آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مجھے نقصان پہنچانے کیلئے نیب آفس بلایا گیا: مریم نواز

مجھے نقصان پہنچانے کیلئے نیب آفس بلایا گیا: مریم نواز


سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور نون لیگی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے گھر سے نیب آفس بلایا گیا۔

مریم نواز نے نیب دفتر کے باہر اپنی گاڑی کے قریب کھڑے ہو کر نون لیگی کارکنوں اور میڈیا سےخطاب کیا۔

مریم نواز نے الزام عائد کیا کہ پولیس کے پتھراؤ سے میری بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔

نیب آفس کے باہر کھڑی ہوں واپس نہیں جاؤں گی، بلایا ہے تو جواب بھی سنیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جھوٹےالزامات کا جواب دینے آئی ہوں، مجھے سنا جائے، حوصلہ نہیں تو سوچ سمجھ کر بلانا چاہیے تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ مجھے پیغامات مل رہے ہیں کہ میں چلی جاؤں، مگر میں یہاں موجود ہوں، یہاں سے نہیں جاؤں گی۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر آپ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم سے اتنا ڈرتے ہو تو انہیں بلاتے کیوں ہو؟

اس موقع پر مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ پیشی کی ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیئے:۔

مریم نواز آج نیب میں پیش ہوں گی، وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کل طلب

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نیب کے دفتر کے پاس موجود ہیں، آج قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہم پر پتھر مارے ہیں۔

وفاقی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے دفتر کے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد نون لیگی رہنما رانا ثناء اللّٰہ، طلال چوہدری اور جاوید لطیف کے نیب حکام سے مذاکرات ہوئے۔

ذرائع کے مطابق تینوں نون لیگی رہنماؤں نے نیب آفس میں نیب حکام سے ملاقات کی، اس موقع پر مسلم لیگ نون کے وفد سے نیب کے ڈائریکٹر آپریشن نے ملاقات کی۔

ڈائریکٹر آپریشن نیب سے مذاکرات کے دوران رانا ثناء اللّٰہ اور جاوید لطیف تفصیلات سے مریم نواز کو آگاہ کرتے رہے۔

مذاکرات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ اب دوبارہ مزاحمت ہو گی تو ذمے دار نیب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو یہاں آنے میں مشکلات ہوئیں، کارکنوں پر کیمیکل اسپرے کیا گیا، آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے۔

رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ مریم نواز گاڑی میں موجود ہیں، نیب کہتا ہے کہ پیشی منسوخ کردی ہے، ترجمان نیب باضابطہ منسوخی کا پریس ریلیز جاری کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ باضابطہ طوپر آگاہ کیا جائے کہ پیشی منسوخ کر دی ہے، پیشی کی منسوخی کے لیے ہم نے درخواست نہیں دی تھی، ہم لوگ یہاں موجود ہیں ہم سے جواب لیا جائے۔



نون لیگی رہنماؤں کے نیب حکام سے مذاکرات ہونے کے بعد مریم نواز نیب آفس کے باہر سے واپس روانہ ہوگئیں، وہ کچھ دیر بعد ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کریں گی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ مزید ہنگامہ آرائی سے بچنے کے لیے نیب آفس کے باہر واٹر کینن بھی طلب کی گئی تھی۔

اس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے دفتر کے باہر نون لیگی کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والے پتھراؤ میں مریم نواز کی گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔

مریم نواز کا قافلہ لاہور میں نیب کے آفس کے باہر پہنچا تو اس موقع پر نون لیگی کارکنوں نے بیریئرز کو ہٹانے کی کوشش کی، پولیس کی جانب سے روکنے کی کوشش پر لیگی کارکن مشتعل ہوگئے۔

مسلم لیگ نون کے مشتعل کارکنوں نے نیب آفس کے باہر پولیس پر پتھراؤ کر دیا، پولیس اور مظاہرین میں دھکم پیل بھی ہوئی۔

پولیس کی جانب سے بھی جوابی پتھراؤ کر کے مسلم لیگ نون کے کارکنان کو منتشر کیا گیا۔

آج صبح مریم نواز جب قومی احتساب بیورو (نیب) کے آفس کے لیے جاتی امراء سے روانہ ہوئیں تو سب سے پہلے اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے گئیں۔

مریم نواز جلوس کی شکل میں نیب آفس ٹھوکر نیاز بیگ کے لیے روانہ ہوئیں، اس موقع پر مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے ان کی گاڑی پر گل پاشی کی اور ان کے حق میں نعرے لگائے۔

یہ بھی پڑھیئے: مریم نواز 11 اگست کو نیب میں طلب

مسلم لیگ نون پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کے علاوہ بڑی تعداد میں نون لیگی کارکن پہلے جاتی امراء اور پھر نیب آفس لاہور پہنچے۔

دوسری جانب گوجرانوالہ سے مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور رہنماؤں کے قافلے لاہور پہنچے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما خرم دستگیر کی زیرِ قیادت قافلہ سیٹلائٹ ٹاؤن سے جبکہ ایم پی اے توفیق بٹ کی قیادت میں قافلہ کنگنی والا سے لاہور پہنچا۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے مریم نواز کو رائے ونڈ میں خلافِ قانون اور خلافِ ضابطہ اراضی انتہائی سستے داموں خریدنے کے الزام میں انکوائری کے لیے آج صبح 11 بجے طلب کر رکھا تھا۔

نیب ذرائع کے مطابق مریم نواز کے نام 1 ہزار 440 کنال زمین 2013ء میں منتقل ہوئی تھی۔

ذرائع کے مطابق نیب کا کہنا ہے کہ زمین کی منتقلی میں ایل ڈی اے کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا، شریف فیملی کی اراضی کے ارد گرد تعمیرات کو روکنے کے لیے اراضی کو گرین لینڈ قرار دیا گیا تھا۔

انکوائری میں سابق ڈی سی لاہور نور الامین مینگل اور سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔

قومی خبریں سے مزید