آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مبشرہ خالد

پیارے بچو! ہمارا ملک پاکستان قدرت کے شاہکاروں سے مالا مال ہے۔ یہاں کی سرزمین کوہ پیمائوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے ۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کوہ پیماؤں کے لیے جنت سے کم نہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں 8 ہزار میٹر سے بلند صرف چودہ چوٹیاں ہیں، جن میں سے پانچ ہمارے ملک میں ہیں،جن میں کے ٹو، نانگا پربت، گاشر برم ون، بروڈ پیک اور گاشر برم ٹو شامل ہیں، جبکہ سات ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی تعداد 108 ہے۔

(1کے ٹو، جس کی بلندی 8611میٹر ہے کوہ قراقرام میں واقع ہے۔

(2نانگا پرت دنیا کی نویں اور پاکستان کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے، جس کی بلندی8126 میٹر ہے کوہ ہمالیہ میںواقع ہے۔اس پر چڑھنے میں اب تک سب سے زیادہ کوہ پیما مارے گئے ہیں۔

(3گاشر برم ٹو، اس کی بلندی 8035میٹر ہے اور یہ بھی سلسلہ کوہ قراقرام میں واقع ہے۔

(4بروڈ پیک جس کی بلندی 8051میٹر ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔یہ کے ٹو سے 8 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، اس کی چوٹی تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر لمبی ہے۔ اس لیے اس کا نام '’بروڈ پیک‘ ہے۔ مقامی نام فائے چان کنگری یا پھلچن کنگری ہے۔

(5گاشر برم فور دنیا کا 17 واں، جبکہ پاکستان کا چھٹا بلند ترین پہاڑ ہے، جس کی بلندی 7925 میٹر ہے اور یہ پاکستان اور چین کے درمیان گاشر برم کی چوٹیوں میں سے ایک ہے۔

6)گاشر برم ،جسے عمومی طور پر کے فائیو بھی کہا جاتا ہے، اس کی بلندی 8080میٹر ہے اور یہ بلتورو،سلسلہ کوہ قراقرام میں واقع ہے، اس کی بلندی 8035میٹر ہے اور یہ بھی سلسلہ کوہ قراقرام میں واقع ہے۔

پاکستان وہ ملک ہے ،جہاں عالمی ریکنگ کے مطابق کے ٹودوسرے،نانگا پربت نویں،کے فائیوگیارہویں،بروڈ پیک بارہویں اور کے فورتیرہویں نمبر پر آتا ہے۔