آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

زندگی معمول پر نہیں آئے گی، دنیا غلط راستے پر، مستقبل قریب میں کورونا اثرات کم ہونے کا امکان نہیں، عالمی ادارہ صحت، بھوک کی صورتحال بدتر ہورہی ہے، اقوام متحدہ

مستقبل قریب میں کورونا اثرات کم ہونے کا امکان نہیں، عالمی ادارہ صحت


جنیوا، نیو یارک، پیرس، اسلام آباد (جنگ نیوز، اے ایف پی، خبر ایجنسیاں، تنویر ہاشمی)عالمی ادارہ صحت نے کہاہےکہ کورونا وائرس کے حوالے سے دنیا غلط راستے پر، مستقبل قریب میں کورونا اثرات کم ہونیکا امکان نہیں،زندگی معمول پر نہیں آئیگی.

اقوام متحدہ کاکہناہےکہ بھوک کی صورتحال بدتر ہورہی ہے، جی7 وزرائے خزانہ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ قرض دہندہ امیر ملک سود وصولی بند کریں۔

ادھر دنیا کے 80امیر ترین افراد نےاپنے کھلےخط میں کہاہےکہ کورونا کےپیش نظر ہم سمیت دولت مندوں پر بھاری ٹیکس لگائیں،دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ نے کہاہےکہ بشمول پاکستان جنوبی ایشیا کی شرح نمو 1.8فیصد رہنے کی توقع ہے۔

مشترق وسطیٰ کو نصف صدی کے بدترین معاشی حالات کا سامنا ہوگا۔تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بعض حکومتیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدام نہیں اٹھاتیں تو صورتحال مزید خراب اور خراب تر ہونے والی ہے۔

ہم ان ممالک میں ’متاثرین میں خطرناک اضافہ‘ دیکھ رہے ہیں جہاں ’خطرے کو کم کرنے کے لیے ثابت شدہ اقدامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا،ڈاکٹر ٹیڈروس نے پیر کو جنیوا میں ایک بریفنگ میں کہا کہ مجھے دو ٹوک الفاظ میں کہنے دیں کہ بہت سارے ممالک غلط سمت کی طرف جا رہے ہیں۔

وائرس عوام دشمنی میں نمبر ایک ہے لیکن بہت ساری حکومتوں اور لوگوں کے اقدامات سے اس کی عکاسی نہیں ہوتی،رہنماؤں کے ملے جلے پیغامات، وبائی مرض کو قابو میں کرنے کی کوششوں پر پانی پھر رہے ہیںاگرچہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے ان رہنماؤں کا نام لے کر تذکرہ نہیں کیا ، لیکن کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ایسے رہنماؤں کی جانب تھا جن پر وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے وسیع پیمانے پر تنقید کی گئی ہے۔

ڈاکٹر ٹیڈروس نے مزید کہا اگر بنیادی باتوں پر عمل نہیں کیا جاتا ہے تو صرف ایک ہی راستہ باقی ہے،صورتحال خراب سے خراب ترین ہو جائے گی۔دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہناہےکہ کوروناوائرس سے دنیا بھر میں بھوک اور افلاس کی صورتحال بدترین ہوگئی ہے۔

کوروناوائرس کے دنیا پر اثرات سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کاہر 9میں سے ایک شخص بھوک و افلاس کا شکار ہورہا ہے، معاشی ابتری، ماحولیاتی مسائل اور مہنگائی، بھوک و افلاس میں اضافےکا سبب بن رہی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید