آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کا برطانیہ سے علی عمران کی حوالگی کا مطالبہ

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف کے داماد علی عمران پر الزامات سے متعلق پاکستان نے برطانیہ سے علی عمران کی حوالگی کا مطالبہ کردیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف حکومت نے ہوم آفس کے یو کے سینٹرل اتھارٹی انٹرنیشنل کرائمنٹلی یونٹ کو خط لکھا ہے، پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے لندن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مجرموں کے حوالگی کے معاہدے کے بغیر باہمی تعاون کی بنیاد پر علی عمران کوسپرد کیا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مطلوب ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے۔

ذرائع پاکستان حکومت کے مطابق میل اخبار پر مقدمہ کے بعد علی عمران کی برطانیہ بدری کے مطالبے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈیلی میل نے اپنے آرٹیکل میں علی عمران اور ’ایرا‘ کے اکرام نوید پر کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے جبکہ علی عمران نے ڈیلی میل کے خلاف متنازع آرٹیکل پر تین ہفتہ قبل لندن ہائیکورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لندن کی جانب سے جواب میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت مناسب وقت پر پاکستانی درخواست کا جائزہ لے گی۔

اس پر بیرسٹر وحیدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ حوالگی کے مطالبے والا حکومتی خط، علی عمران کے میل اخبار پر مقدمہ کا نتیجہ ہے، علی عمران کی برطانیہ بدری کے لیے پاکستان کو ٹھوس شواہد دینا ہوں گے، علی عمران کو آج تک کسی بھی جرم میں سزا نہیں ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان سے برطانیہ کے سپرد کیے جانے والے تقریباً تمام افراد قتل کے جرم میں ملوث تھے اور  پی ٹی آئی کی حکومت اس سے قبل اسحاق ڈار، حسن اور حسین نواز اور سلیمان شہباز کی حوالگی کا مطالبہ بھی کرچکی ہے۔

قومی خبریں سے مزید