آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
تحریر:ہارون مرزا ۔۔راچڈیل
 وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کابینہ کی منظوری کے بعد پاکستان کا نیا نقشہ جاری کردیا 5اگست کو مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ اس کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ‘ 5اگست کو عمران خان نے آزاد کشمیر میں پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور کشمیر کی آزادی کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا اور ایک دیوار کی نقاب کشائی کی جس پر کشمیر کی تاریخ درج کی گئی ہے بلاشبہ عمران خان کشمیر کی آزادی کیلئے جو اقدامات اٹھا رہے ہیں وہ خراج تحسین کے قابل ہیں۔ کشمیر اگر مسلمانوں کا مطالبہ نہ ہوتا تو شاید کب کا آزاد ہو چکا ہوتا ‘دنیا بھر میں غیر مسلم قوتیں مسلمانوں سے بلاوجہ خطرہ محسوس کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مغربی ممالک کی حکومتیں ہندوستان کے ساتھ پیار و محبت کی پینگیں چڑھاتی رہتی ہیں مودی کی دہشت گرد جماعت نے بھارتی گجرات میں جو انسانیت سوز ظلم ڈھائے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ‘ مغربی ممالک نے مسلمان ممالک کو دھوکہ دینے کے لیے اسے بلیک لسٹ کر دیا ‘سمجھوتہ ایکسپریس میں سینکڑوں پاکستانی زائرین کو زندہ جلا دیا گیا ‘ گوشت لے کر جانے والوں پر گائے کے گوشت کا لیبل لگا کر ا ن کی گردنیں اڑا دی جاتی ہیں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ہندوستان نے وائرس کے پھیلائو کا ذمہ دار

تبلیغی جماعت کو قرار دیا بھارت جو خود کو ایک سیکولرملک قرار دیتا ہے اقلیتوں کیلئے ناقابل رہائش ہے آر ایس ایس کے غنڈوں نے ان پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے تو دوسری طرف کشمیر میں تاریخ انسانیت کا سب سے طویل ترین کرفیو لگا کر آزاد ی کی تحریک دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ہندوستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں بالخصوص چین کے ساتھ اس کی جھڑپیں اور جانی نقصان کے بعد ہندوستان تلملا رہا ہے وہ اپنی ہزیمت کا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتا ہے پاکستان اس وقت معاشی طو رپر جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کرپشن نے پاکستان کی معیشت کو زبردست نقصان پہنچایا ‘ پاکستان آئی ایم ایف کا مرہون منت ہے ۔اکثر مسلمان ممالک پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کو ترجیح دیتے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت کے بھی ہندوستان کے ساتھ تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں مشرقی وسطی کا جو حال امریکہ نے کیا ا ب وہ اپنی اس غلطی پر نادم نظر آتا ہے افغانستان میں روس کے بعد امریکہ کو بدترین شکست کا سامنا ہے ۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے واشگاف الفظ میں ا س امر کا اظہار کیا ہے کہ مغربی ممالک چین کی معیشت اور فوجی طاقت سے خوفزدہ ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان کے ہاتھ مضبوط کر رہی ہے فرانس کی جانب سے بھارت کو رافیل طیارے اس امر کی غمازی کرتے ہیں ‘ پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ اسے کوئی ایک ایسا لیڈر نہیں ملا جو پاکستان کو ایشیاء کا ٹائیگر بنا سکے ایک ایٹمی ملک مقبوضہ کشمیر کے عوام کو لاک ڈائون سے نجات دلانے کیلئے اقوام متحدہ ‘ مسلمان ممالک کے علاوہ انسانی حقوق کی علمبردار مغربی قوتوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہے لائن آف کنٹرول پر بھارت روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کر کے بیگناہ شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے ۔گزشتہ دنوں ہندوستان کی فوج نے عین اس وقت کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے متعدد افراد کو شہید کر دیا جب وزیر اعظم عمران خان آزاد کشمیر کی اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے ۔یہ فائرنگ دراصل ہندوستان کی طرف سے ایک پیغام تھا جسے پاک فوج خوب سمجھتی ہے پاکستان کسی بھی ناخوشگوار حالات سے نمٹنے کیلئے تیار ہے آدھا کشمیر پٹھانوں نے ڈنڈے اور سوٹے لے کر آزاد کرالیا اب پاکستان چین کی مدد سے نہ صرف مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرا سکتا ہے بلکہ ہندوستان ک حصے بخرے بھی ہو جائیں گے ظلم کی حکومت کبھی قائم نہیں رہ سکتی ۔مغربی ممالک ہندوستان کو ایشیاء کا چوہدری بنانا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان سمیت چین کبھی بھی ہندوستان کو چوہدری نہیں بننے دیں گے۔ تینوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں اگر خدانخواستہ اس علاقہ میں جنگ چھڑ گئی تو روایتی نہیں بلکہ ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی ‘ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے محض اس لیے دندان شکن جواب دینے سے قاصر ہے کہ کیونکہ اگر پاکستان بھر پور قوت سے ہندوستان کو جواب دے تو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو ہندوستانی فوج ڈھال کے طو رپر استعمال کرنا شروع کر دیتی ہے کشمیر پر ہندوستان کا غاصبانہ قبضہ ختم کرانے کیلئے جنگ کنٹرول لائن تک محدود نہ رہے گی بلکہ انٹرنیشنل بارڈر سے پاکستان کو ہندوستان کو بھر پور جواب دینا پڑے گامسلمان ممالک کی تنظیم او آئی سی ایک مفلوج ادارہ بن چکا ہے کشمیر کو پاکستان اور ہندوستان کا آپس کا معاملہ تصور کرتے ہیں آج مسلمان کسی محمد بن قاسم کے منتظر ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ کشمیر مذاکرات کی بجائے بزور شمشیر چھین لیا جائے ‘ اور ہندوستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے پاکستانی سفارتخانے حکومت کے طے کردہ اصولوں کے مطابق اپنے فرائض ادا کریں اور کروڑوں تارکین وطن جو بیرون ملک مقیم ہیں سفارتکار بن کر پاکستان کا موقف اجاگر کریں عالمی حالات واقعات کے تناظر میں ہر شخص یہ محسوس کر رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا وقت قریب آ چکا ہے اور یہ مذاکرات سے نہیں بلکہ شمشیر سے ہی حاصل ہوگا۔

یورپ سے سے مزید