چھڑ گئی اور فیصل واوڈا نے تو حد ہی کر دی اور کہا بغیر وزیر اعظم عمران خان پی ٹی آئی زیرو ہے اور کہا مجھ سے بہت پہلے ہی وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا جو میرے ساتھ اختلاف کرے گا وہ پی ٹی آئی میں نہیں رہ سکتا۔

اصل صورت حال یہ ہے جب سے آٹا ،چینی اور پیٹرول میں ملوث پی ٹی آئی کے وزرا اورسر کردہ افرادجن کی نیب کمیشن نے نشاندہی کی تھی ۔وہ سب اندرونی طور پر گروپ بندی میں مصروف ہیں اور اپنی صفیں درست کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ جن میں اتحادی پارٹیاں بھی شامل ہیں ۔چوہدری برادران نیب کیسز دوبارہ کھلنے سے اکھڑے ہو ئے ہیں ۔وہ وزیر اعظم عمران خان سے خائف ہیں اس لئے چوہدری شجاعت وزیر اعظم کے عشائیے میںشریک نہیں ہو ئے اور نہ ہی وجہ بتائی۔ چوہدری پرویز الٰہی نے اسلام آباد میںمندر بنانے پر لب کشائی کے ساتھ زبر دست تنقید اور مذمت کی حالانکہ اس سے قبل جب سکھوں کا گردوارہ تعمیر کروایا اور کرتار پور کی سرحد کھولی گئی توکسی نے تنقید کی نہ مذمت کی۔ حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام علماء خاموش رہے ۔کسی نے خدشہ طاہر نہ کیا کہ اس راہداری سے سب سے زیادہ فائدہ قادیانیوں کو پہنچے گا۔دوسری طرف چینی مافیا کے سرپرست جہانگیر ترین جو عمران خان سے ناراض ہو کرچیک اپ کی آڑ میں لندن جا بیٹھے ہیں ، وہیں سے ما ئنس ون کے تانے بانے بننے میں لگے ہوئے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن)کے کرتا دھرتا افراد سے وہ رابطہ میں ہیں کسی وقت شریف برادران سے ملاقات بھی طے ہو سکتی ہے۔اگر آسمانی مخلوق نے ساتھ دیا تو وہ اپنے پالتو ایم این اے اور ایم پی اے ساتھ لے کر مائنس ون کے فارمولے پر عمل در آمد کرانے میں ہر گز دیر نہیں کریں گے اور جو کام اپوزیشن سے نہیں ہو سکا وہ کام پی ٹی آئی کے اپنے کردیںگے ۔پھر ایک ایک کر کے یہ اتحادی جماعتیں اور افراد اپنا اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کر لیں گے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ 60فیصد افراد تو پی ٹی آئی میں دوسری جماعتوں سے بھاگ کر پناہ لئے ہو ئے ہیں اوروہ صرف حالات اور اُوپر کے اشاروں پر ہی جماعتوں میں آتے جاتے رہتے ہیں ۔جیسے شیخ رشید مسلم لیگ(ن)کے میاں نواز شریف کی جلاو طنی کے فوراََ بعد جنرل پرویز مشرف کی گود میں جا بیٹھے اور پھر چوہدری برادران نے مسلم لیگ (ق)کی بنیاد ڈالی اور آج یہ دونوں حضرات پی ٹی آئی کے ہر اول دستے میں شمار ہوتے ہیں ۔یہ سب کسی کے اشاروں کے منتظر ہوتے ہیں ۔پی ٹی آئی کی حکومت پے در پے غلطیاں ،نادانیاں اور اب کرپشن میں بھی ملوث ہو چکی ہے۔وزیر اعظم عمران خان اس مضبوط مافیا کو کنٹرول نہیں کر سکتے اور پوری قوم اس تبدیلی سے سخت پریشان ہو کر پی ٹی آئی کی مخالفت میں آگے جا چکی ہے ۔جبکہ مرکز خود صوبائی سیاست میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہے۔معیشت ایک طرف کورونا سے متاثر ہے تو دوسری طرف نا اہل وزرا معیشت کا بھٹہ بٹھا چکے ہیں۔مہنگائی اور کرپشن کو روکنااب پی ٹی آئی کے بس میں نہیں رہا ۔70سال پرانے سسٹم کو دو،ڈھائی سال میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ڈھیلے ڈھالے قوانین پرانے کرپٹ بیورو کریٹس ،وکلاء اور دیگر مافیا اکیلے عمران خان کے بس میں نہیں رہے ۔اسی لئے مائنس ون کو میدان میں چیک کرنے کے لئے ہی چھوڑا گیا ہے۔جیسے ہی کورونا وائرس کنٹرول میں آیاپھر شاید مائنس ون پر عمل ہو سکے ۔