آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھارت کی طرف سے کشمیریوں کو محصور کئے ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا۔یہ شاید موجودہ دنیا میں طویل ترین محاصرہ ہے۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ 80 لاکھ بے گناہ کشمیری مسلمان ایک سال سے بھارتی قید میں ہیں۔بھارت نے بزور بندوق مقبوضہ کشمیر پر گزشتہ 72 برسوں سے غاصبانہ قبضہ تو کیا ہی ہے ۔لیکن مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے نہتے کشمیریوں کا محاصرہ کئے ہوئے بھی ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔لیکن دنیا کی مجرمانہ خاموشی نہیں ٹوٹی۔اقوام عالم،انسانی حقوق کے دعویدار اور او آئی سی خاموشی کے ساتھ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔عید قربان پر مقبوضہ کشمیر اور بھارتی ریاست اتر پردیش میں قربانی پر تو کیا عید پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔مقبوضہ کشمیر میں مساجد کو تالے لگا دیے گئے۔ مساجد کے داخلی دروازوں پر پہرے بٹھا دیئے گئے اور مساجد کی طرف جانے والے مسلمانوں پر لاٹھی چارج کر کے بھگا دیا گیا۔یہ جمہوریت کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ ہے جو دنیا کو نظر نہیں آتا۔مودی سرکار ہٹلر کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔نریندر مودی دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد بنا ہوا ہے۔اگر اقوام عالم کے حکمرانوں کو انسانی حقوق کا ذرہ برابر بھی احساس ہے اور اگر واقعی وہ دہشت گردی کے خلاف ہیں تو نریندر مودی اور اس کے ساتھیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کریں اور دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس پر پابندی لگا دیں۔عالمی تنظیمیں، اقوامِ متحدہ اور او آئی سی سمیت سب مل کر بھارت کی اقتصادی ناکہ بندی کریں جب تک کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ختم کر کے کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہ دیدے ۔پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے لئے آواز بلند کی ہے اور چند ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جن سے دنیا کو پیغام پہنچاہے کہ وہ بھی معاشی مفادات سے ہٹ کر صرف انسانیت کا حق ادا کریں اور بھارت پر اقتصادی پابندیاں عائد کر کے بھارت کے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کو بنیادی انسانی حقوق دلائیں۔مودی سرکار نے تو یہ بھی انتہا کر دی ہے کہ بارھویں جماعت کے نصاب سے کشمیریت خارج کرنے اور ہندوتوا کے پرچار پر مبنی مواد کو شامل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔علاوہ ازیں آرٹیکل 370 اور35 اے کی تنسیخ کے حق میں مواد کو بھی شامل کرنے کی ہدایات کی ہیںاور ان ہدایات پر عمل بھی کیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے رہنے والوں کے گزر بسر کے تین اہم ذرائع ہیں۔زراعت،جنگلات اور سیاحت۔ مودی حکومت نے اپنے غاصبانہ اور ظالمانہ اقدامات کے ذریعے غریب کشمیری مسلمانوں کو ان ذرائع معاش سے بھی محروم کرنا شروع کر دیا ہے۔ بھارتی ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر میں بسانے اور ان کو وہاں مالکانہ حقوق دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اب تک ہزاروں بھارتیوں کو مقبوضہ کشمیر میں بسایا جا چکا ہے۔ایک کالے قانون کو نافذ کر کے بھارتی فوج کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جہاں چاہے کشمیریوں کی زمینوں پر قبضہ کر سکتی ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی فوجی تنصیبات اور عمارات کھڑی کر سکتی ہے۔کشمیریوں پر معاشی پابندیوں کے سلسلے میں ان کے پھلوں اور زعفران کی فروخت اور ترسیل کو بھی بھارتی حکومت کے اجازت ناموں سے مشروط کر دیا گیا ہے ۔

اس وجہ سے وہ بے بسی کے ساتھ اپنی سال بھر کی محنت کو گلتے سڑتے دیکھنے پر مجبور ہیں۔دوسری طرف بھارت کی مختلف ریاستوں سے پھلوں کے ہندو تاجر آکر مسلمانوں سے اونے پونے داموں پھل خریدکر لے جاتے ہیں۔مودی حکومت کی پالیسی کے عین مطابق کشمیری مسلمانوں کے پھلوں کی لوٹ مار کھلے عام جاری ہے جو کشمیریوں کا معاشی قتل ہے۔جنگلات کے معاملہ میں تو سرکاری سطح پر کشمیریوں کے درختوں کی لوٹ سیل کا سلسلہ جاری ہےاور مہنگے درختوں کو زبردستی کاٹ کر بھارت لے جایا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے جنوبی علاقہ سنگر وانی،پلوامہ اور کیواڑہ میں میلوں پر محیط جنگلات میں نہایت قیمتی ’’ پائین ‘‘ کے درختوں کا ’’ قتل عام ‘‘ کیا جا رہا ہے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق یہ درخت چوری کئے جا رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان قیمتی درختوں کی کٹائی اور چوری میں بھارتی فوجیوں کی اشیرباد سے سرکاری اہلکار ملوث ہیں۔

کشمیری مسلمانوں کا ایک تیسرا ذریعہ معاش سیاحوں کی وہاں آمد ہے۔اس کی بندش سے کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگاری اور فاقہ کشی پر مجبور ہو گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر پہلے تو کسی غیر ملکی کو وہاں داخلے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی وہاں کے حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی غیر ملکی سیاح مقبوضہ کشمیر جانے کا سوچتا ہے۔اور جو بھارتی سیاح وہاں آتے بھی ہیں تو وہ مسلمانوں کے بجائے ہندوئوں کو ترجیح دیتے ہیں۔مسلمانوں کے ہوٹلز اور دکانیں بند ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی مشہور ڈل جھیل اور نگین جھیل میں کشتی رانی کو بھارتی محکمہ داخلہ میں رجسٹریشن کرانے اور لائسنس حاصل کرنے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔رجسٹریشن کی شرائط اتنی سخت ہیں کہ وہ غریب کشمیری کے بس کی بات ہی نہیں۔اس طرح سیاحت سے وابستہ ہزاروں کشمیری بدحالی کا شکار ہو گئے ہیں۔نریندر مودی کی ریاستی دہشت گردی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ رویہ اور پیدا کردہ حالات ایک ٹائم بم ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر خطے کو خوفناک حالات سے دو چار کر سکتا ہے۔جس سے پوری دنیا بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔کیا دنیا یہ صورتحال چاہتی ہے؟ اگر نہیں تو ان دہشت گردوں کو روکے۔