آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عمر کے اس حصے میں جنید خان یا کسی اور فاسٹ بولر سے لڑائی کا سوچ نہیں سکتا

زیادہ پرانی بات نہیں ہے اپریل میں پا کستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کی طرح وقار یونس بھی وہاب ریاض اور محمد عامر کے ٹیسٹ نہ کھیلنے کے فیصلے پر خاصے برہم دکھائی دیتے تھے۔

 پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ اور اپنے دور کے عظیم فاسٹ بولر وقار یونس کہہ رہے تھے کہ فاسٹ بولرز وہاب ریاض اور محمد عامر نے آسٹریلوی دورے سے پہلے اچانک ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر کے پاکستان کو نقصان پہنچایا اور ایسا کر کے یہ دونوں پاکستانی ٹیم کو مشکل میں چھوڑ گئے تھے۔ ان کے انکار کی وجہ سے ہی نوجوان فاسٹ بولرز ٹیم میں شامل کیے گئے۔تین ماہ بعد حالات نے پلٹا کھایا پہلے وہاب ریاض اور اب محمد عامر پاکستان ٹیم میں شامل ہوگئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک بار پھر فاسٹ بولر محمد عامر کی یاد آ گئی۔ محمد عامر کو چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کی خواہش اور درخواست پر انگلینڈ بھیجا جارہا ہے جہاں وہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے دستیاب ہوں گے۔اسپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے کی وجہ سے محمد عامر کو پانچ سال کرکٹ سے دور رہنا پڑا تھا۔ 

واپسی کے بعد سے اگرچہ وہ تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں لیکن ان کی کارکردگی میں مستقل مزاجی کا فقدان رہا ہے اور یہ چیز ان کے اعدادوشمار سے بھی واضح ہو جاتی ہے۔ 2017 کی چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میں اگر وہ اپنے خطرناک اسپیل کی وجہ سے ہیرو بنے تھے تو صرف ایک سال بعد ایشیا کپ میں ان کی مایوس کن کارکردگی کپتان اور کوچ پریشانی کا سبب بن گئی تھی۔

محمد عامر نے گذشتہ سال ورلڈ کپ میں17 وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن بھارت کے خلاف تین اور آسٹریلیا کے خلاف پانچ وکٹیں ٹیم کو جیت سے ہمکنار نہیں کر پائی تھیں۔ ایک عام رائے یہ ہے کہ محمد عامر پانچ سال کی پابندی کے بعد اپنے بین الاقوامی کریئر کو اس مقام پر لے جانے میں کامیاب نہیں ہو پائے جس کی توقع کی جارہی تھی۔

حالانکہ وہ اس وقت28سال کے ہیں لیکن سب سے اہم فارمیٹ یعنی ٹیسٹ کرکٹ سے خود کو الگ کر کے اور سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر ہو کر انہوں نے اپنا کریئر محدود کرلیا ہے لیکن اس کے باوجود جب بھی ٹیم کسی مشکل میں ہوتی ہے تو نظر محمد عامر پر ہی جا ٹھہرتی ہے۔ 

قومی کر کٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی ناگزیر نہیں ہے، جو اچھی بولنگ کرے گا وہی فائنل الیون میں شامل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شاہین اور نسیم کو وقار اور وسیم کا متبادل قرار دینا قبل از وقت ہوگادونوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، اسکلز اور توانائی بھی بھرپور ہے، دونوں کے پاس پیس تو پہلے سے تھی ، وکٹیں لینے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ مجھے امید ہے نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی پاکستان کیلئے لمبے عرصے تک کھیلیں گے، نسیم شاہ اور شاہین شاہ میری نظر میں جوفرا آرچرد اور مارک ووڈ سے زیادہ اسکل والے بولر ہیں۔

وقار یونس نے کہا کہ اگر کوئی فاسٹ بولر خود کو فٹ رکھ سکتا ہے تو اس کے تینوں فارمیٹ کھیلنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے ،اسکور کارڈ دیکھ کر کھلاڑیوںکو جج کرنے اور یہاں بیٹھ کر پرفارمنس دیکھنے میں فرق ہے۔اگر وکٹ اسپین بولنگ کے لئے ساز گار ہوئیں تو دو اسپنرز کو بھی کھلاسکتے ہیں۔

محمد عامر کی پرواز انگلینڈ کے لئے اڑان بھرنے والی ہے ایسے میں وقار یونس کہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ محمد عامر سمیت کوئی کھلاڑی پاکستانی ٹیم کے لئے ناگزیر نہیں ہے اور نہ ہی ہم نے کسی کھلاڑی پر ہمیشہ کے لئے کرکٹ کے دروازے بند کئے ہیں۔محمد عامر کیلئے دروازے کبھی بند نہیں کئے ۔انگلینڈ میں پاکستان کا ٹریک ریکارڈ کافی اچھا ہے، امید ہے اس بار بھی قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز شروع ہونے تک ان کے بولر اس پوزیشن میں آجائیں گے کہ میزبان ٹیم کو چیلنج کرسکیں۔اپنے دور کے تیز رفتار فاسٹ بولر کا یہ بھی کہنا ہے کہ انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم نے ہمیشہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ پاکستانی شائقین سے یہی کہیں گے کہ ہم سے امید نہ چھوڑئیے، بھروسہ رکھیے ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔

پاکستان کا 29 رکنی سکواڈ اس وقت انگلینڈ میں ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کی تیاری میں مصروف ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ پانچ اگست سے اولڈ ٹریفرڈ مانچسٹر میں کھیلا جائے گا۔وقار یونس کا کہنا ہے کہ اگر عامر اچھی بولنگ کرسکتا ہے اور پاکستان کو جتواسکتا ہے تو اس کو کیوں نہیں کھلایا جائے، اس کی ٹیسٹ کی ریٹائرمنٹ پر دکھ تو ہوا تھا لیکن اب آگے بڑھنا ہے۔میں عمر کے اس حصے میں جنید خان یا کسی اور فاسٹ بولر سے لڑائی کا سوچ نہیں سکتا،نہ میرے جنید سے اختلافات ہیں۔

میں سلیکشن کمیٹی کا حصہ نہیں ہوں۔ جب مشورہ مانگا جاتا ہے تو مشورہ ضرور دیتا ہوں۔محمد حفیظ اور شعیب ملک کا یہ ذاتی فیصلہ ہوگا کہ وہ کب تک کھیلنا چاہتے ہیںاور کب ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔وقار یونس نے کہا کہ محمد عامر تجربہ کار بولر ہیں اس لئے ان کو بلایا گیا ہے۔

محمد عامر آسٹریلیا کیخلاف سیریز سے قبل اچانک ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوئے تھے جس پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا۔وقار یونس کہتے یقیناً محمد عامر نے اس وقت ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا تھا اسی وجہ سے ان پر تنقید بھی ہوئی تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی پر کرکٹ کے دروازے بند کردئیے جائیں۔ 

وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کا حصہ ہیں۔محمد عامر کا تجربہ اتنا ہے کہ نوجوان فاسٹ بولر ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اگر وہ اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں پاکستان کو جتواتے ہیں تو ہمیں انہیں ضرور سلیکٹ کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ ملک کے لیے کیا بہتر ہے۔ محمد عامر ہوں یا کوئی اور کوئی بھی کھلاڑی ناگزیر نہیں۔ 

جو بھی بولر پرفارم کررہا ہوگا وہ کھیلے گا،انگلینڈ میں انٹر نیشنل کرکٹ کاونٹی کرکٹ اور وہاں کی کرکٹ کو سالہا سال سے قریب سے دیکھنے والے وقار یونس نے کہا کہ مجھے پہلے لگا تھا کہ فاسٹ بولرز کیلئے تھوک لگائے بغیر بولنگ مشکل ہوجائے گی لیکن اب تک کوئی بڑا مسئلہ نظر نہیں آیا۔

اب تک کسی فاسٹ بولر نے شکایت نہیں کی، گیند کی کوالٹی کی وجہ سے بھی اس پر اثر پڑتا ہے۔ ٹیم کامبی نیشن پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا، مانچسٹر میں موسم اور کنڈیشنز کو دیکھ کر ہی فیصلہ کریں گے، وقار یونس نے کہا کہ کھلاڑی جب آپس میں میچ کھیلتے ہیں تو سنجیدگی عام طور پر کم ہوجاتی ہے لیکن کھلاڑی یہاں بھرپور جان لگارہے ہیں۔وقار یونس کے بولنگ کوچ بننے کے بعد جنید خان کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے حالانکہ ان کا بولنگ ریکارڈ محمد عامر سے بہتر ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وقار یونس ،جنید خان سے ناراض ہیں۔

وقار یونس نے کہا کہ میری عمر اب وہ نہیں رہی کہ میں کسی نوجوان کرکٹ سے مسئلہ رکھوں گا، یہ سب میرے بچوں کی طرح ہے۔ دس گیارہ سال متحدہ عرب امارات میں اسپنرز کا راج رہا لیکن اب فاسٹ بولرز پر توجہ بڑھ گئی ہے، شاہین آفریدی کی بولنگ میں کافی بہتر آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں کیمپ جیسی ہی صورتحال ہے۔بڑی تعداد میں گروپ ہے جس کی وجہ سے پلیئرز کو جاننے اور پرکھنے کا موقع ملا ہے،تین چار ماہ کرکٹ سے دوری نے پلیئرز کو سست کردیا تھا۔ 

ٹیسٹ سیریز سے قبل بھرپور پریکٹس کررہے ہیں تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائےسو فیصد سے زیادہ تیاریاں کررہے ہیں۔ امید ہے ٹیسٹ سیریز سے قبل ہم اس پوزیشن پر ہوں گے جہاں ہم انگلینڈ کو چیلنج کرسکیں، گیند چمکانے کیلئے تھوک کے استعمال کی پابندی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا، ہم یہاں کافی عرصہ پہلے آئے جس کی وجہ سے کنڈیشنز کا اندازہ ہوگیا۔ ویسٹ انڈیز کی سیریز کو بھی دیکھ رہے ہیں کہ وکٹ کا ردعمل کیسا ہے۔ امید ہے کہ بولرز کنڈیشنز کو بھرپور انداز میں استعمال کریں گے۔

ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ بیک وقت اتنے سارے فاسٹ بولر موجود ہوں اور شاید آئندہ بھی ایسا نہ ہو۔ زیادہ فاسٹ بولرز کے درمیان آپس کا مقابلہ ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جیسا کہ میرے زمانے میں وسیم اکرم اور میرے اور شعیب اختر کے درمیان مقابلہ رہتا تھا تو اس سے پاکستانی ٹیم کو فائدہ پہنچتا تھا۔ ہمارے پاس جو بولر ہیں ان سے ہمیں یہ پتہ چل جائے گا کہ مستقبل میں کون کس طرح ٹیم کے کام آسکتا ہے اور کس بولر پر کس طرح کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں پاکستان کو بہت اہم انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنی ہے۔ 

نوجوان بولرز نسیم شاہ اور شاہین آفریدی میں سیکھنے کی جستجو موجود ہے۔ ان کے پاس ا سپیڈ تو پہلے ہی سے موجود ہے انہیں وکٹیں لینے کا فن بھی آچکا ہے،وقار یونس نے درست کہا کہ واقعی پاکستان ٹیم کے لئے کوئی ناگزیر نہیں ہے لیکن آزمودہ کھلاڑیوں پر انحصار اچھی روایت نہیں ہے۔شعیب ملک،محمد حفیظ،وہاب ریاض ہوں یا محمد عامر ،اگر یہ پاکستان کو میچ جتوادیتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن سابقہ کارکردگی پر سنیئرز کو منتخب کرکے جونیئرز اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کرنا کسی بھی طرح اچھی روایت نہیں ہے۔ٹیم انتظامیہ قلیل المعیاد پلاننگ کے بجائے طویل المعیاد حکمت عملی بنائے تو اس سے ٹیم کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید