• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دور حاضر کے خضر راہ...تحریر: عارف کسانہ…سویڈن

ایران کے ممتاز شاعر ملک الشعراء بہار نے علامہ اقبال کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے ” قرن حاضر خاصہ اقبال گشت“ یعنی موجودہ دور اقبال کا دور ہے لیکن عظیم شاعر ہر دور میں اپنی شہرت وعظمت کی بلندی پر فائز رہتا ہے جب تک اردو زبان زندہ ہے اقبال کا نام ہمیشہ روشن رہے گا مگر علامہ اقبال کو صرف شاعر کہنا ان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ اردو اور فارسی کے بہت بڑے شاعر تھے مگر انہوں نے دراصل شاعروں کو اپنے پیغام کا ذریعہ بنایا تھا اور خود ہی یہ بھی کہا کہ
میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھو
بلکہ انہوں نے اس ساز سخن کو اپنے پیام حریت کا ذریعہ قرار دیا اور حضور کی بارگاہ میں بھی فریاد کی کہ لوگ مجھے شاعر کہہ رہے ہیں لیکن میں شاعر نہیں ہوں۔ ان کی شہرت اگرچہ ایک شاعر فلسفی، مفکر اور سیاستدان کی حیثیت سے ہے مگر دراصل وہ عاشق رسول اور پیامبر قرآن تھے ۔ ان کی سوچ کا منبع قرآن تھا۔ انہوں نے جو سمجھا قرآن سے سمجھا اور جو سمجھایا قرآن ہی سے سمجھایا اور یہی پیغام دیا کہ
گر تومی خواہی مسلمان زیستن
نیست ممکن جزبقرآن زیستن
کہ اے مرد مسلمان اگر تو عزت وکامیابی کی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو وہ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرکے ہی ممکن ہے۔ علامہ اقبال کی زندگی، ان کی جدوجہد اور ان کے پیغام کا جائزہ لینے کے بعد قاری پر یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے انہوں نے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑائی لڑی۔ اس وقت مسلمان ممالک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اورخود مسلمانوں میں نہ صرف قیادت کا فقدان تھا بلکہ مذہبی قیادت انہیں دین کے اصل پیغام سے دور صرف مذہبی رسوم کا پابند بنارہی تھی۔ نسل اور وطن پرست نظریہ نے انسانوں کو تقسیم کررکھاتھا۔ ان حالات میں علامہ نے صدائے حریت بلند کی اور قوم پرستوں ، تنگ نظر مذہبی سوچ ، بے عمل تصوف، لادین عناصر، غلامانہ ذہنیت اور بے عملی کے خلاف جدوجہد کی اور کسی قسم کی مخالفت اور تنقید کی پروانہ کی۔ دور حاضر کے مفطوب اور تلاش حقیقت کے متلاشی نوجوانوں کے لئے فکر اقبال خضرراہ کا کام دے سکتی ہے۔ علامہ نے نوجوانان ملت کو اپنا پیغام خودی، فقر، عشق قرآن، عشق رسول، علم وعقل، اجتہاد، مسلم قومیت، مرد مومن اور وحدت انسانی کی صورت میں دیا ہے وہ پیام انقلاب ہے۔ انہوں نے مغربی تہذیب کی جس خامیوں اور خرابیوں کی نشاندہی کی ہے اس سے صرف نظر ممکن نہیں۔ اسلام کی نشات ثانیہ کے حوالے سے نوجوانوں کو جوانہوں نے پیغام بذریعہ جاوید دیا ہے وہ آج بھی مشعل راہ ہے۔ جاوید نامہ، خضرراہ، طلوع اسلام ، مساقی نامہ، مومن مرد مسلماں غرض ان کی شاعری کا مجموعی کلام ایک اعلیٰ کردار کی تعمیر کرتا ہے۔ علامہ نے تقدیر کے بجائے عمل، جامہ تقلید کے بجائے اجتہاد، محض رسمی عبادات کے بجائے دین کے اصل مقصد کو اجاگر کیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے، اہل مغرب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کو اسلام کی اصل روح سے آگاہ کرنے کے لئے ان کے خطبات (The Reconstruction of Religions thoughts in islam)ذہن کی گتھیوں کو آج بھی سلجھاسکتے ہیں۔
علامہ اقبال شخصیت ایک متوازن اور دانائے راز کی شخصیت ہے۔ یہ علامہ اقبال کی ہی شخصیت ہے جنہوں نے پیغام مشرق میں صحبت رفتگاں میں ٹالسٹائی، کارل مارکس ہیگل ، کومٹ اور کوہکن کو جمع کیا۔ یہ اقبال ہی ہیں جو گوئٹے، گرونانک، سرآرنلڈ ، شیکسپیئر، نپولین اور دوسرے کئی غیر مسلم تاریخ سازشخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنے میں بغل سے کام نہیں لیتے تو پھرفکر اقبال سے رہنمائی لینے والا کیوں اعتدال اور مذہبی رواداری کا کامل نہ ہوگا۔ وہ نطشے کو خراج عقیدت بھی پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں۔
اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے
وہ گوئٹے کی عظمت کو سلام کرتے ہوئے کہتے ہیں”نیست پیغمبر ولی داردکتاب، کہ وہ پیغمبر نہیں ہے لیکن
اسے کتاب ملی ہے۔ علامہ اقبال کارل مارکس کو ایسا عظیم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جو آج تک شاید کسی نے پیش نہ کیا ہو۔ وہ کارل مارکس کو ”کلیم“ تو کہتے ہیں لیکن بے تجلی، اسے ”مسیح“ تو قرار دیتے ہیں لیکن بے صلیب، یہاں تک کہ جاوید نامہ میں افغانی کی زبان سے یہ تک کہہ جاتے ہیں۔
صاحب سرمایہ ازنسل خلیل
یعنی آں پیغمبر بے جبرئیل
زانکہ حق درباطل اور مضمراست قلب اومن دماغش کا فراست
علامہ کا رل مارکس کو جبرئیل کے بغیر پیغمبر قراردیتے ہوئے اس کا دل مومن کا کہتے ہیں اور دماغ کافر قراردے کر اسے امام الکتاب کی طرف رجوع کا مشورہ دیتے ہیں۔ روس میں اشترا کی انقلاب کا ضرب کلیم میں ”اشتراکیت“ کے عنوان سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہتے ہیں
جو حرف قل العفو میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار
لیکن ساتھ ہی وہ یہ درس بھی دیتے ہیں کہ
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
یہ علامہ اقبال ہی ہیں جو لینن کو خدا کے حضور پیش کردیتے ہیں اور اسے یہ بے باکی بھی دیتے ہیں کہ وہ خدا سے مخاطب ہوکر پوچھتا ہے کہ
وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود؟
وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماوات؟
یہ علم ، یہ حکمت ،یہی تدبر، یہ حکومت!
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات!
تو قادر وعادل ہے ، مگر تیسرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
لینن کی اسی آواز کے جواب میں فرمان خدا، فرشتوں سے ہوتا ہے کہ
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو!
کاخ امراء کے درودیوار ہلادو!
کیوں خالق ومخلوق میں حائل رہیں پردے
پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھادو
علامہ اقبال جہاں ایک طرف رومی” جامی“ نظام الدین اولیا سید علی ہجویری ، خواجہ معین الدین چشتی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں وہاں مذہبی پیشوائیت اور ملائیت پر کڑی چوٹ بھی کرتے ہیں اور یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ صوفی اور ملا کی قرآن کی تشریح نے خدا ، رسول پاک اور جبرئیل کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ جو یہ کہہ رہے ہیں وہ حقیقت کے برعکس ہے۔ دین کی غلط تشریح پر وہ اس طبقہ پر جابجا کھلے الفاظ میں تنقید کرتے ہیں اور اپنی نظموں پیرومرید، زہد اور رندی، ملا اور بہشت، پنجاب کے پیرزادوں سے ، خانقاہ، شیخ مکتب سے باغی مرید، ملائے حرم ، پنجابی مسلمان، صوفی سے تصوف اور اے پیرم حرم میں کھل کر اظہار خیالات کرتے ہیں، وہ مذہب کو رسمی عبادات کے بجائے ایک نظام زندگی کی صورت میں دیکھنا چاہتے تھے اور برملا کہتے ہیں ۔
گر صاحب ہنگامہ نہ ہو منبرومحراب
دیں بندہ مومن کے لئے موت ہے یا خواب
اقبال کی شاعری اور نثر ،قاری کے دل میں اتر جاتی ہے اور اس میں ایک فکری انقلاب پیدا کردیتی ہے ، وہ امید اور کامیابی کا پیغام دیتی ہے۔ مادہ پرستی اور استحصال کی سیاست کے خلاف ایک آواز ہے جو وحدت انسانی اور محبت کا پیغام ہے۔ آج کے دور میں مسلمان جس طرح عالمی سطح پر پستی کا شکار ہیں اس میں فکر اقبال ایک نوید مسیحا بن کر سامنے آتی ہے جو یہ پیغام دیتی ہے کہ قربانیاں دے کر ہی کوئی قوم عروج حاصل کرتی ہے جس طرح کہ
خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
وہ طوفان مغرب سے پریشان ہونے کے بجائے اسے مسلمان کو بیدار ہونے کا منظر دیکھتے ہیں۔ آج کے دور میں ان کی شاعری خصوصاً نمود صبح، ترانہ ملی، خطاب بہ جوانان اسلام، شکوہ اور ابلیس کی مجلس شوریٰ مشعل راہ ہوسکتی ہے ، وہ امید کا پیغام دیتے ہیں
نہ ہونومید، نومیدی زوال علم وعرفاں ہے
امید مرد مومن ہے، خدا کے راز دانوں میں
تقدیر امم کیا ہے؟ کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ
آج کی نوجوان نسل کو ان کے اس پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اپنا مقام پہچاننے کی ضرورت ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ خدائے لم یزل کا دست قدرت تو، زباں تو ہے
یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
مکاں فانی، مکیں آنی، ازل تیرا ، ابدتیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو، جاوداں تو ہے
وہ کامیابی اور امید کا درس دیتے ہوئے خضرراہ کے آخر میں فرماتے ہیں۔
آزمودہ فتنہ ہے اک اوربھی گردوں کے پاس
مسلم استی سینہ رااز آرزو آباد دار
سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھ
ہر زماں پیش نظرہ یغلف المیعاد دار
تازہ ترین