آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عبدالاحد حقانی

حضرت عثمان غنی ؓ کو تیسرے خلیفہ راشد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔آپؓ کو ذوالنورین (دو نوروں والا)کا لقب یا خطاب بھی حاصل ہے جو حضور خاتم الانبیاءﷺ کی دو صاحبزادیوں حضرت رقیہؓ اور حضرت امّ کلثوم ؓ کے شوہر ہونے کے سبب حاصل ہوا۔ آپؓ نے ملک حبشہ اور مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی، اس لئے آپ کو ذوالہجرتین یعنی دو ہجرتوں والے بھی کہا جاتا ہے۔ آپؓ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت سے آنحضرت خاتم الانبیاء ﷺ سے جا ملتا ہے۔ والدہ گرامی کا اسم مبارک ارویٰ ہے جو حضور خاتم الانبیاءﷺ کی پھوپھی امّ حکیم بنت عبد المطلب کی بیٹی ہیں۔آپؓ کے والد کا نام عفان ہے۔حضرت ابوبکر ؓکے کہنے پر آپ اسلام کی حقانیت سے واقف ہو گئے اور اسلام قبول کیا اور یوں آپؓ اسلام لانے والے مردوں میں چوتھے شخص ٹھہرے۔

اس وقت آپ ؓ کی عمر چونتیس برس تھی ۔ بطور خلیفہ آپ ؓ کے چنائو کا اعلان صحابہ کرام ؓ کی اس مجلس نے کئی روز کی بحث کے بعد کیا جسے خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ نے مقرر کیا تھا۔آپ ؓنے اپنی حکومت کے انداز، دین اسلام کی خدمات اور کردار و عمل کی وجہ سے تیسرے خلیفہ راشد ہونے کا حق بجا طور پر ادا فرمایا۔ آنحضرتﷺ 6 ھ میں اپنے چودہ سو ساتھیوں کے ساتھ مدینہ سے حج کی غرض سے مکہ کے قریب مقام حدیبیہ ( مکہ سے 9 میل دورمقام اسے اب الشمیسی کہا جاتا ہے ) پر پڑائو کیا۔ قریش مکہ نے مسلمانوںکو حج کرنے سے روک دیا ۔ مسلمانوں کی طرف سے حضرت عثمان ؓ کو قریش مکہ کے پاس سفیر بنا کر بھیجا ۔ اہل مکہ نے حضرت عثمان ؓ کو روک لیا ۔ تو حضور خاتم الانبیاء ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو جمع کیا اور ان سے حضرت عثمانؓ کو ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار رہنے کے لئے بیعت / وعدہ لیا اور اس بیعت کے دوران حضرت عثمان ؓ(جو کہ اس وقت مکہ میں تھے) کی طرف سے خود بیعت لی اور اپنے ایک ہاتھ کو حضرت عثمانؓ کاہاتھ قرار دے کر دوسرے ہاتھ پر رکھ کر آپؓ کو عظیم فضیلت سے نوازا۔ تاریخ اسلام میںاس بیعت کو ’’بیعتِ رضوان‘‘ کہا گیا ہے ۔سورۃ الفتح میں اس واقعہ کا ذکر ہے۔

حضرت عثمان ؓ کے روشن ذاتی عمل و کردار پر روشنی ڈالنے سے پہلے ایک اصولی بات کو نوٹ کرلیا جائے کہ لغت میں خلافت کے معنٰی نائب یا جانشین ہونا کے ہیں۔ خلافت راشدہ اس حکومت کو کہتے ہیں جس کا تمام نظم و نسق نبوت کے طریقے کے مطابق ہو اور خلیفہ راشد وہ حکمران ہوتاہے جو رسول اللہ ﷺ کی قائم کردہ حکومت کا جانشین اور وارث ہو۔ اسلام میں خلافت کا ایک خاص مفہوم ہے ،اس کا مطلب وہ حکومت ہے جو نبی اکرمﷺ کے لائے ہوئے دین کو مستحکم کرے اور جو شخص حضور اکرمﷺ کا نائب اور جانشین ہونے کی حیثیت سے دینی احکام کو عوام میں نافذ و جاری کرے وہ ’’خلیفہ‘‘ کہلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ یہ خلافت اپنے نیک مسلمان بندوں کو عطا کرتا ہے، جیسا کہ سورۃ النورکی آیت 55 میں فرمایاگیاہے " تم میں جو لوگ ایمان لائے اور وہ نیک عمل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے وعدہ کرتا ہے کہ انہیں زمین میں حکومت عطا کرے گا ،جیسا کہ وہ ان سے پہلے لوگوں کو عطا کر چکا ہے۔

