آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’السلام علیکم بھائی جان! میں لاہور سے انور بول رہا ہوں‘‘

’’شکر ہے یار تمہاری آواز سنائی دی مگر آواز بہت کم آ رہی ہے، ذرا اونچا بولو‘‘

’’بھائی جان! شکر کریں فون مل گیا ہے۔ میںتو دوگھنٹے سے ٹرائی کر رہا تھا۔ بچوں کا کیا حال ہے؟‘‘

’’سب ٹھیک ہے۔ تم سنائو۔گھر میں سب خیریت سے ہیں؟‘‘

’’جی اللہ کا شکر ہے۔ پشاور کاموسم کیسا ہے؟‘‘

’’اچھا ہے۔ لاہور کا موسم کیسا جارہا ہے؟‘‘

’’لاہور میں بھی یہی حال ہے ،سنا ہے عذرا باجی سخت بیمار ہیں۔ایک تو ان کے پاس موبائل فون نہیں ہےدوسرے مجھے خط لکھنے کا وقت نہیں ملتا۔ آپ ان کی طرف جائیں تو میری طرف سے بھی پوچھ لیں۔‘‘

’’میں تو خود ایک مہینے سے ان کی طرف نہیں جاسکا۔ ویسے شہباز آیا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ پہلے سے بہتر ہیں۔بڑا ترس آتا ہےان پر۔ میری اس بہن نےساری عمر دکھ اورپریشانی ہی میں گزاردی۔‘‘

’’سنا ہے وہ مالی طور پر بھی پریشان ہیں؟‘‘

’’ہاں میں نے بھی سنا ہے،جی چاہتا ہے ان کی مدد کرنے کو، لیکن میں ان دنوں مکان بنارہا ہوں ابھی تک 2کروڑ لگ گئے ہیں۔ ویسے میں نےشہبازکو لکھا تھا کہ دوائیوں وغیرہ کی ضرورت ہو تو وہ سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر راناسے مل لے، وہ میرا بچپن کا دوست ہے۔‘‘

’’چلیں یہ تو آپ نے ا چھا کیا۔ وہ اپنا کٹو ہے نا؟‘‘

’’کون کٹو؟‘‘

’’تایا جی اعجاز کا نواسہ۔‘‘

’’ہاں ہاں کیا ہوا اسے؟‘‘

’’پولیس نے اسےجوئے کے الزام میںپکڑ کرلیا!‘‘

’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ وہ تو بہت اچھا بچہ ہے۔‘‘

’’ہاںمیں جانتا ہوں۔ رضیہ آپی روتی ہوئی آئی تھیں۔ تایا ابو بھی آئےتھے کہ اس کیلئے کچھ کرو۔‘‘

’’پھرتم نےکیا کیا؟‘‘

’’میں کیا کرسکتا ہوں۔ اس پر الزام ہی ایسا ہے کہ کسی کو کچھ کہتے ہوئے شرم آتی ہے اور پھرویسے بھی آج کے زمانے میں کسی کی نیک چلنی کی گواہی کیسے دی جاسکتی ہے کل کو میں جو سب کے سامنے شرمندہ ہوں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ اس معاملے میں آیا ہی نہ جائے چنانچہ میں نے رضیہ آپی اور تایاابو کوٹرخا دیا تھا۔‘‘

’’اچھا کیا! کبھی ارشادسے توملاقات نہیں ہوئی؟‘‘

’’کون ارشاد؟‘‘

’’بھئی! وہ جو میرا بچپن کا دوست ہے۔‘‘

’’اچھا ارشاد، بھائی جان اس بیچارے کوفوت ہوئے تو ایک سال گزر چکا ہے۔‘‘

’’بہت افسوس ہوا۔ تم جنازے میںگئے تھے؟‘‘

’’جانا تھا مگر جب میں گھر سے نکل رہا تھا کچھ کاروباری دوست آگئے۔ بہت اچھا آدمی تھا۔ اللہ اس کی مغفرت کرے۔ آپ سے وہ محبت کرتا تھا۔‘‘

’’مجھے خود اس سے بہت محبت تھی۔ کبھی اس کےگھر جانا ہو تو میری طرف سے بھابی سے افسوس ضرور کرنا اور سیاست کا کیا حال ہے؟‘‘

