آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میڈیا کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی، میر شکیل الرحمٰن کو رہا کیا جائے، مقررین

میڈیا کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی، میر شکیل الرحمٰن کو رہا کیا جائے، مقررین 


لاہور/راولپنڈی( نمائندگان جنگ ) مقررین نے کہا ہے کہ میڈیا کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی میر شکیل الرحمٰن کو فوری رہا کیا جائے،نیب کے ہاتھوں جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف جمعرات کے روز بھی لاہور میں ڈیوس روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں بھی صحافیوں، جنگ جیو ورکرز و دیگر نے اظہار یکجہتی کیلئےمظاہرے کئے اس موقع پر شرکاء نے جھوٹا ریفرنس نامنظور‘ میڈیا کی آزادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی کے نعرے لگائے،جنگ‘ دی نیوز اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو 146روز ہونے اور آزادی صحافت پر قدغن لگانے کی سازشوں کے خلاف روزنامہ جنگ راولپنڈی کے باہر مری روڈ پر جمعرات کو احتجاجی مظاہرے شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ لاہور کے مظاہرے میں میں سینئر صحافیوں ظہیر انجم ،شہاب انصاری ،خضرحیات گوندل،اویس قرنی،عاصم علی،شیر علی خالطی،جنگ ورکرز یونین کے سیکریٹری محمد فاروق، عزیز،محمد واجد، وہاب خانزادہ،محمد علی ، اکمل بھٹی،افضل عباس اور جنگ و جیو گروپ کے کارکنوں اور ملازمین کے علاوہ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ راولپنڈی کے احتجاج میں پی ایف یو جے کے جنرل سیکرٹری ناصر زیدی‘ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ناصر چشتی‘ جنگ کے فاروق اقدس‘ خالد محمود‘ امجد عباسی‘ اظہر سلطان‘ عباس عالم‘ اسلم بٹ‘ اشفاق احمد‘ استاد شبیر‘ ظفر اقبال‘ سردار ہیرا‘ بشارت اقبال‘ رفیع خاور‘ ندیم خان‘ اطہر نقوی‘ مزمل خان‘ آغا سجاد‘ اقبال محمود‘ محمد نعیم‘ لیاقت علی‘ محمد سلیم‘ ذوالفقار علی خان‘ محمد اقبال‘ محمد بلال‘ عامر‘ آصف محمود‘ ندیم یار خان‘ اشفاق احمد‘ ظفر احمد‘ ندیم شاہد‘ مظفر بھٹی‘ ظفر علی سمیت جنگ‘ دی نیوز اور جیو کے ورکرز بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔لاہور میں خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن آزادی صحافت کے علم بردار ہیں اور انہیں اس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے ان پر کوئی الزام نہیں ہے اس سلسلے میں عدالت عظمی کو اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے اس معاملے پر از خود نو ٹس لینا چاہیے اور فوری رہائی کا حکم دینا چاہیے۔ ہماری میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کی تحریک ان کی رہائی تک جاری رہے گی۔میڈیا کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی ۔ میر شکیل الرحمٰن بیک وقت جمہوریت اور پوری میڈیا کمیونٹی کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اسی پاداش میں پابند سلاسل ہیں۔ حکومت ان کو فوری طور پررہا کرے۔ میر شکیل الرحمان بغیر کسی مقدمہ اور ایف آئی آر کے پابند سلاسل ہیں۔

اہم خبریں سے مزید