آپ کاشمار عشرۂ مبشرہ میں ہوتا ہے ۔ سرکار دوعالم ﷺ نے آپ کو زندگی ہی میں جنت کی خوش خبری سنا دی تھی۔آپ ؓکی شہادت کی خبر بھی حضوراکرم خاتم الانبیاء ﷺ نے دے دی تھی۔

شرم و حیاء آپؓ کا ایک خاص جوہر تھا ۔ آپ کی ذات گرامی میںشرم و حیاء کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ آپؓ اس قدر باحیاء تھے کہ خود رسول پاک خاتم الانبیاءﷺ آپؓ کی اس صفت کا خاص خیال فرماتے تھا۔حضرت عثمانؓ بن عفان اوصاف ِ حمیدہ کا مرقع تھے۔ شریف النفسی کی معراج پر فائز تھے۔ نبی اکرم خاتم الانبیاءﷺ کا فرمان ہے کہ فرشتے بھی عثمان ؓ سے حیاء کرتے ہیں ۔

آپ امیر گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ناز و نعم میں پلنے والی اس عظیم شخصیت نے اسلام اور اہل اسلام کی ہر ممکنہ بروقت خوب خدمت کی۔ فیاضی طبیعت میں بھری ہوئی تھی۔ اس لئے ایثار کا جذبہ بھی بہت زیادہ تھا۔ دل کھول کر غرباء کی مدد کرتے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ صفت’’ رحماء بینہم‘‘ کے کامل مظہر تھے۔غرباء کی مدد ، فلاحی اور رفاہی کاموں میںآپ نے دل کھول کر حصہ لیا ۔ وقف کا سلسلہ دورِ نبوت سے ہی جاری ہے۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں آپ کی طرف سے وقف شدہ جائیداد آج بھی عام غریب مسلمانوں کی ضروریات پوری کرتی نظر آرہی ہے۔ 

مکہ مکرمہ میں حرم کے نزدیک 2006 ء میں شروع ہونے والے جبل عمر کے نئے عالی شان رہائشی کمپلیکس پروجیکٹ میں حضرت عثمان ؓ کے وقف کا نمایاں حصہ ہے ۔مدینہ منورہ کا کنواں " بیر رومہــ" خرید کر عام لوگوں کے لئے وقف کردیا۔ وقف عثمان کی ایک عمارت اب بھی مدینہ منورہ کی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔ پاکستان ہائوس سے جو ’’مقام( باغیچہ ) ثنیہ‘‘ کے سامنے ہے، وہاں سے جب مسجد نبوی کو جاتے ہیں تو رنگ روڈ پر چار منزلہ دائودیہ عمارت ہے ،اس کی بیسمنٹ میں مدینہ شریف اور مسجد نبوی کا میوزیم ہے اور لائبریری وغیرہ بھی ہے۔ اس عمارت کے سامنے سے جب روڈ کراس کرتے ہیں تو شاہراہ کی دوسری طرف یعنی مرکزیہ کی طرف روڈ کے اوپر ایک عمارت ہے جس پر وقف عثمان بن عفان کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ 

اس وقف کا انتظام و انصرام مدینہ منورہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پاس ہے۔ اس کی سالانہ کروڑوںریال کی آمدنی میں سے آدھی غریبوں میں تقسیم کر دی جاتی ہے ۔ اس عمارت کو کراس کرنے اور چند عمارتوں کے بعد وہ مقام آتا ہے، جسے تاریخ اسلام میں " ثقیفہ بنی ساعدہ" کا نام دیا گیا ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضور اکرمﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت کا فیصلہ اور اعلان ہوا۔اب اس جگہ چھوٹا باغیچہ اور لائبریری ہے۔

آپ ؓ نیک اور پارسا انسان تھے ۔ قبول اسلام سے پہلے بھی آپ نہایت پاک باز انسان تھے۔ آپ قبول اسلام سے پہلے ہی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ آپ کا اسلوب تحریر نہایت عمدہ تھا۔ جو لکھتے یا بولتے نہایت جامع اور مؤثر ہوتا۔ آپ کو کاتب وحی ہونے کااعزاز بھی حاصل ہے۔قرآن سے محبت اور حافظ قرآن بھی تھے۔ آپ کو قرآن پاک سے استنباط احکام کا خاص ملکہ حاصل تھا جو آپ کو حضور خاتم الابنیاءﷺ کی صحبت میں رہ کر براہ راست علم قرآن سیکھنے کی وجہ سے حاصل ہوا تھا۔قرآن پاک سے محبت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے قرآن پاک کی صحیح نقلیں کروا کر بیرونی ممالک میں بھیجیں اور اس طرح قرآن کو تحریفات سے محفوظ کردیا۔ عاشق قرآن کی شہادت بھی اس آخری صحیفہ آسمانی کی تلاوت کے دوران ہوئی۔

