آپ آف لائن ہیں
منگل9؍ربیع الاوّل 1442ھ 27؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کفرٹوٹا خدا خدا کرکے کہ مصداق کراچی پر لکشمی دیوی مہربان ہوئی۔ حالیہ مون سون نے کراچی کو جنگ زدہ علاقے میں تبدیل کردیا تھا کراچی کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے ان حالات میں کراچی کے شہریوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور انہوں نے وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومت اور ڈی ایچ اے کنٹونمنٹ بورڈ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا، کراچی سمیت سندھ کے شہریوں کی آہ وبکاکے بعد وفاقی حکومت اور دیگر ادارے حرکت میں آئے اور انہوں نے کراچی میں ریسکیو کے کاموں کے علاوہ نالوں کی صفائی ، بارش کے پانی کی نکاسی سمیت دیگر امور پر توجہ دینا شروع کردی اس دوران مقتدرہ حلقوں نے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو ایک گھاٹ میں پانی پینے پر مجبور کردیا جس کے نتیجہ میں کراچی کے لیے ایک ہزار ایک سو تیرہ ارب روپے کا پیکیج کا اعلان کیا گیا اس پیکیج کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نے پیکیج میں بڑےحصہ کا دعویٰ کردیا۔ 

پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 300 ارب روپے اور حکومت سندھ کی جانب سے 800 ارب روپے سے زائد رقم مختص کئے جانے کو شہر قائد کی ڈیولپمنٹ کے لیے ایک اچھا آغاز قرار دیااورکہاکہ کراچی سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں ریلیف اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کے لیے ضروریات بہت زیادہ ہیں، سندھ وفاق کی جانب دیکھ رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں سیلاب سے متاثرہ ضلع غربی کے علاقوں ماڑی پور اور ہاکس بے کے دورے کے دوران کیا ۔ جس کے جواب میں وفاقی وزیر اسدعمر ، علی زیدی اور امین الحق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بلاول بھٹو کے بیان کوکہ100 ارب روپے میں سے 800 ارب روپے سندھ اور 300 ارب روپے وفاق لگائے گا کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وزیراعظم کے پیکیج میں 62 فیصدفنڈنگ وفاق جبکہ حکومت سندھ کی 38 فیصد رقم خرچ ہوگی۔

پیکیج میں 800 ارب روپے سندھ حکومت کی جانب سے دیئے جانے کا دعویٰ درست نہیں ہے کراچی پیکیج کراچی کے عوام کا حق ہے اس پر کوئی سیاست نہیں ہوگی، ابھی پیکیج پر عملدرآمد شروع بھی نہیں ہوا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان رسہ کشی شروع ہوچکی ہے ۔عوام کو اس پیکیج سے بہت امیدیں ہیںساجھے کی ہنڈیاں کو پیج چوراہے پر نہیں پھوٹنا چاہیئے دونوں ساجھے داروںکو مل کر کراچی کے عوام کے لیے کام کرنا ہوگا اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے لیے ایک ہزار ایک سوتیرہ ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے بتایاکہ اس پیکیج سے پانی کا مسئلہ حل کریں گے، سیوریج سسٹم مکمل طور پر ٹھیک کیا جائے گا، سرکلر ریلوے کی بحالی، سڑکوں کے مسائل، سالڈویسٹ مینجمنٹ کا مسئلہ بھی حل کریں گے جبکہ کراچی میں گرین لائن منصوبہ مکمل کیا جائے گا نالوں کی صفائی کا کام این ڈی ایم اے کے سپرد کیا گیا ہے جس نے اس پر کام بھی شروع کردیا ہے۔ 

یہاں پر آباد غریب لوگ بے گھر ہوں گے جنہیں دوبارہ بسانے کی ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے، کراچی میں ایک مسئلہ یہ بھی درپیش تھا کہ مختلف علاقوں میں مختلف اداروں یا محکموں کی حدود تھیں، کہیں کنٹونمنٹس ہیں، کہیں وفاقی حکومت، ریلوے اور کہیں صوبائی حکومت ہے، جس کی وجہ سے اس پر عملدرآمد مشکل تھا، لیکن اب صوبائی رابطہ وعملدرآمد کمیٹی (پی سی آئی سی)قائم کردی گئی ہے جس میں وفاقی حکومتیں، فوج شامل ہیں، اب سارے اسٹیک ہولڈرز ایک جگہ پر ہوں گے، تمام فیصلے اسی فورم پر ہوں گے جس سے آسانی پیدا ہوگی، سب مل کر کام کریں گے اور رکاوٹیں دور ہوں گی جبکہ پاک فوج کااس میں بہت بڑا کردار ہے کیونکہ سیلاب اور صفائی کے معاملات پر ہمیں فوج کی ضرورت ہوگی، دنیا میں جب بھی اس طرح کی قدرتی آفت سامنے آتی ہے تو اس میں فوج سب سے آگے ہوتی ہے کیونکہ وہ سب سےمنظم ادارہ ہے اور اس کے پاس سب سے زیادہ صلاحیت ہوتی ہے ، امید ہے کہ کراچی کے لوگوں نے جو مشکل وقت گزارا ہے اب انہیں اس سے نجات ملے گی، جتنے منصوبوں کا اعلان کیا ہے اس میں ہماری کوشش ہے کہ ایک سال کے عرصے میں پہلا مرحلہ جبکہ 3 سال میں دیگر تمام مراحل مکمل کرلیے جائیں۔ ادھرمسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر شہبازشریف نے بھی گزشتہ ہفتے کراچی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مصروف دن گزارہ انہوں نے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات بھی کی جہاں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نیب کی جانب سے سیاسی انتقامی کارروائیوں کے خلاف مشترکہ مزاحمت کی جائے گی جبکہ دونوں جماعتوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت کوجمہوری وآئینی طریقے سے ہٹایا جائے گا۔ 

تفصیلات کے مطابق ماضی کے سیاسی حریفوں اور ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزامات لگانے والے آصف زرداری اور شہباز شریف کی شہرقائد میں اہم ملاقات ہوئی۔جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق نے بھی گزشتہ ہفتہ کراچی اور حیدرآباد کا دورہ کیا جہاں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں بااختیار صوبائی حکومت قائم کی جائے، شفاف مردم شماری اور تین ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے، کے الیکٹرک کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، اسے قومی تحویل میں لے کر کراچی کے شہریوں سے لوٹی گئی رقم واپس دلوائی جائےاور کے الیکٹرک کے ٹیرف میں حالیہ ظالمانہ اضافہ واپس لیا جائے۔ دوسری جانب حکومت سندھ نے کراچی سمیت سندھ بھر کے بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹر ز کی تعیناتیوں کے حوالے سے حتمی فہرست تیارکرلی ہے، وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کی منظوری سے فہرست چیف سیکریٹری آفس ارسال کردی گئی ہے حتمی نوٹیفکیشن چیف سیکریٹری کے دستخط کے بعد جاری کئے جائیں گے۔ 

صوبائی محکمہ بلدیات کی ارسال کردہ فہرست کے مطابق سندھ حکومت نے گریڈ21 کے افسر افتخار شالوانی کو ایڈمنسٹریٹر کراچی تعینات کردیا ہے جبکہ کراچی کے6ڈی ایم سیز میں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کوایڈمنسٹریٹرتعینات کیا گیا ہے، ضلع کونسل کراچی کے لیے ڈپٹی کمشنرضلع ملیرگہنور خان لغاری کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا ہے۔ سندھ بھر میں اسسٹنٹ کمشنرز کو ٹاؤن کمیٹیز جبکہ یونین کونسلز میں متعلقہ مختارکاروں کوایڈمنسٹریٹر زتعینات کیا گیا ہے۔تاہم ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے سے قبل ان کی پارٹی سے مشاورت نہیں کی گئی۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید