تحریر:سردار عبدالرحمٰن خان۔۔بریڈفورڈ ہندوستان کے بٹوارے سے پہلے اس کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی کل584ریاستیں تھیں۔ ان ریاستوں کا مجموعی طور پر رقبہ ہندوستان کے کل رقبے کا45فیصد تھا اور ان کی مجموعی آبادی ایک سو ملین انسانوں پر مشتمل تھی۔ گویا کہ اگر ان ریاستوں کو ہندوستان سے نکال دیا جاتا تو ہندوستان تقریباً آدھا رہ جاتا یہ ریاستیں نیم آزاد تھیں۔ کچھ ریاستیں بڑی اور طاقتور تھیں اور اس لیے زیازدہ اختیارات کی حامل تھیں، مگر کسی بھی ریاست کے پاس امور خارجہ، دفاع اور مواصلات کے امور نہ تھے۔ کچھ ریاستیں بڑی تھیں، مثلاً حیدرآباد۔ریاست حیدرآباد کی آبادی اس وقت سترہ17ملین تھی اور اس کا رقبہ تقریباً جرمنی کے برابر تھا۔ کچھ ریاستوں کا رقبہ اور آبادی دونوں کم تھے۔ ان ریاستوں کی آبادی ہندو آبادی پر مبنی تھی اور ان کے حکمران بھی ہندو تھے۔ ان ریاستوں کے ہندو حکمرانوں کو راجہ یا مہاراجہ کے لقب سے پکارا جاتا تھا اور مسلمان حکمرانوں کو نواب، نظام یا والی کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ ان کو مخاطب کرنے کے لیے ’’ہرنائی نس‘‘ یا ’’ ایکسی لینسی ‘‘کے القاب استعمال کیے جاتے تھے۔ جب ریاستوں کے حکمران برطانیہ کے بادشاہ یا اس کے مقرر شدہ نمائندگان سے ملنے جاتے تھے تو ان کو21توپوں کی سلامی دی جاتی تھی۔ان ریاستوں اور برطانوی سلطنت کے درمیان معاہدوں پر مبنی تعلقات قائم تھے۔ اختیار اعلیٰ ہمیشہ برطانوی تاج کے پاس ہوتے تھے۔ ان معاہدوں کی روشنی میں دفاع، خارجہ اور مواصلات کی ذمہ داری ہندوستان میں متعین وائسرائے ہند کے پاس ہوتی تھی جو برطانوی تاج کا نمائندہ ہوتا تھا۔ ان ریاستوں کے تمام حکمران راجوں، مہاراجوں، نظاموں اور شہزادوں کو وراثت اور جانشین کے بھی حقوق حاصل تھے۔ تخت نشینی کے علاوہ ریاستوں کے تمام اندرونی معاملات کی ذمہ داری ان حکمرانوں کے پاس تھی۔ ہندوستان کے بٹوارے کے وقت اگر ان حکمرانوں کا بس چلتا تو یہ مکمل آزادی کے حق میں ہوتے، لیکن تحریک آزادی ہند کی لہر کا اثر، جوش و جذبہ ان ریاستوں کے اندر بھی اثر انداز ہوا اور کئی ریاستوں میں تبدیلی اور آزادی کی خواہش بھی انگڑائیاں لینے لگی۔ کچھ ریاستوں کے اندر ہندوستان کی دو بڑی جماعتوں، کانگریس اور مسلم لیگ کی طرز کی سیاسی پارٹیاں بھی معرض وجود میں آنے لگیں۔ ریاست جموں و کشمیر میں ’’نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس‘‘ وجود میں آئیں۔کافی عرصہ پہلے1921ء میں ہندوستان کی ریاستوں کے حکمرانوں نے دہلی میں ایک چیمبر (Chamber) قائم کیا، جس کو چیمبر آف پرنسس (Chamber of Prince) کا نام دیا گیا۔ یہ چیمبر112حکمرانوں پر مشتمل تھا۔ اس میں چھوٹی ریاستوں کے مزید12ممبران بھی شامل کیے گئے یہ چیمبر مشاورتی اور مباحثاتی نوعیت کا ایک ادارہ تھا۔ اس کے پاس حقیقی طور پر کوئی اتھارٹی نہیں تھی۔ بنیادی طور پر اس کا مقصد ریاستوں کے حکمرانوں کو ہندوستان میں برطانوی حکومت کے نزدیک لانا تھا اور آئندہ آنے والے سیاسی حالات سے روشناس کرانا تھا۔ جب1947ء میں موسم بہار کا وقت آن پہنچا تو برطانوی حکومت نے مختلف وجوہات کے باعث ہندوستان کو آزادی دینے کا فیصلہ کرکے خود دستبردار ہونے کا ارادہ کرلیا۔ اس وقت ریاستوں پر برطانوی حکومت کے اقتدار اعلیٰ سے دستبردار کا مسئلہ بھی آن کھڑا ہوگیا۔ ان ریاستوں پر برٹش (Paramountey) تھی جو اب برقرار نہیں رکھی جاسکتی تھی۔اس دوران ان ریاستوں کے متعلق معاہدوں اور اقتدار اعلیٰ کے اختیارات اور استحقاق کے میمورینڈم بھی کیبنٹ مشن (Cabnet Mission) نے ہرنائی نس چانسلر آف پرنسز کو ہندوستان کو آزادی دینے کے بعد ریاستوں پر اپنے اقتدار اعلیٰ سے دستبردار ہوجانے کی بھی اطلاع دی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ریاستوں کے ساتھ اختیارات جو برطانوی تاج کے حوالے سے قائم ہیں، وہ آئندہ ختم ہوجائیں گے اور وہ تمام اختیارات جو ریاستوں نے معاہدوں کے تحت برطانوی حکومت کو د یئے تھے وہ ریاستوں کو واپس لوٹ جائیں گے۔ جون1947ء میں اسی اعلان کی روشنی میں ریاستوں کے معاملات کو طے کرنے کی بنیاد رکھی گئی۔ جب ہندوستان کی آزادی کا اعلان کیا گیا۔ 25جولائی1947ء کو لارڈ مونٹ بٹن چیمبر آف پرنسز کے سامنے پیش ہوا اور ان کو آزادی ایکٹ کا واضح اور ٹھوس مطلب تشریح کرکے سمجھایا۔ اس نے کہا کہ ریاستیں مکمل طور پر آزاد ہوں گی۔ ٹیکنیکل اور قانونی لحاظ سے بھی، لیکن اس نے پھر ان کو یاد دلایا کہ ہندوستان ایک اقتصادی وحدت ہے اور اسی طرح چلایا جاتا رہا ہے، اس سے کچھ حقائق کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہاں کچھ جغرافیائی مجبوریاں ہیں جن سے بچا نہیں جاسکتا۔ آزادی ایکٹ کے تحت چند عارضی شقیں بنائی گئی ہیں۔ پھر ریاستوں کو کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ بننے والے دو ممالک پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ (Stand Still) یعنی تعطلی کا معاہدہ کرلیں۔ لارڈ مونٹ بٹن نے ریاست کے حکمرانوں کو تاکید کی کہ ہندوستان کی آزادی کے وقت ریاستوں کو دفاع ،خارجہ اور رسل و رسائل و ابلاغ بغیر کسی نقصان کے پاکستان یا ہندوستان کے سپرد کرنا ہوں گے۔ لیکن ان دونوں حکومتوں کو ریاستوں کے اندر معاملات میں دخل دینے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی اور تمام ریاستوں کے پاس ان تینوں محکموں کے علاوہ پورے اختیارات اور اقتدار بلا شرکت غیرے ہوں گے۔ مونٹ بٹن نے ریاستی حکمرانوں کو دعوت دی کہ وہ جلد از جلد فیصلہ کریں کیونکہ15اگست کو اقتدار منتقل ہونے کا وقت قریب آرہا ہے۔ اس تاریخ کے بعد ریاستوں کو آزاد حیثیت سے اپنے فیصلے کرناہوں گے۔ عام تاثر یہ تھا کہ ہندو ریاستیں ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں گی اور مسلمان ریاستیں پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گی۔ تمام ریاستوں نے دیکھا کہ ان کے پاس ایک ہی سیدھا راستہ ہے اور معقول بھی (سوائے چند ریاستوں کے) تمام ریاستوں نے دیکھا کہ کسی ایک ملک سے الحاق کیا جائے، لیکن حیدرآباد، جونا گڑھ اور جموں و کشمیر ان تین ریاستوں نے کسی بھی ملک سے الحاق کرنے کا فیصلہ نہ کیا۔ اس لیے15اگست1947ء کو یہ تینوں ریاستیں مکمل طور پر آزاد ہوگئیں۔ یہ قانونی اور ٹیکنیکل طور پر خودمختار ریاستیں بن گئیں۔جونا گڑھ کا حکمران مسلمان تھا، لیکن آبادی کی اکثریت ہندوئوں کی تھی۔ نواب آف جونا گڑھ نے ستمبر میں پاکستان سے الحاق کر لیا۔نظام آف حیدرآباد نے اپنی ریاست کا الحاق غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔ اکثریت ہندوئوں کی تھی، لیکن اس کو بھی1948ء میں ہندوستان نے حملہ کرکے بھارت کا حصہ بنالیا۔ کشمیر کی جغرا فیائی پوزیشن مختلف تھی اور وہاں کے باشندے جنگجو ہونے کے علاوہ پہلے ہی بغاوت کرچکے تھے اور ایک تہائی کشمیر آزاد ہوکر سردار محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی جبکہ ہندوستان نے کشمیر میں بھی27اکتوبر کو اپنی فوجیں اتارکر کشمیریوں کے ساتھ مسلح جنگ شروع کردی تھی۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہونے پر پونچھ ڈسٹرکٹ اور میرپور اور دوسرے ملحقہ علاقوں کے اکتہرہزار (71000) فوجی کشمیر میں واپس آچکے تھے جنہوں نے جدید ہتھیاروں کے بغیر مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج سے مقابلہ کیا۔ ہندوستان کی لاقانونیت، سفاکی، توسیع پسندانہ، خواہشات ان تینوں ریاستوں کے حالات، تاریک اور نتائج سے روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