آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وفاقی وزارتِ تعلیم نے بین الصوبائی تعلیمی مشاورت کے بعد مُلک بھر کے اسکولز یکم ستمبر سے کھولنے کی سفارش کی ہے، جس کے بعد این سی او سی(NCOC)نے اسکولز کھولنے کی اجازت سخت حفاظتی انتظامات سے مشروط کر دی ہے۔ پاکستان میں مجموعی طور پر موجودہ تعلیمی تعطّل 6ماہ پر محیط ہوچُکا ہے، جب کہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے سرد علاقوں کا تعلیمی نقصان لگ بھگ9ماہ پر محیط ہے، جہاں یہ ادارے نومبر یا دسمبر 2019ء ہی سے بند ہیں۔اب بھی خدشہ ہے کہ سرد علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں بمشکل دو یا تین ماہ جاری رہ سکیں گی کہ بچّوں کا سخت سردی میں اسکول جانا ممکن نہیں۔یہ تمام صُورتِ حال والدین، اساتذہ اور اُن لوگوں کے لیے شدید تفکّر کا باعث ہے، جو تعلیمی منظر نامے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس کے پس منظر میں تعلیمی حالات کا جائزہ لینے والے بین الاقوامی اداروں یا تنظیموں کی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ اسکولز کی بندش سے ہونے والے طویل مدّتی(Long Term) نقصانات اپنے حجم میں بہت بڑے اور زیادہ ہو سکتے ہیں اور یہ اُن کم مدّتی(Short Term) نقصانات کو بہت پیچھے چھوڑ جائیں گے، جن کا تجربہ اسکولز کو بند کرکے کیا جا رہا ہے۔2005ء کے زلزلے کے اثرات و نتائج کے مطالعے سے پتا چلا تھا کہ جن علاقوں میں بچّوں کو تین مہینے اسکولز سے دُور رہنا پڑا، وہ بچّے چار سال بعد بھی اپنے اسباق سے کم ازکم ڈیڑھ سال پیچھے تھے۔

دراصل پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بچّے پہلے ہی نصاب میں مطلوبہ سطح تک پہنچنے سے پیچھے تھے اور جب وہ اسکول واپس آئے، تب بھی اُن کے پیچھے رہ جانے کے عمل میں تنزّلی جاری رہی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسکولز کھولنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے، تو تعلیم کا بہت زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔مختلف جائزہ رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک میں اسکولز کی تین ماہ کی بندش ایک سال سے زیادہ تعلیمی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، کیوں کہ بچّوں کے اسکول واپس آنے کے بعد بھی نقصانات جاری رہتے ہیں۔اگرچہ صُورتِ حال تشویش ناک ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ابھی حالات اِس قدر خراب نہیں ہوئے کہ بہتری نہ لائی جاسکے۔تاہم، اصلاحِ احوال کی کوئی بھی کوشش صرف اُسی صُورت کام یاب ہو سکتی ہے، جب اس کے لیے بنائی گئی حکمتِ عملی پر فوری عمل درآمد شروع کیا جائے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں اسکولز کی بندش سے پیدا ہونے والے نقصانات کا فوری ازالہ نہ کیا گیا، تو تیسرے گریڈ سے لے کر دسویں گریڈ تک کی تعلیم پر بہت بُرے اثرات مرتّب ہوں گے۔جو بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں تعلیم کے شعبے میں پاکستان کی مدد کر رہی ہیں، وہ کورونا سے پیدا شدہ حالات میں مزید مدد کرنا چاہ رہی ہیں۔اگرچہ اُن کا اپنا ایک مخصوص نقطۂ نظر، ترجیحات اور ایجنڈا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اُن کے مفادات اور نفع و نقصان کے پیمانوں کا جائزہ لیا جائے، لیکن یہ بحث اور غورو خوض کا ایک الگ موضوع ہے، جس پر کسی اور موقعے پر بات کی جاسکتی ہے، فی الحال اِن بدلے ہوئے حالات میں تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے اُن کے پاس فوری نوعیت کے اقدامات کی جو حکمتِ عملی ہے، اُس پر عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔اسکولز کی طویل بندش اِس طرح کے اقدامات کی راہ میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

