آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عرب نیوز ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے بعد بعض حلقے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کے بارے میں تاثر پھیلا رہے ہیں کہ سعودی عرب نے او آئی سی پر تنقید کے بعد پاکستان کو قرض اور تیل کی سپلائی ختم کردی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد منگل کو وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پریس بریفنگ میں اس منفی تاثر کو ردکردیا اور کہا کہ سعودی عرب ہمارا قریبی برادر ملک ہے ہمیشہ مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑا ہوا ہے، ہمارے لوگ وہاں کام کرتے ہیں اور دونوں ملکوں میں پیسوں کا لین دین لگا رہتا ہے۔ وزیر اطلاعات کی وضاحت کے بعد اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں رہنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب اور او آئی سی نے ہمیشہ کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت کی ہے۔ بھارت نے بین الاقوامی ضابطوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے 5اگست 2019کو مقبوضہ کشمیر کے غیرقانونی ادغام کے حوالے سے جو اقدامات کئے او آئی سی اپنی قراردادوں میں ان کی واشگاف الفاظ میں مذمت اور انہیں واپس لینے کا مطالبہ کرچکا ہے یہ قرارداد اگر پاکستانی توقعات سے کم تھی تو اسے قومی مفاد میں سفارتی اور سیاسی تقاضوں کے تحت یہ کہنے کا حق ہے کہ پاکستان کو کشمیر یوں کی حمایت کے لئے او آئی کی قیادت کی اجازت دی جائے اس سے او آئی سی کے کردار یا سعودی عرب کی نیک

نیتی پر حرف زنی کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جہاں اقوام متحدہ کی بے عملی کو نشانہ بنایا جاتا ہے وہاں او آئی سی پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔ او آئی سی کے 57ارکان ہیں جبکہ عرب نیوز نے ان میں سے صرف سعودی عرب کا ذکر کرکے پاک سعودی تعلقات پر سوال اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اطلاعات کی وضاحت کے بعد اس حوالے سے شکوک و شبہات ختم ہوجانے چاہئیں۔ مسئلہ کشمیر، فلسطین کی طرح عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اس مسئلہ پر ایک ہیں۔