’’آپ کے سامنے ہی ہے۔ عالمِ اسلام پر بہت برا وقت آیا ہوا ہےبھائی بھائی سے لڑ رہا ہےاور دشمنوں کو چوہدری بننے کا موقع مل رہا ہے۔‘‘

’’بس یار دعا کرو اللہ حالات بہتر کرے، اس سے کاروبار پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔‘‘

’’جی ہاں۔ پہلے سے آدھا رہ گیا ہے یہ۔ آپ کی آواز بہت کم آ رہی ہے۔‘‘

’’میں توخاصا اونچا بول رہا ہوں ویسے آواز تمہاری بھی مدھم ہے۔‘‘

’’ہیلو،اب کچھ بہتر ہے، آپ لاہور آ رہے ہیں؟‘‘

’’میں پچھلے ہفتے چندگھنٹوں کیلئے آیا تھا مگر تم سے ملاقات نہ ہوسکی۔ ایک تو تم نے گھر بہت دور بنایا ہے اوپر سے تم نے تھرڈ کلاس سا فون رکھا ہوا ہے بہت فون کئے مگر تمہارے فون سے ٹوںٹوں کی آواز آتی رہی۔ ہیلو۔یہ پھر گڑبڑ شروع ہوگئی ہے۔‘‘

’’بھائی جان! موبائل کمپنیوں والے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اور اوپر سے سروس بھی اچھی نہیں دیتے۔ مجھے تو ایسے لگ رہا ہے جیسے پرانے زمانے میں گھریلو فون پر لانگ ڈسٹنس کال کر رہا ہوں!‘‘

’’بھائی کو بھائی کو آواز سنائی نہیں دیتی، مگر یہ خرابی صرف فون میں نہیں اس ’’لانگ ڈسٹنس‘‘ میں بھی ہے جو مادہ پرستی نے رشتوں کے درمیان پیدا کردیا ہے۔‘‘

’’یہ کون گدھا درمیان میں آگیا ہے؟‘‘

’’چلو دفع کرو اسے تم اپنے بچوں کی تازہ تصویریں تو مجھے بھیجو، بہت یادآتے ہیں۔‘‘

’’وہ بھی آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔‘‘

’’تم دونوں جھوٹ بولتے ہو، تم لوگوں کو اپنے علاوہ کچھ یاد نہیں۔‘‘

’’یہ کوئی بہت ہی لعنتی شخص ہے۔ اچھا بھائی جان پھر بات ہوگی!‘‘

’’خدا حافظ‘‘

اور اب آخر میں فواد حسن فواد کی ایک غزل۔ ایک بہادر شخص کی غزل؎

یہ معجزہ بھی تو اِک دن خدا دکھائے گا

کھلے گی آنکھ تو پھر سامنے تو آئے گا

اس انتظار میں عمریں گزار دیں ہم نے

وہ چاہتا ہے ہمیں، خود ہمیں بلائے گا

قفس نصیب تھے ہم سو یہاں پہ آ پہنچے

چلے بھی جائیں گے جس دن وہ وقت آئے گا

یہ سرد رات لہو منجمد ہی کر دے گی

غریب شہر سحر دیکھنے نہ پائے گا

میں اُس سے پہلے ہی اقبالِ جرم کر لوں گا

وہ فردِ جرم بھلا کس پہ پھر لگائے گا

وہ جس کو زعم تھا انصاف بانٹنے کا گیا

کبھی تو کوئی اسے آئینہ دکھائے گا

ہر ایک جان چکا ہے جو ہیں اصل کردار

امیر شہر بھلا کیا ہمیں بتائے گا

بس ایک ریت کی دیوار پر کھڑا ہے محل

بچا نہیں کوئی سکتا، یہ گر ہی جائے گا

سجا ہے مسند انصاف پر نیا چہرہ

سوال یہ ہے وہ انصاف کر بھی پائے گا؟

قفس کی تیرہ شبی سے بھی ہو گئے مانوس

عجیب لوگ ہیں، کیسے کوئی ستائے گا

یہ خامشی کسی طوفان کی علامت ہے

جو کوئی بول پڑے گا لہو رلائے گا

حصار میں اسے لے لیں گے لشکری میرے

اِک اور تیر مرا رائیگاں ہی جائے گا

لہو رلائیں گی اُس کو حسن مری آنکھیں

وہ چھین لے بھی تو اِن کو بجھا نہ پائے گا