آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھارت، پاکستان کیخلاف استعمال ہونیوالے بجٹ میں سو فیصد اضافہ

بھارتی حکومت کے مرکزی بجٹ برائے 2020ء - 2021ء  میں دفاعی بجٹ میں زبردست اضافے کی نشاندہی کی گئی تھی ، بھارتی بجٹ میں ہمسائے ممالک میں بھارتی مفادات کے تحفظ اور خصوصی طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کیے جانے والے مخصوص دفاعی بجٹ میں سو فیصد اضافہ کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

یورپی ریسرچ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بھارت ’دفاعی اخراجات‘ کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے جس نے سال 2020 سے 2021 کے لیے 77 کھرب 85 ارب روپے کا دفاعی بجٹ منظور کیا  ہے، اس بجٹ کا موازنہ پاکستان کے دفاعی بجٹ 12 کھرب 90 ارب روپے سے بھی کیا گیا تھا۔

مالی سال 2020-21 کے لیے بھارتی حکومت کے 428 بلین ڈالر کے بجٹ کا  اعلان ہوا ہے جبکہ بھارت ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے ملکی معیشت کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہے۔

دنیا بھر میں فوج اور دفاعی معاملات پر ہونے والے اخراجات سے متعلق قبل ازیں سویڈن کے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک نے 2019ء میں ریکارڈ 1.9 کھرب ڈالر فوجی اخراجات کیے۔

بھارت کا مرکزی بجٹ برائے 2020ء-2021ء وزیر مالیات بھارت نرملا سیتھارمن نے 1 فروری 2020ء کو بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں میں پیش کیاتھا، یہ نریندر مودی کی زیر قیادت قومی جمہوری اتحاد کی دوسری حکومت کا دوسرا بجٹ ہے جس میں اس مد میں بجٹ میں سو فیصد اضافہ کیا گیا ہے، یہ رقم بھارت اپنے ایجنٹوں کے ذریعے استعمال کرتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکا نے ایشیائی ممالک خصوصی طور پر ایران میں اپنے اثرورسوخ کا بڑھانے کے لیے بجٹ میں بھاری رقم مختص کی ہے۔

سال 1969-70ء میں بھارتی حکومت نے فنڈ استعمال کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں مفتی باہمی کو فنڈ دے کر بنگلہ دیش کی راہ ہموار کی تھی جس کا اعتراف بھارتی وزیر اعظم مودی ایک انٹر ویو میں تین سال قبل کر چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ریکارڈ فوجی اخراجات میں چین اور بھارت بھی پہلی مرتبہ شامل ہوگئے ہیں، یعنی امریکا اور چین کے بعد بھارت دنیا کا تیسرا ملک ہے جس نے گزشتہ سال سب سے زیادہ فوجی اخراجات کیے، بضٹ کی مد میں یہ بھاری رقم براہ راست ہمسائے ممالک جن میں پاکستان، افغانستان، ایران بھی شامل ہیں خرچ کی گئی۔

خاص رپورٹ سے مزید