مئی2020ء میں’’ گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن‘‘(GPE)نے پاکستان کو 20ملین ڈالرز کی گرانٹ دی، جس کے ذریعے وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تعلیم کے معاملے میں بحران سے نمٹنے میں مدد دینا چاہتی ہے۔ عالمی بینک اس گرانٹ کا ایجنٹ ہے اور اُسی کے ذریعے عمل درآمد ہوگا۔کورونا وائرس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ پاکستان میں 40ملین طلبہ کی تعلیم متاثر کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔GPEکی 20ملین کی گرانٹ دُور دراز کے علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی، جہاں ٹیکنالوجی کی رسائی محدود ہے یا بالکل ہی نہیں ہے۔اِس پروگرام سے 11ملین طلبہ اور اساتذہ فائدہ اُٹھا سکیں گے، جب کہ مستفید ہونے والوں میں 50فی صد خواتین ہوں گی۔ 

پاکستان جیسے ممالک کے بارے میں بین الاقوامی اداروں کی رائے یہی ہے کہ یہاں خواتین کی تعلیم پر بھرپور توجّہ نہیں دی جاتی۔5 سے 16 سال عُمر کے 22ملین سے زاید بچّے کورونا وائرس کی وبا سے پہلے ہی اسکولز سے باہر تھے۔اسکولز سے محروم بچّوں کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر بتایا جاتا ہے۔جب پہلے ہی یہ حال ہو، تو اسکولز کی بندش سے بچّوں کا کس قدر تعلیمی نقصان ہوگا؟ اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جی پی ای اپنے اِس پروگرام کے ذریعے ایک متبادل طریقۂ کار کے طور پر فاصلاتی تعلیم(Distance Education) عام کرنا چاہتی ہے۔پروگرام کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اِس طرح اُن 19ملین بچّوں تک بھی رسائی ہو پائے گی، جو کورونا وائرس سے پہلے ہی اسکولز سے باہر تھے۔بلوچستان کے پس ماندہ علاقوں کو بھی اِس پروگرام کے دائرۂ کار میں رکھا گیا ہے۔

بلوچستان کے ان دُور دراز علاقوں میں بچّوں کے ہوم اسکولنگ پروگرام پر تجربات ہوں گے۔دیگر صوبوں میں بھی ٹیلی ایجوکیشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تعلیم عام کرنے اور ہر بچّے کی دسترس میں لانے کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔جی پی ای نے سسٹم لیول کی بہتری کے لیے یونیسیف(UNICEF)کے لیے ایک لاکھ، چالیس ہزار ڈالرز مختص کر رکھے ہیں تاکہ COVID-19سے نمٹنے، اسکولز دوبارہ کھولنے اور تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جا سکیں۔اِسی پروگرام کے ذریعے تعلیمی مواد کی تیاری اور فراہمی میں بھی مدد دی جائے گی۔نیز، ہوم اسکولنگ میں والدین کو متعلقہ وسائل کی فراہمی میں مدد فراہم کی جائے گی۔

غریب گھرانوں کے بچّوں کو ٹیبلیٹس اور انٹرنیٹ، ہاٹ اسپاٹ کے لیے ڈیوائسز فراہم کی جائیں گی۔وزارتِ تعلیم،ٹیلی کام کمپنیز کے ساتھ تعاون کو بہتر بنائے گی تاکہ صوبوں میں انٹرنیٹ کی رسائی کم خرچ میں ممکن بنائی جا سکے۔اسکولز کو دوبارہ کھولنے کے لیے محفوظ طریقے، گائیڈ لائنز اور پروٹوکول ڈیزائن کیے جائیں گے۔ صفائی اور حفظانِ صحت سے متعلق بنیادی سازوسامان فراہم کیا جائے گا تاکہ پروٹوکول کے پیمانے پورے کیے جا سکیں۔تعلیم میں کورونا وبا کی وجہ سے جو تعطّل یا انتشار پیدا ہوا ہے، اس تعلیمی خلیج کو بَھرنے کے لیے بھی اساتذہ کو پیشہ ورانہ مواقع ڈیزائن کرنے اور ڈیلیوری بہتر بنانے میں مدد دی جائے گی۔تعلیمی نقصان کو پورا کرنے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیےRemedial Education،تعلیم کی تشخیص (Assessments)کی عملی شکلوں کو بہتر بنانے پر توجّہ مرکوز کی جائے گی۔ اِس تعلیمی اصلاحی پروگرام میں بظاہر کوئی ایسی چیز نظر نہیں آرہی، جسے اس کی عملی شکل میں دیکھے بغیر رَد کیا جاسکتا ہو۔

ویسے بھی ایسے پروگرامز کو رَد کرنے کا ہمارے حکم رانوں کے پاس شاید اختیار بھی نہیں کہ جب پیسے ملنے کا امکان ہو، تو یہ اختیار رضاکارانہ طور پر ختم ہو جاتا ہے۔اگر فراہم کیے جانے والے تعلیمی مواد پر اِس حوالے سے نظر رکھی جائے کہ یہ ہمارے بچّوں کے لیے ضرر رساں نہ ہو، تو بظاہر اِس پروگرام میں ایسے مواقع موجود ہیں ،جو فاصلاتی تعلیم کے حوالے سے ہمارے تعلیمی مستقبل اور جدّتوں کا احاطہ کرتے ہیں۔اِس موقعے سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی شکل یہی ہے کہ ہم فاصلاتی تعلیم کے حوالے سے اپنا انفراسٹرکچر ایک ہی مرتبہ مضبوط و مربوط کر لیں۔20ملین ڈالرز کی رقم یا اسی نوعیت کی کچھ دیگر دست یاب یا متوقّع رقوم بہت کافی نہیں ہو سکتیں، کیوں کہ فاصلاتی تعلیم کا انفراسٹرکچر قائم کرنا ان تعلیمی منصوبوں کا محض ایک حصّہ ہے، ہماری مالی شراکت کے بغیر ایسے انفراسٹرکچر کا بھرپور قیام ممکن نہیں، اگرچہ بہت سے اسکولز اور یونی ورسٹیز میں آن لائن کلاسز کا اجرا کر دیا گیا ہے، لیکن پاکستان میں ایسے تعلیمی اداروں کی اکثریت ہے، جہاں فاصلاتی تعلیم کا انتظام ہی موجود نہیں۔

چند یونی ورسٹیز یا اسکولز کے پاس ورچوئل تعلیم کی مناسب سہولتیں ہوں گی،کچھ کے پاس جزوی طور پر ہیں، مگر بہت سے اساتذہ کے پاس تو اِس حوالے سے کوئی ٹریننگ موجود نہیں۔تعلیم کے لیے مخصوص کیے جانے والے وفاقی اور صوبائی بجٹ اگر دیانت داری کے ساتھ فاصلاتی تعلیم کا انفراسٹرکچر کھڑا کرنے کی مَد میں خرچ کیے جائیں، تو یہ قومی وسائل کا وہ بہترین مصرف ہوگا کہ اس تعلیمی سرمایہ کاری کا بہترین منافع ہم کئی شکلوں میں حاصل کرسکتے ہیں اور اس سے یقیناً تعلیمی مستقبل کے بھرپور تحفّظ کی بھی اُمید کی جا سکتی ہے۔

تعلیم کی اہمیت، طلبہ کی صحت کی حساسیّت اور کورونا کے باعث تیزی سے سُکڑتے نجی شعبے میں بے روزگاری کے پیشِ نظر حکومت کو جس درجے کی ذمّے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا،ہماری نظر میں اس کا اہتمام نہیں کیا جا سکا۔اب بھی وقت ہے کہ حکومت ان نجی تعلیمی اداروں، بالخصوص اسکولز کے ساتھ نہ صرف بامقصد مذاکرات کا اہتمام کرے، بلکہ ان کے ساتھ مل کر تعلیمی نقصان کو جنگی بنیادوں پر کم کرنے کی کوشش کرے۔