آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطانوی یونیورسٹیاں داخلہ کیلئے پسماندہ طلبہ کو ترجیح دیں، ریحانہ فیصل

لوٹن (نمائندہ جنگ) لوٹن کی سیاسی، سماجی اور اکیڈمک شخصیت ریحانہ فیصل ، چیئر رائز اپ فاؤنڈیشن نے برطانیہ کی یونیورسٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پسماندہ طبقوں کے طلبہ کو داخلہ کے لیے خصوصی طور پر غور کریں اور ان کے مخصوص پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ترجیح دی جائے، انہوں نے ایک مہم چلائی ہے اور ایک خط لکھا ہے اور اس پر مختلف شخصیات دستخط کر رہے ہیں۔ اس مہم میں برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ نتائج آنے کے ساتھ ہی ہم آپ کو خط لکھنا چاہتے ہیں تاکہ اس کیس کو خصوصی بنائیں۔ موجودہ دور میں اپنے اداروں میں پسماندہ طلبہ کی درخواستوں کو ترجیح دیں، خاص طور پرلوٹن کے طلبہ کو، جب کوویڈ 19 وبائی مرض نے مشکل پیدا کردی ہے اور تمام نوجوانوں کے لئے غیر یقینی صورتحال درپیش ہے ،اس کا اثر لوٹن میں زیادہ محسوس کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ لوٹن انتہائی متنوع اوربرطانیہ کا تیسرا سب سے کم عمر آبادی والا شہر ہے اور اس وقت انگلینڈ کے 317 مقامی حکام میں سے 70 واں سب سے زیادہ

محروم علاقہ ہے ،لوٹن کےکچھ حصے جو ملک کے سب سے زیادہ10 پسماندہ علاقوں میں ہیں،46فیصد بچوں کی غربت میں زندگی بسر ہوتی ہے جس کا اثر سخت ہوتا ہے، ان کی صحت متاثر ہوتی ہے ، نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور تعلیمی نتائج متاثر ہوتے ہیں، یہ نقصان اقلیتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر زیادہ اثرات مرتب کرتا ہے جنہیں اضافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ جو رکاوٹیں کھڑی ہیں اس لیے امکان ہے کہ اس کے نتیجے میں ہم عدم مساوات میں ایک اہم وسعت دیکھیں گے ۔ ریحانہ فیصل نے نشاندہی کی کہ یو سی ایل کے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے ذریعہ 2016 میں کی گئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ اعلی تعلیم کے حصول کے لیے پسماندہ ، سیاہ ، ایشیائی اور اقلیتی نسلی طلبہ کا امکان ہے کہ ان کے درجات میں کمی کی پیش گوئی کی جائے۔ ایوریٹ اور پاپیجورجی (2011) سے پتہ چلا کہ سیاہ برطانوی (کیریبین ، افریقی یا دیگر) بنگلہ دیشی اور پاکستانی طلبہ کی پیش گوئی کی گئی ہے، ان کے گریڈ امکانی طور پر 10فیصد سفید فام طلبہ سے کم آئیں گے ، خیال رہے کہ نسلی اقلیتوں کے طلبہ غریب پس منظر سے آتے ہیں ،اس سے نقصانات کی ایک سے زیادہ تہیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں ہم ایک اہم امکان پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں کہ لوٹن کے نوجوان یونیورسٹی تعلیم تک رسائی میں مشکل محسوس کریں گے ۔ان نقصانات کے باوجود لوٹن میں نوجوان حیرت انگیز طور پر پرجوش ہیں اور ہر سال یونیورسٹی میں داخلے کے لئے درخواست دینے والی قابل ذکر تعداد ان کی ہوتی ہے، وہ باصلاحیت ہیں اور بلا شبہ آپ کے ادارے کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہم گزارش کرتے ہیں آپ نتائج کے دن ان کے منفرد پس منظر پر غور کریں۔

یورپ سے سے مزید