آپؓ کو دین میں تفقہ کا ملکہ حاصل تھا۔ حدیث رسول ﷺ کی روایت میں بہت زیادہ محتاط رہے اور کثرت روایات سے اجتناب کیا، فقہی مسائل بالخصوص حج کے مسائل میں خاص شہرت حاصل ہوئی۔ ان مسائل میں تو حضرت ابو بکر ؓاور حضرت عمرؓ بھی آپؓ سے فیصلہ کرواتے ۔ حضرت عثمان ؓکو حضور پاک خاتم النبیینﷺ سے از حد محبت تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ کو جنگ تبوک میں مدد کی ضرورت محسوس ہوئی تو حضرت عثمان ؓ نے ایک تہائی فوج کے تمام اخرجات اپنے ذمہ لے لئے۔ اہل بیتؓ سے بھی آپ کو بہت الفت تھی۔ اپنے عہد میں ازواجِ مطہراتؓ کے وظائف بڑھا دیئے اوران کا خاص خیال رکھتے۔رسول اللہ ﷺ سے محبت کا نتیجہ تھا کہ آپ سنت ِ رسولﷺ پر پورا پورا چلنا بہت پسند کرتے۔ معمولی معمولی بات میں بھی اتباع سنت کو ترجیح دیتے۔ ایک مرتبہ آپ وضو کرنے کے بعد مسکرائے لوگوں کے پوچھنے پر فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اس طرح وضو کرنے کے بعد مسکراتے ہوئے دیکھا۔

حضرت عثمان ؓ جن کا بچپن ناز ونعم میں گزرا اور خوش حالی رہی ،انہوں نے گھر میں کئی خادم اور ملازم ہونے کے باوجود اپنا کام خود کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا ۔ دوسروں کو تکلیف دینے سے ہمیشہ پرہیز کیا ۔ عام لوگوں کے علاوہ اپنے اقارب و عزیزوں سے بھی خاص سلوک کرتے ۔لوگوںکی جاگیریں مقرر فرمائیں،چراگاہیںقائم کیں،مساجدمیں خوشبوئیں جلائیں۔جمعہ میںاذان اوّل کو مقرر کیا ۔ موذّنوں کی تنخواہیں مقرر فرمائیں۔پولیس کا محکمہ قائم کیا ۔ مسلمانوں کو ایک قرأت پر جمع کیا ۔ تکبیر کی آواز کو پست کیا ۔قرآن مجید کو موجودہ ترتیب پر جمع کیا ،اس لئے آپ ؓ کو جامع القرآن بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت عثمانؓ نہایت ہی نرم مزاج انسان واقع ہوئے تھے۔انتہائی اشتعال اور کسی کی جانب سے سخت کلامی کے دوران بھی حلم اور بردباری سے کام لیتے ۔لطافت اور نرمی دلی ان کے تمام خصائل پر حاوی تھی جس کی امید کسی امیر زادے اور متمول شخص سے کم ہی رکھی جاسکتی ہے۔ آپ کی خلافت کے دوران جتنے فتنے اور فسادات اُٹھے، ان کا اصل سبب آپ ؓ کی نرم مزاجی تھی۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ کو اللہ تعالیٰ نے عجز و انکساری لوگوں کی خدمت اور رفاہی کاموں کی انجام دہی کی، جس خوبی سے نوازا تھا، وہ عامۃ المسلمین کے لئے ایک روشن منارہ ہے۔ 

نبی اکرمﷺ کا ہر صحابی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کے لئے ہمارے لئے رہنمائی کا سامان لئے ہوئے ہے۔ نبی اکرم ﷺ خاتم النبیین نے اپنے صحابہ کرام ؓ کے متعلق فرمایا کہ جس جس کی بھی تم پیروی کروگے ،ہدایت پائو گے۔ اللہ رب العزت ہمیں رسول اللہ ﷺ کے جملہ اصحاب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے کہ یہ ہستیاں علم و عرفان اور ہدایت کے وہ روشن ستارے ہیںجن سے ہمیں بہتر زندگی کے رموز اسرار سے آگہی ملتی ہے۔ اللہ ہمیں ان کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین )