• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: ڈیجیٹل آئی ڈی کے لازمی حصول کا منصوبہ ترک

کنزرویٹو لیڈر کیمی بیڈینوک نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ اس پالیسی سے چھٹکارا ملنا خوش آئند ہے۔
کنزرویٹو لیڈر کیمی بیڈینوک نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ اس پالیسی سے چھٹکارا ملنا خوش آئند ہے۔

حکومت نے یو ٹرن لیتے ہوئے برطانیہ میں کام کرنے کے حق کو ثابت کرنے کے لیے ڈیجیٹل آئی ڈی کے لازمی حصول کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔ 

اب برطانیہ میں 2029 تک کام کرنے کے اہل ہونے کی جانچ ڈیجیٹل طور پر کی جائے گی، تاہم اس مقصد کے لیے بائیومیٹرک پاسپورٹ بھی قابلِ قبول ہوگا اور نئی ڈیجیٹل آئی ڈی حاصل کرنا اختیاری ہوگا۔

گزشتہ برس وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے مجوزہ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ کے پاس ڈیجیٹل آئی ڈی نہیں ہے تو آپ برطانیہ میں کام نہیں کر سکتے، یہ بات انتہائی سادہ ہے۔

کنزرویٹو لیڈر کیمی بیڈینوک نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ اس پالیسی سے چھٹکارا ملنا خوش آئند ہے، کیونکہ یہ ایک خوفناک پالیسی تھی اور یہ اقدام لیبر پارٹی کا ایک اور یو ٹرن ہے۔

اس سے قبل حکومت ویلفیئر ریفارم، ونٹر فیول پیمنٹ میں کمی اور کسانوں کے لیے وراثتی ٹیکس کم کرنے کے معاملات پر بھی یو ٹرن لے چکی ہے، حکومت نے جب پہلی مرتبہ ڈیجیٹل آئی ڈی پالیسی کا اعلان کیا تھا تو کہا تھا کہ اس سے غیرقانونی طور پر کام کرنے والوں پر قابو پانا آسان ہوگا۔

ٹرانسپورٹ سیکریٹری ہیڈی الیگزینڈر نے کہا ہے کہ نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے سے غیرقانونی کاموں کو روکنے میں مدد ملے گی۔

ایک سروے کے مطابق ڈیجیٹل آئی ڈی کے حق میں عوامی حمایت اب کم ہو کر ایک تہائی سے بھی کم رہ گئی ہے، جبکہ 30 لاکھ افراد اس اسکیم کے خلاف پٹیشن پر دستخط کر چکے ہیں۔ گزشتہ برس اس کے خلاف لندن میں مظاہرہ بھی ہوا تھا۔

لبرل ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے لیے مختص بڑی رقم این ایچ ایس اور فرنٹ لائن پولیسنگ پر خرچ کی جانی چاہیے جبکہ ریفارم یوکے کے رہنما نائجل فراج نے کہا ہے کہ یہ آمرانہ حکومت کے خلاف انفرادی آزادی کی فتح ہے اور ان کی جماعت اقتدار میں آ کر اس اسکیم کو مکمل طور پر ختم کر دے گی۔

برطانیہ و یورپ سے مزید