آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قومی معیشت پچھلے دو سال کے دوران مختلف وجوہ سے بالعموم ابتری کا شکار رہی جبکہ رواں سال کے ابتدائی مہینوں ہی میں اسے کورونا کی عالمی وبا اور اس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کے شدید منفی مقامی اور بین الاقوامی اثرات کا سامنا بھی کرنا پڑا جس کی وجہ سے اس کے بالکل ہی زمیں بوس ہو جانے کے خدشات محسوس کیے جارہے تھے۔ تاہم حکومت کی معاشی ٹیم نے عزم اور حوصلے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے صورتحال کی بہتری کے لیے قابلِ عمل حکمت عملی وضع کرنے کی ہرممکن کوشش کی اور خدا کے فضل سے اب ان اقدامات کے مثبت نتائج نظر آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس امر کا ایک بہت واضح مظاہرہ کریڈٹ ریٹنگ کے بین الاقوامی ادارے موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کا بی تھری پر مستحکم رکھا جانا ہے جبکہ کچھ عرصہ پہلے تک ماہرین اس میں تنزلی کا اندیشہ ظاہر کررہے تھے۔ عالمی ادارے کے گزشتہ روز منظر عام پر آنے والے جائزے میں کہا گیا ہے کہ وبا کی وجہ سے مختلف بین الاقوامی پابندیوں کے باعث اگرچہ پاکستان کی معیشت کے ڈاؤن سائیڈ خطرات اوراس کے نتیجے میں حکومت کیلئے مالیاتی چیلنج بڑھ گئے ہیں تاہم ترقیاتی شراکت داروں کی بھرپور معاونت، غیرملکی امداد و قرضوں اور وبائی بحران سے قبل حکومت پاکستان کی جانب سے کلی معیشت کیلئے نافذ کردہ پالیسیوں

کے باعث پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں اورکیش(لیکویڈٹی) کے خطرات میں کمی آئی ہے۔ یہ وہ اسباب ہیں جن کی بناء پر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کا خدشہ حقیقت نہیں بنا اور موڈیز نے اسے بی تھری پر مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ وزارت خزانہ کے حکام نے اس صورت حال کو غیرمعمولی مشکلات اورغیریقینی حالات میں حکومت کی مضبوط اور جامع مالی واقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے اور بلاشبہ ان کا یہ موقف اِن معروضی حقائق سے پوری طرح ہم آہنگ نظر آتا ہے کہ مشکل ترین اندرونی اور بین الاقوامی حالات کے باوجود مالی سال 2019-20میں بیرونی ادائیگیوں کے شعبے میں استحکام آیا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں حسابات جاریہ کے خسارے میں کمی کاسلسلہ جاری رہا۔ اس مالی سال کے دوران حسابات جاریہ کے خسارے میں مجموعی طور پر 77.9فیصد کمی ریکارڈکی گئی، سال کے اختتام پرحسابات جاریہ کاخسارہ 2.9ارب ڈالر رہا جو مجموعی ملکی پیداوار کا 1.1فیصد بنتا ہے۔ مجموعی تجارتی خسارے میں گزشتہ مالی سال کے دوران 27.9فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ اسی طرح ترسیلات زرمیں بتدریج اضافے کاسلسلہ بھی جاری ہے۔ موڈیز نے تیسری پاکستان انٹرنیشنل سکوک کمپنی کیلئے بھی بی تھری ریٹنگ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ موڈیز کی رائے میں منسلکہ ادائیگی کی ذمہ داریاں حکومت پاکستان کی براہِ راست ذمہ داریاں ہیں۔ بیان کے مطابق تنزلی کے جائزے سے موڈیز کے اس احساس کی عکاسی ہورہی ہے کہ پاکستان کے گروپ 20کے قرضوں کی ادائیگی کی معطلی کے اقدام یا (ڈی ایس ایس آئی) میں شمولیت سے نجی شعبے کے قرضہ فراہم کرنے والے اداروں کیلئے نقصان کے خطرات بڑھ گئے ہیں جبکہ متعدد عوامل کی رو سے وسیع پیمانے پر نجی شعبے کی شمولیت کا امکانات کم ہوگئے ہیں۔ موڈیز کا یہ انتباہ متعلقہ حکومتی ذمہ داروں کی فوری توجہ کا طالب ہے کیونکہ یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ معاشی ترقی میں موجودہ دور میں نجی شعبہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا معاشی عمل میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ بھرپور شرکت کایقینی بنایا جانا قومی مفاد کا ناگزیر تقاضا ہے۔ تاہم اسکے ساتھ ساتھ اس امر کا اہتمام بھی لازم ہے کہ معاشی بہتری کے اثرات کاروباری، مراعات یافتہ اور مقتدر طبقوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کا معتد بہ حصہ کم سے کم وقت میں عوام تک منتقل کرنے کیلئے تمام ممکنہ ذرائع مؤثر طور پر استعمال کیے جائیں کیونکہ اس کے بغیر حقیقی قومی ترقی ممکن نہیں۔